چوتھے پارے کا آغاز سورہ آل عمران سے ہوتا ہے، پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔
یہود کو چیلنج
رسول اللہ ﷺ اونٹ کا گوشت کھاتے تھے اور اونٹنی کا دودھ نوش فرماتے تھے‘ اِس پر یہود نے اعتراض کیا کہ اونٹنی کا گوشت اور اُس کا دودھ شریعتِ ابراہیمی سے حرام چلا آ رہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے یہود کو چیلنج کیا کہ اگر تمہارا دعویٰ سچا ہے تو تورات لے آؤ اور اُس میں یہ حکم دکھا دو‘ ورنہ یہ اللہ پر تمہارا افترا ہے کیونکہ شرعی طور پر کسی چیز کو حرام قرار دینا اللہ عزّوجل کا حق یا اُس کے اختیار سے اس کے رسولؐ کا حق ہے۔
حج کی فرضیت
آیت 95 تا 97 میں صاحبِ استطاعت پر حج کی فرضیت کا حکم بیان ہوا، اور یہ کہ زمین پر اللہ کی عبادت کیلئے سب سے پہلاگھر مکۂ مکرمہ میں بیت اللہ بنایا گیا جس میں واضح نشانیاں ہیں‘ مقامِ ابراہیم ہے اور یہ جائے امن ہے۔
فرقہ بندی سے بچنے کا حکم
آیت 103 تا 110 میں اتحادِ اُمّت‘ فرقہ بندی سے بچنے کا حکم بیان ہوا اور فرمایا کہ اسلام سے پہلے تم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور اپنی بد اعمالیوں کے سبب آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے مگر نعمت ِ بعثت ِ مصطفی اور نعمت ِ اسلام کی برکت سے اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اورتم بھائی بھائی بن گئے۔
یہود کے ناروا اعمال
آیت 112 میں بتایا گیا ہے کہ یہود پر اُن کے ناروا اعمال کے سبب ذلت مسلط کر دی گئی کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے‘ اس کے انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔
اہل ایمان کو تنبیہ
آیت 118 میں حکم ہوا کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا راز دار نہ بنائیں‘ وہ مسلمانوں کی بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور مسلمانوں کا مصیبت میں مبتلاہونا ان کی خواہش ہے‘ ان کی مسلمانوں سے نفرت کسی حد تک ان کی باتوں سے عیاں ہے اور جو بغض و عناد وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں‘ وہ اس سے سوا ہے۔ ان کا شِعار منافقت ہے۔ مسلمانوں کی راحت سے انہیں تکلیف اور دکھ سے انہیں راحت پہنچتی ہے۔
غزوۂ بدر کا ذکر
غزوۂ بدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیت 122میں فرمایا کہ منافقین کا ساتھ چھوڑنے کے بعد مسلمانوں کی دو جماعتوں (بنو حارثہ اور بنو سلمہ) کی ہمتیں پست ہو رہی تھیں کہ اللہ نے انہیں بچا لیا۔ آیت 123 تا 128میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے‘ اللہ نے ایسے حالات میں کہ مسلمان ظاہری اعتبار سے کمزور تھے‘ تین ہزار فرشتے ان کی مدد کیلئے اتارے اور مزید نصرتِ غیبی کا وعدہ فرمایا۔ یہ بھی بتایا کہ مجاہدین کی مدد کیلئے فرشتوں کا نزول مومنوں کے اطمینانِ قلب کیلئے تھا۔
سود کی ممانعت
آیت 130 میں ایک بار پھر سود کی ممانعت کا حکم نازل ہوا کہ حرام طریقے سے مال کو دگنا چوگنا نہ کرو۔
مجاہدین کو تسلی
آیت 139 تا 143میں غزوۂ احد میں اَفرادی قوت اور اسباب میں کمی کے سبب دل چھوڑنے والے مجاہدین کو تسلی دی کہ ثابت قدم رہو‘ آخرکار تم ہی سرفراز ہو گے۔ اگر وقتی طور پر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اہل حق کے ساتھ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا مگر برے دن ہمیشہ نہیں رہتے۔ یہ ابتلائیں مسلمانوں کیلئے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہیں اور جنت کے حصول کیلئے مسلمانوں کو مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔
شہدا کی شان عظمت
آیت 164میں اللہ تعالیٰ نے بعثتِ مصطفیﷺ کو اہلِ ایمان کیلئے اپنی نعمت اور احسان قرار دیا اور آپ کے فرائض نبوت کو ایک بار پھر بیان فرمایا۔ منافق غزوۂ احد کے مجاہدین کو بار بار ذہنی اذیت پہنچاتے ہوئے کہتے کہ اگر تم نے ہماری بات مانی ہوتی تو ان نتائج سے بچ جاتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شہداء کی عظمت شان کو مسلمانوں کی طمانیت کیلئے ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جائیں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو‘ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں‘ انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ اللہ نے اپنے فضل سے جو انہیں عطا فرمایا ہے ‘وہ اس پر خوش ہیں‘‘۔
