• Sehar Time Ramazan 1
  • Lahore 05:18 AM
  • Karachi 05:46 AM
  • Islamabad 05:24 AM
  • Peshawer 05:30 AM
  • Quetta 05:47 AM

سورۃ الفاتحہ

یہ سات آیات پر مشتمل ہے اور ایک حدیث قدسی میں اسے ’’صلوٰۃ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، یعنی جب بندہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ پڑھتاہے،تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب بندہ ’’اَلرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھتاہے ‘تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی اور جب بندہ ’’مَالِکِ یَومِ الدِّیْنِ‘‘ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری عظمت وجلالت بیان کی اور جب بندہ ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن‘‘ پڑھتاہے‘ تو ندا آتی ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے، یعنی عبادت صرف میری کی جائے گی اور ہر مشکل میں مدد کے طلبگار بندے کی مدد کی جائے گی اور جب بندہ ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمِ‘‘ سے ’’وَلَا الضَّآلِّیْن‘‘ تک پڑھتا ہے تو چونکہ یہ کلماتِ دعا ہیں اور بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صراطِ مستقیم پر قائم ودائم رہنے کی دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ یہ میرے بندے کیلئے ہے اور میرے بندے نے سوال کیا ہے، وہ اُسے عطا ہو گا‘‘ (صحیح مسلم: 877)۔

سورۃ البقرہ

سورۃ البقرہ کی دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اگر قرآن کی حقانیت کے دلائل پر کوئی ٹھنڈے دل سے غور کرے تو اس پر عیاں ہو گا کہ اس کتاب میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کفار و مشرکین مکہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ نبی کریمﷺ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے۔ آیات 22 اور 23 میں ایسے تمام معاندین اور منکرین کو چیلنج کیا گیا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو تم سب مل کر اس جیسا کلام بنا کر لے آؤ اور تاریخ میں ایسا کوئی حوالہ نہیں ہے کہ قرآن کے اس چیلنج کو قبول کیا گیا ہو۔آیت3 تا 5 میں مومنین کی صفات ایمان بالغیب، اقامتِ صلوٰۃ‘ انفاق فی سبیل اللہ‘ کتبِ الٰہیہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان کا ذکر ہے۔ آیت 5 اور 6 میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کا کفر ظاہر و عیاں ہے اور وہ اپنی سرکشی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ان کا ہدایت پانا عملاً ناممکن ہے اور اُن پر ابدی شقاوت اور بدبختی کی مہر لگ چکی ہے۔

منافقین کا ذکر

آیت 8 تا 20 میں منافقین کا ذکر ہے، یہ انسانیت کا وہ طبقہ ہے جن کے ظاہر وباطن میں تضاد ہے،دنیوی مفاد کیلئے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دل ایمان سے خالی ہیں۔

دعوت توحید

آیت 21 اور 22 میں توحید کی دعوت اور شرک سے باز رہنے کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مختلف نعمتوں کا ذکر کر کے بتایا گیا کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی حیات دینے والا ہے اور وہی موت دینے والا ہے اور آخر کار سب کو اسی کی عدالت میں جانا ہے۔