بخیل مالدار
آیت 180 میں ان بخیل مالداروں کو‘ جو اللہ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں خرچ نہیں کرتے‘ وعید سنائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو (مال) انہیں عطا کر رکھا ہے‘ وہ یہ گمان نہ کریں یہ ان کے حق میں بہتر ہے‘ بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے اور قیامت کے دن اُن کے اِسی جمع کیے ہوئے مال کا طوق بنا کر ان کے گلے میں ڈالا جائیگا۔
صداقت نبی کی نشانی
آیت 183 میں یہود کے اس مطالبے کا ذکر ہے کہ ان کے نزدیک نبی کی صداقت کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ کیلئے قربانی پیش کرے اور آسمان سے آگ آئے اور اسے کھا جائے (یعنی جلا کر راکھ کر دے)۔ بتایا گیا کہ یہ محض ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے‘ جن رسولوں نے یہ معجزہ پیش کیا‘ ان پر سب لوگ ایمان لائے؟
عقلمندوں کیلئے نشانیاں
آیت 190 اور اس کے بعد والی آیات میں یہ بتایا کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور نظامِ گردشِ لیل ونہار میں عقلمندوں کیلئے نشانیاں ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جو حالتِ قیام میں‘ بیٹھے ہوئے اور کروٹوں کے بل لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اللہ کی حکمتوں پر غور وفکر کرتے ہیں۔
سورۃ النساء
اس کے بعد سورۃ النساء کی ابتدائی 23 آیات ہیں۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو‘ جس نے تمہیں ایک شخص سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی (حوا) کو پیدا کیا اور پھر ان دونوں کے ذریعے کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں زمین میں پھیلا دیے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اپنے زیر کفالت یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ‘ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
چار شادیوں کی اجازت
اگلی آیت میں یہ بتایا کہ اگرچہ بوقت ضرورت ایک سے زیادہ چار تک شادیوں کی اجازت ہے‘ لیکن ازواج کے درمیان عدل کی کڑی شرط کے ساتھ۔ زیر کفالت یتیموں کے حوالے سے فرمایا کہ اگر وہ اپنے مال کی حفاظت کا شعور نہیں رکھتے تو ان کے سرپرست کو چاہیے کہ ان کے مال کی حفاظت کرے‘ ان کی ضروریات کی کفالت کرے اور ان سے حسنِ سلوک کرے۔
وراثت
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد ہو یا عورت‘ شریعت میں اپنے مقررہ حصے کی وراثت پانے کا حقدار ہے‘ یعنی اسلام میں عورت کو وراثت سے محروم نہیں رکھا گیا۔ سورۃ النساء کی آیت 11 اور 12 میں وراثت کے مسائل بیان فرمائے گئے ہیں۔
قبولیت توبہ کا اصول
آیت 16 اور 17 میں اللہ تعالیٰ نے قبولیت توبہ کا اصول بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں سے گناہ سرزد ہو جائے اور وہ غلطی کا احساس ہونے پر جلدی توبہ کر لیں تو ان کی توبہ کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے‘ لیکن جو لوگ زندگی بھر گناہ کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ فرشتۂ اجل سر پر آ کھڑا ہو اور پھر کہیں کہ میں نے توبہ کی تو ان کی توبہ کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں اور جن کی موت کفر پر واقع ہو جائے‘ ان کی آخرت میں نجات کی کوئی ضمانت نہیں۔
اہلِ تقویٰ کا شِعار
آیت 133 اور 134 میں بیان ہوا کہ جنت کے حقدار اہلِ تقویٰ کا شِعار یہ ہے کہ خوشحالی ہو یا تنگدستی‘ ہر حال میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں‘ غصے پر قابو پاتے ہیں اور لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اگلی آیات میں امت کے گناہگاروں کو نویدِ مغفرت دی گئی کہ اگر تم نے اللہ کی نافرمانی اور بے حیائی کے کام کیے ہیں تو ایک بار پھر تمہیں دعوت ہے کہ پلٹ آؤ‘ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، بشرطیکہ وہ گناہوں پر اصرار نہ کریں بلکہ انہیں ترک کر دیں۔
یتیم کا مال
یتیم کا مال اس وقت اس کے سپرد کرو جب وہ بالغ اور عقلمند ہو جائے۔ اس اندیشے سے یتیم کا مال جلدی جلدی ہڑپ نہ کرو کہ وہ بالغ ہوکر اپنے مال کا مطالبہ کرے گا اور جب یتیم کا مال اس کے حوالے کرو‘ احتیاطاً گواہ مقرر کر لو۔ قرآن نے یہ بھی بتایا کہ یتیم کا سرپرست اگر غنی ہے تو اپنی ذات اور ضروریات پر یتیم کے مال کو خرچ نہ کرے اور اگر وہ فقیر ہے تو صرف بقدرِ ضرورت اپنے اوپر خرچ کر لے۔