بنی اسرائیل کا ذکر

اس کے بعد بنی اسرائیل اور اُن کی طرح طرح کی عہد شکنیوں‘ اُن پر مختلف انعامات اور اُن کی سرکشی کے مختلف انداز بیان کیے ہیں۔ پہلے تواللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی گئی اپنی کئی نعمتوں کا ذکر فرمایا جو یہ ہیں: فرعون اور فرعونیوں کے تسلُّط اور نسل کشی سے نجات دلانا‘ ان کیلئے سمندر کو پاٹ کر وادیِٔ سینا میں پہنچانا‘ وادیٔ سینا میں اُن پر طویل عرصے تک بادلوں کا سایہ فِگن ہونا‘ مَنّ وسَلویٰ کی صورت میں تیار خوانِ نعمت کا نازل کرنا‘ چٹان پر عصائے موسیٰ کی ضرب سے بارہ قبیلوں کیلئے بارہ چشموں کا جاری ہونا‘ گائے ذبح کرکے اس کے مقتول پر لَمس سے قاتل کا پتا چلانا‘ ان کو اپنے عہد کے لوگوں پر فضیلت دینا‘ بنی اسرائیل میں بکثرت انبیائے کرام کی بعثت وغیرہ‘ پھراس کے بعد اُن کی سرکشی کا تفصیلی بیان ہوا جس کی تفصیل یہ ہے: اﷲ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑنا‘ ان کے علماء کے قول و فعل کا تضاد‘ دنیاوی مال کی لالچ میں بااثر لوگوں کیلئے اَحکامِ الٰہی میں ردّ وبدل کرنا یا اَحکامِ الٰہی کو جان بوجھ کر چھپانا‘ موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر گئے توان کی عدم موجودگی میں بچھڑے کی پوجا کرنا‘ من وسلویٰ کی گراں قدر اور تیار سَماوی نعمت کو ٹھکرا کر زمینی اجناس طلب کرنا‘ انبیاء کو ناحق قتل کرنا‘ سَبت (ہفتہ) کے دن کی حرمت کو پامال کرنا‘ گائے ذبح کرنے کے سیدھے سادے حکم کو ماننے کے بجائے اس کے بارے میں کئی سوالات اٹھانا‘ تورات وانجیل میں سیدنا محمد رسول کریمﷺ کے بارے میں بیان کی گئی بشارتوں کو چھپانا‘ شوہر اور بیوی میں تفریق کیلئے جادو سیکھنا اور اس کا استعمال‘ اِشارات و کنایا ت اور لفظی رد وبدل کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی شان میں اہانت کرنا وغیرہ۔

رسول کریمؐ کی شان

آیت 104 میں واضح ارشاد ہوا کہ ’’اے اہل ایمان! (جب تمہیں نبی کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ بیان کیلئے) ’’رَاعِنَا‘‘ (یعنی ہماری رعایت کیجئے) نہ کہو (کیونکہ اسے یہود اور منافقین اہانت کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں‘ لہٰذا یوں کہو کہ) یا رسول اللہ! ہم پر توجہ فرمائیے اور ( اس سے بھی زیادہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ہی نبی کی بات کو) خوب توجہ سے سنو‘‘۔ یعنی مومنوں کو رسول کریمﷺ کی شان میں ایسا کلمہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے جس کو کوئی بدفطرت شخص اشارۃًاہانت کے معنی میں استعمال کر سکتا ہو۔

جبرائیل ؑ سے عداوت

بنی اسرائیل جبرائیل ؑ سے اس لئے عداوت رکھتے تھے کہ ان کے ذریعے بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب نازل ہوا‘ تو اللہ نے فرمایا کہ جبرائیل و میکائیل اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کو نازل کرتے ہیں‘ پس جو ان کا دشمن ہے‘ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ بنی اسرائیل کی اس خوش فہمی کو بھی رَد کیا گیا کہ وہ کسی استحقاق کے بغیر اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ اہلِ ایمان کو یہ بتایا گیاکہ جب تک تم یہود ونصاریٰ کی خواہشات کی پیروی نہ کرلو ‘وہ تم سے راضی نہیں ہو سکتے۔

حضرت آدم کا ذکر

آیت 30 تا 39 میں ہے کہ فرشتوں کے سامنے اﷲ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں آدم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں، فرشتوں نے اپنی فہم کے مطابق‘ بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ بنی آدم زمین میں فساد و خون ریزی کریں گے اور اے اﷲ! ہم ہمہ وقت تیری تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جن اَسرار اور حکمتوں کو جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور پھر نعمت علم کے ذریعے آدم علیہ السّلام کی فضیلت اور برتری کو فرشتوں پر ثابت کیا۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرو اور ابلیس لعین کے سوا تمام ملائک نے حکمِ ربّانی کی بلا چوں و چرا تعمیل کی۔ پھر آدم و حوا علیہما السلام کے جنت میں داخل کرنے اور وہاں اُن کیلئے اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں سے استفادے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک درخت کے قریب نہ جانے کی پابندی کا ذکر ہے۔ اسی کے ساتھ ابلیس لعین کے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے ‘ حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو بہکانے اور جنت سے نکالے جانے کا ذکر ہے اور پھر آدم علیہ السلام کو توبہ کے کلمات اِلقا کیے جانے‘ ان کلمات سے ان کی توبہ اور توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔ یہ کلماتِ توبہ سورۂ اعراف کی آیت 23 میں مذکور ہیں ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی‘ پس اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