بہترین امت
آیت 110 میں اُمت مسلمہ کو بہترین امت قرار دے کر اس کی وجۂ فضیلت بیان کی کہ تمہیں اس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے کہ عالم انسانیت میں نیکیوں کو پھیلاؤ اور برائیوں کو روکو۔اُمّت مُسلمہ کی ذمہ داری عالَم انسانیت کو دعوتِ حق دینا اور نبوی مشن کو سر انجام دینا ہے۔
چوتھے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے‘ جب تک اس چیز کوخرچ نہیں کرتے‘ جو تمہیں محبوب ہے اور جوکچھ تم خرچ کرتے ہو‘ اللہ اس کو خوب جانتا ہے‘‘۔
اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرامؓ نے اپنے محبوب ترین مال کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا شروع کر دیا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے کہ جناب ابوطلحہؓ بہت مالدار صحابی تھے۔ ان کا سب سے محبوب مال بیرحاء کا باغ تھا‘ جو مسجد نبوی کے بالمقابل تھا۔ رسول کریمﷺ کبھی کبھار اس باغ میں تشریف لاتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول کریمﷺ سے عرض کی کہ میرا سب سے محبوب مال بیرحاء کا باغ ہے‘ میں اسے اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں صدقہ کرتا ہوں۔
حج کی فرضیت
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکرکیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور ہر صاحب استطاعت مسلمان پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ جو بھی اس گھر میں داخل ہوتا ہے‘ اس کو امان حاصل ہو جاتی ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اگر اہل ایمان‘ اہل کتاب کے کسی گروہ کی اطاعت اختیار کریں گے تو وہ ان کو ایمان کی سرحدوں سے نکال کر کفر کی حدود میں داخل کر دے گا۔
مسلمان بہترین اُمت
اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مسلمان بہترین اُمت ہیں‘ جن کی ذمہ داری نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا ہے، اگر ہم صحیح معنوں میں بہترین اُمت بننا چاہتے ہیں‘ تو ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے راستے پر چلنا چاہیے۔
صبر اور تقویٰ کا راستہ
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف پہنچے تو کافر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوشی حاصل ہو تو کافر‘ غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں‘ اگر مسلمان صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں تو کافروں کی کوئی خوشی اور ناراضی مسلمانوں کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔
سود کھانے کی ممانعت
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! سود در سود کھانے سے اجتناب کرو۔
جنتی مومنوں کی صفت
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنت کی طرف تیزی سے بڑھنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ جنت کا عرض زمین اور آسمان کے برابر ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنتی مومنوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ جب ان سے صغیرہ یا کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔
مسلمانوں کو تسلی
غزوۂ احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس نقصان کی وجہ سے مسلمان بہت دکھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں زخم لگا ہے تو تمہاری طرح تمہارے دشمنوں کو بھی زخم لگا ہے اور ان ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں اور اس ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بھی جانچ لیتا ہے اور کئی لوگوں کو شہادت کا منصب بھی عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خوشی اور غم‘ تکلیف اور راحت سب اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے اور دنوں کے پھرنے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔
صبر اور تقویٰ کی تلقین
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی ایذا رسانی کی باتیں سنو گے لیکن تم نے دل گرفتہ نہیں ہونا اور صبر اور تقویٰ کو اختیار کرنا ہے بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نبیﷺ کے بارے میں مشرکین‘ عیسائی اور یہودی طرح طرح کی باتیں کرتے رہے اور ان کے ساتھ ساتھ منافقین کا سردار عبداللہ ابن ابی بھی اپنے ساتھیوں کی ہمراہی میں اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ کو ایذا دینے میں مصروف رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور آپﷺ کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ناکام اور نامراد بنا دیا۔
سورہ النساء
سورہ آل عمران کے بعد سورہ النساء ہے۔ سورہ النساء کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے جو اُن کا پروردگار ہے اور اس نے ان کو ایک جان‘ یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا اور ان سے ان کی زوجہ کو پیدا کیا اور پھر کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ذات پات اور برادری وجۂ عزت نہیں‘ اس لیے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہی ہے۔
صنفی بدامنی
اللہ تعالیٰ نے صنفی بدامنی کو روکنے والی ایک تدبیر بھی بتلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’تم اپنی من پسند دو‘ تین اور چار عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو؛ تاہم اگر تم محسوس کرو کہ تم انصاف نہیں کر سکتے تو ایسی صورت میں ایک ہی کافی ہے‘‘۔
حق مہر
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے حق مہر کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ’’انسان اپنی بیوی کو حق مہر کے طور پر خزانہ بھی دے سکتا ہے اور انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ حق مہر دینے کے بعد اس کو واپس لینے کی کوشش کرے‘‘۔ حکم ہوا کہ حق مہر کم ہو یا زیادہ‘ ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
غزوہ بدر کا ذکر
اس سورہ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے غزوہ بدر کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے تین ہزار فرشتوں کو اتارے گا اور اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کافر مسلمانوں تک رسائی حاصل کر لیں گے اور مسلمان صبر و استقامت سے ان کا مقابلہ کریں‘ تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پانچ ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اتارے گا۔ سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کی مدد ایک ہزار فرشتوں سے کی جائے گی‘ جن کے بعد مزید فرشتے آئیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کی مدد تو ایک خوش خبری اور بشارت ہے‘ وگرنہ اصل میں تو مدد فرمانے والی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات بالا صفات ہے۔
وراثت کی تقسیم
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے مسائل کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے والد کی جائیداد میں سے بیٹوں کا بیٹیوں کے مقابلے میں دُگنا حصہ رکھا ہے۔ اگر کسی انسان کی صرف بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں وہ انسان کی دو تہائی جائیداد کی مالک ہوں گی اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو وہ نصف جائیداد کی مالک ہو گی۔ شوہر اپنی بیوی کی جائیداد میں ایک چوتھائی حصے کا مالک ہو گا‘ جبکہ بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں آٹھویں حصے کی مالک ہو گی۔ والد اور والدہ کا اپنے بیٹے کی جائیداد میں چھٹا حصہ ہو گا‘ اسی طرح بے اولاد شخص کی جائیداد اس کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گی۔ جائیداد کی تقسیم سے قبل انسان کے ذمہ واجب الادا قرض کو ادا کرنا چاہیے اور اگر اس نے کسی کے حق میں کوئی وصیت کی ہو‘ جو ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہو سکتی‘ تو اس کو ادا کرنا چاہیے۔
مومنوں کونصیحت
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے تمام مومنوں کو اس بات کی نصیحت کی کہ ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لینا چاہیے اور تفرقے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رسی سے مراد قرآنِ مجید ہے۔ اگر تمام مسلمان مضبوطی کے ساتھ قرآنِ پاک کو تھام لیں تو ان کے باہمی اختلافات بہ آسانی دور ہو سکتے ہیں۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان کے چہرے سفید اور ایمان کو ٹھکرانے والوں کے چہرے سیاہ ہو ں گے۔ سفید چہروں والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے‘ جبکہ سیاہ چہرے والے اپنے کفر کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔
تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت اور درجے کی بلندی رکھی ہے۔ آیت 254 میں فرمایا کہ قیامت کے دن (نیکیوں کا) لین دین‘ دوستی اور سفارش نہیں چلے گی اور کفار ہی حقیقت میں ظالم ہیں۔
قرآن کی عظیم آیت جو ’’آیت الکرسی‘‘ کے نام سے معروف ہے‘ یہ آیاتِ قرآن کی سردار ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید‘ شانِ جلالت اور وسعتِ قدرت بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیاہے کہ اُس کے اِذن سے ہی اُس کی بارگاہ میں شفاعت ہو گی۔
آیت 258 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نمرود کے ساتھ اس مناظرے کا ذکر ہے‘ جس کے نتیجے میں وہ لاجواب ہوا‘ یعنی جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا ’’ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (تجھے اگر خدائی کا دعویٰ ہے) تو اسے مغرب سے نکال لے‘‘۔
آیت 273 میں فرمایا کہ صدقات وخیرات کے حقدار وہ لوگ ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ یا دین کے کسی کام (مثلاً دین کی تعلیم و تعلُّم) میں مشغول ہوں اور انہیں طلبِ معاش کی فرصت نہ ہو اور وہ اتنے خوددار ہوں کہ وہ لوگوں سے مانگتے نہ پھریں اور ان کی حقیقتِ حال سے ناواقف آدمی انہیں مالدار سمجھے۔
آیت 282 میں تجارت و لین دین کے بنیادی و اساسی اصول بیان کیے ہیں: (1) دستاویزی شکل دو، (2) ادائیگی کا وقت مقرر کرو، (3) مالی معاملات کی دستاویز لکھنے پر قدرت رکھنے والے کو اپنے مسلمان بھائی کی لکھنے میں مدد کرنی چاہیے۔ (4) تحریر لکھوانا قرض خواہ کی ذمہ داری ہے۔ (5) تحریر لکھنے میں دیانتداری سے کام فرض ہے۔ (6) مقروض نادان‘ کمزور یا تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا ولی تحریر لکھوائے۔ (7) تجارتی و مالی معاملات میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانا چاہیے۔ (8) گواہوں کو گواہی دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ (9) گواہوں اور دستاویز لکھنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا معاہدہ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ (10) گواہوں اور دستاویز لکھنے والے کو ایذا پہنچانا گناہ ہے۔ (11) گواہی کو چھپانا گناہ ہے۔ (12) حالت سفر میں کوئی لین دین کا معاملہ ہو تو کوئی فریق ضمانت کے طور پر چیز اپنے پاس رہن رکھ سکتا ہے۔ (13) اگر دستاویز ی ثبوت لکھنے یا گواہوں کے بغیر کسی نے اعتماد کرکے کسی کے ساتھ لین دین کیا ہو تو وہ دوسرے کی امانت واپس کرے اور آخر میں فرمایا: ’’اس معاملہ میں اللہ سے ڈرتا رہے‘‘۔
آیت 14میں بتایا کہ ’’(انسان کی آزمائش کیلئے) عورتوں اور بیٹوں کی جانب میلان‘ سونا اور چاندی کے جمع شدہ خزانوں‘ نشان زدہ گھوڑوں‘ چوپایوں اور کھیتی باڑی (یعنی مال و متاعِ) کی رغبت کو آراستہ اور پُرکشش بنا دیا گیا ہے‘ یہ سب دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور عمدہ ٹھکانہ صرف اللہ کے پاس ہے‘‘۔ اگلی آیت میں مومنینِ مخلصین کا یہ شِعار بتایا کہ ’’جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! بیشک ہم ایمان لائے‘ سو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا‘ (یہ لوگ) صبر کرنے والے‘ سچ بولنے والے‘ (اللہ کی) اطاعت کرنے والے‘ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والے اور بخشش کی دعائیں مانگنے والے ہیں‘‘۔
آیت 26 اور 27 میں اللہ تعالیٰ کی جلالتِ شان کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ’’(اے نبی!) کہو: اے اللہ! مُلک کے مالک‘ تو جسے چاہتا ہے‘ مُلک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے مُلک چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے‘ سب بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے‘ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘ تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں‘ تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور تو جس کو چاہے بے حساب رزق دیتا ہے‘‘۔