سورۃالفاتحہ کے دیگر نام

سورۃ الفاتحہ کو سورۃ الدعا، سورۃ الشفاء، سورۃ الکنز، سورۃ الواقیہ، سورۃ الکافیہ، سورۃ الرُّقیہ اور سورۃ الحمد کے ناموں سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی عظمت کا بیان ہے، اس امر کا بیان ہے کہ عبادت کی حقدار صرف اسی کی ذات پاک ہے اور صرف اسی سے مدد طلب کی جائے، اس میں اللہ کی بارگاہ سے دعا والتجاکے آداب بیان کیے گئے ہیں۔

تذکرہ ابراہیم ؑ

آیت 123 اور اس کے بعد کی آیات میں حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے منصبِ امامت پر فائز کیے جانے کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کے بیت اللہ کو تعمیر کرنے کاذکر ہے اوراس امر کا بیان ہے کہ تعمیر ِ بیت اللہ کے بعد انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کی: اے ہمارے رب اِن (اہلِ مکہ) میں‘ انہی میں ایک عظیم رسول کو مبعوث فرما‘ جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔ اسی لئے رسولﷺ فرماتے تھے کہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت اور حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا ثمر ہوں۔

پارے کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے۔ اس سورہ کو اُمّ الکتاببھی کہا جاتا ہے۔ حدیث پاک کے مطابق سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام امراض کی شفا رکھی ہے۔ سورہ فاتحہ کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے۔

بسم اللہ کی تلاوت کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم ہر کام کا آغاز اللہ کے بابرکت نام کے ساتھ کرتے ہیں‘ جو نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ میں اللہ کی حمد اور ثنا کا بیان ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں جو مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔

یومِ جزا

اس کے بعد اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوم جزا کا مالک ہے۔ یومِ جزا ایک ایسا دن ہے‘ جس میں جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ ہر ظالم‘ کافر اور غاصب کو اپنے کیے کا جواب دینا پڑے گا۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ میں اس عقیدے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرنے والے اور تجھ ہی سے مدد مانگنے والے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی طلب کی گئی ہے جو کہ ان لوگوں کا راستہ ہے‘ جن پر اللہ کا انعام ہوا اور ان لوگوں کا راستہ نہیں‘ جو اللہ کے غضب کا نشانہ بنے یا گمراہ ہوئے۔

سورۃ البقرہ

سورہ فاتحہ کے بعد سورہ بقرہ ہے۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں تین گروہوں کا ذکر کیا گیا، ایک ایمان والوں کا گروہ‘ جن کا اللہ، یومِ حساب، قرآن اور سابقہ کتب پر ایمان ہے اور جو نمازوں کو قائم کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ دوسرا کافروں کا گروہ ہے‘ جو کسی بھی طور پر ایمان اور اسلام کے راستے کو اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ تیسرا گروہ منافقین کا ہے‘ جو بظاہر تو ایمان کا دعویدار ہے‘ لیکن ان کے دِلوں میں کفر چھپا ہوا ہے۔

حضرت آدمؑ کا ذکر

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے جدِ امجد جناب آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش کاواقعہ ان تمام سوالوں کا جواب پیش کرتا ہے کہ انسان کی پیدائش کب‘ کیوں اور کیسے ہوئی۔ انسانوں کی تخلیق سے قبل زمین پر جنات آباد تھے‘ جنہوں نے زمین پر سرکشی اور بغاوت کی‘ جسے کچلنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو جس میں ابلیس (عزازیل) بھی شامل تھا‘ روانہ کیا۔ ابلیس، اگرچہ گروہ جنات سے تھا‘ لیکن مسلسل بندگی کی وجہ سے وہ فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ اس بغاوت کوکچلنے کے بعد ابلیس کے دل میں ایک خفیہ تکبرکی کیفیت پیدا ہو گئی جس سے اللہ علیم و قدیر پوری طرح آگاہ تھا۔