آیت 31 میں اللہ تعالیٰ کے رسول مکرمﷺ کی عظمتِ شان کا ان الفاظ میں ذکر ہے۔ اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے قُرب اور رِضا کا طلب گار ہو‘ تو اُس کا فقط ایک ہی راستہ ہے‘ یعنی اتباعِ مصطفیﷺ۔
آیت 35 سے حضرت مریم کا واقعہ بیان ہوا۔ عمران بن یاشہم حضرت مریم کے والد ہیں اور ان کی والدہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذ مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’جب عمران کی بیوی نے عرض کیا: اے میرے رب! جو (حمل) میرے پیٹ میں ہے‘ اُس کو میں نے تیرے (بیت المقدس کی خدمت کیلئے دوسری ذمہ داریوں سے) آزاد رکھنے کی نذر مانی ہے‘ سو تو میری طرف سے (اِس نذر کو) قبول فرما‘‘۔ پھر جب اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی‘ تو اس نے (عرض کیا) اے میرے رب! میرے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ۔اگلی آیات میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمایا اور اسے عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور حضرت زکریا علیہ السلام تربیت کیلئے ان کے کفیل بنے۔ حضرت مریم کو بیت المقدس کے ایک حجرے میں ٹھہرایا گیا۔ پھر جب حضرت زکر یا علیہ السلام نے مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھے تو حیران ہو کر کہا: ’’اے مریم! یہ پھل کہاں سے آئے؟ حضرت مریم نے کہا: یہ اللہ کی جانب سے‘‘۔ اس موقع پر حضرت زکریا علیہ السلام کے دل میں اولاد کی خواہش ابھری کہ جو رب مریم کو بے موسم کے پھل دے سکتا ہے‘ وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے۔
تب زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی: ’’اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما‘ بے شک تو ہی دعا کا بہت سننے والا ہے‘‘۔ پھر جب زکریا علیہ السلام حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے‘ فرشتے نے انہیں بشارت دی ’’بے شک اللہ آپ کو یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے‘ سردار اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے‘‘۔ پھر حضرتِ زکریا علیہ السلام اور ان کی بیوی کو بڑھاپے کی عمر میں بیٹے کی پیدائش کی نشانی بتاتے ہوئے یہ فرمایا ’’ تمہاری علامت یہ ہے کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا لوگوں سے کوئی بات نہ کر سکو گے اور اپنے رب کا صبح وشام کثرت سے ذکر کرو‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کا نام مسیح عیسیٰ ہے۔
آیت 84 میں عالم اَروَاح کے اُس عظیم واقعے کو بیان کیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور (اے رسول) یاد کیجئے جب اللہ نے تمام نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ میں تم کو جو کتاب اور حکمت دوں‘ پھر (بالفرض) تمہارے پاس وہ عظیم رسول آئیں‘جو اُس چیز کی تصدیق کرنیوالے ہوں‘ جو تمہارے پاس ہے‘ توتم اُن پر ضرور بالضرور ایمان لانا ‘ (اللہ نے) فرمایا: کیا تم نے اقرار کر لیا؟ اُنہوں نے کہا: ہم نے اقرار کیا (تواللہ نے) فرمایا: پس گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘۔ اس میثاق سے معلوم ہوا کہ ختم الرسلﷺ پر ایمان اور آپﷺ کی نصرت و حمایت کا ہر نبی پابند تھا۔
آیت 274 میں فرمایا ’’سود خور کی مثال ایسی ہے‘ جیسے کسی شخص کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو‘‘۔ پھر فرمایا کہ سود کی حرمت کا حکم آنے کے بعد سود کا لین دین چھوڑ دو‘ ماضی کی خطا معاف ہے؛ البتہ اگر کسی شخص کے دوسرے کے ذمے سابق مالی واجبات ہوں تو اصل زَر لے لے اور سود چھوڑ دے۔
سورۂ آلِ عمران کی آیت 7 میں بتایا کہ آیاتِ قرآنی کی دوا قسام ہیں: (1) محکم‘ یہ وہ آیات ہیں جن کی دلالت اپنے معنی‘ مفہوم اور منطوق پر بالکل قطعی اور واضح ہے۔ ان میں شرعی احکام‘ حلال و حرام‘ فرائض و واجبات اورحدود و فرائض کا بیان ہے۔ (2) متشابہ‘ ان آیات پر ہر مومن کا ایمان لانا فرض قطعی ہے اور جن کے معنی ہم پر واضح نہیں ہیں‘ ان کی مراد ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’جن کے دلوں میں کجی ہے‘ وہ فتنہ جوئی اور متشابہات کا محمل (توجیہ اور مراد) نکالنے کیلئے کنایات کے درپے رہتے ہیں، حالانکہ متشابہ آیات کا قطعی اور آخری معنی اللہ ہی جانتا ہے‘‘۔
آیت 77 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں‘ اُن لوگوں کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ آخرت میں اللہ اُن سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی اُن کو پاکیزہ کرے گا‘‘۔