شجر ممنوعہ

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں آباد فرمایا تو ان کو ہر چیز کھانے پینے کی اجازت دی ‘مگر ایک مخصوص درخت کے قریب جانے اور اس کا پھل کھانے سے روک دیا۔ ابلیس جو کہ آتشِ انتقام میں جل رہا تھا‘ اس نے آدم علیہ السلام اور جناب حوا علیہا السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ آپ کو شجر ممنوعہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں آپ کو ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔ آدم اور ان کی اہلیہ حوا علیہما السلام وسوسے میں مبتلا ہو کر شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اس پر خفگی کا اظہار فرماتے ہیں اور ان سے لباسِ جنت اور جنت کی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں اور ان کو جنت سے زمین پر اُتار دیتے ہیں۔ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام جب معاملے پر غور کرتے ہیں تو انتہائی نادم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دُعا مانگتے ہیں۔ اے ہمارے پروردِگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقینا خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام جب اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں تو اللہ ان کی خطا کو معاف فرما دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس امر کا بھی اعلان کر دیتے ہیں کہ زمین پر رہو میں تمہارے پاس اپنی طرف سے ہدایت بھیجوں گا۔ پس‘ جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا‘ نہ اس کو غم ہو گا‘ نہ خوف۔

یہودیوں پر احسانات

اس پارہ میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کی نافرمانیوں اور ناشکریوں کا بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کو نازل فرمایا، ان کو رزق کی تگ و دو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر بادلوں کو سایہ فگن فرما دیا اور ان کو دھوپ سے محفوظ فرما دیا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بارہ چشموں کو جاری فرمایا لیکن ان تمام نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد بھی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نا شُکری کرتے رہے۔

انسان کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر انسانوں کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا اور فرشتوں سے مخاطب ہو کرکہا: میں زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتے اس سے قبل زمین پر جنات کی یورش دیکھ چکے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ! تُو زمین پر اُسے پیدا کرے گا‘ جو خون بہائے گا اور فساد پھیلائے گا‘ جبکہ ہم تیری تعریف اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ نے کہا: جو میں جانتا ہوں‘ تم نہیں جانتے۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنانے کے بعد ان کو علم کی دولت سے بہرہ ور فرمایا اور ان کو اشیا کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔ اس کے بعد فرشتوں اور آدم علیہ السلام کو جمع کر کے بعض اشیا کے ناموں کے بارے میں ان سے سوالات کیے‘ چونکہ فرشتے ان اشیا سے بے خبر تھے‘ اس لیے انہوں نے اللہ کی پاکیزگی کا اعتراف اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو ان اشیا کا نام بتلانے کا حکم دیا تو انہوں نے ان اشیا کے نام فوراً بتلا دیے۔ اللہ نے فرشتوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ میں زمین و آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو‘ اس کو بھی جانتا ہوں۔ جب آدم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہو گئی‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے سامنے جُھک جائیں۔ فرشتوں میں چونکہ سرکشی نہیں ہوتی‘ اس لیے تمام فرشتے آدم علیہ السلام کے سامنے جُھک گئے؛ تاہم ابلیس نے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس تکبر پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل و خوار کر کے اپنی رحمت سے دُور فرما دیا اور آدم علیہ السلام کو ان کی اہلیہ کے ساتھ جنت میں آباد فرمایا۔ ابلیس نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہتی دنیا تک آدم علیہ السلام اور ان کی ذُریت کو راہِ ہدایت سے بھٹکانے کیلئے سرگرم رہے گا۔

مشرکین کو چیلنج

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ان کو چاہیے کہ قرآن کی کسی سورت جیسی کوئی سورت لے کر آئیں، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے کہ اس آگ سے ڈر جائیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

حضرت ابراہیم کا تذکرہ

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا بھی ذکرکیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کیلئے اللہ تعالیٰ کے گھرکو تعمیر فرمایا۔ تعمیر فرمانے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی: اے باری تعالیٰ ہمارے عمل کو قبول فرما‘ بے شک تو سننے اور جاننے والا ہے۔ آ پ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا بھی مانگی: اے اللہ! اہلِ حرم کی رہنمائی کیلئے ایک ایسا رسول بھی مبعوث فرمایا جو ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم د ے اور ان کو پاک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما کرجناب محمد رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا۔ دُعا ہے کہ اللہ ہمیں پہلے پارے کے مضامین کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے، آمین!