تیسرے پارے کا آغاز بھی سورہ بقرہ سے ہوتا ہے۔ تیسرے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے‘ ان میں سے بعض نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے درجات کو اللہ رب العزت نے بلند فرما دیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام رسولوں میں سے سب سے زیادہ بلند مقام ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہے۔
آیت الکرسی کی فضیلت
اس پارے میں آیت الکرسی ہے‘ جو قرآنِ مجید کی سب سے افضل آیت ہے۔ آیت الکرسی کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ شیاطین کے حملوں سے محفوظ فرما لیتے ہیں۔
حضرت عزیرؑکا واقعہ
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ایک اجڑی ہوئی بستی کے پاس سے گزرے اور کہا کہ یہ بستی کیونکر دوبارہ زندہ (آباد) ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو سو برس کے لیے سلا دیا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام اور جناب ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دیں گے تو مردہ انسان بالکل صحیح حالت میں اٹھ کر کھڑے ہوں گے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا بھی ذکر کیا ہے اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو اللہ تعالیٰ سات سو گنا کر کے پلٹائیں گے اور کئی لوگوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سود کی بھی مذمت کی اور کہا کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے‘ ان کا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید میں دو طرح کی آیات ہیں‘ ایک محکم اور دوسری متشابہ۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہات کی تاویل کا حقیقی علم صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہلِ ایمان کہتے ہیں‘ جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا‘ ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہش مند ہے‘ اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے حضرت آدم‘ حضرت نوح‘ آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو دنیا پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔
سورہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے وقف کر دیں گی۔ آپ کے یہاں پر بچے کے بجائے بچی کی ولادت ہوئی۔ جناب عمران کی اہلیہ نے اپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور آپ کا نام مریم رکھ کر آپ کو جناب زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جناب مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیا اور آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام ایام اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی میں صرف ہوتے رہے‘ یہاں تک کہ بارگاہِ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے۔
حضرت زکریا علیہ السلام جو حضرت مریم کے خالو بھی تھے‘ ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے‘ جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ انہوں نے سیدہ مریم سے پوچھا کہ آپ کے پاس یہ بے موسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں‘ وہ جس کو چاہتا ہے‘ بلاحساب رزق دیتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے اور آپ کی بیوی بانجھ تھیں۔ سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھ کر جناب زکریا علیہ السلام بھی رحمتِ الٰہی سے پُرامید ہو گئے اور آپ علیہ السلام نے دعا مانگی: اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما۔ حضرت زکریا علیہ السلام محراب میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ فرشتے نے آپ کو پکارکر کہا: ’’اے زکریا! آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یحییٰ نامی پارسا اور سردار بیٹے کی بشارت ہو‘‘۔ حضرت زکریا علیہ السلام اس کے بعد تین دن تک خلوت نشین ہوکر اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذکر اور تسبیح میں مشغول رہے۔
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رسول کریمﷺ کے مقام کا بھی ذکرکیا ہے کہ عالم ارواح میں اللہ نے انبیاء کرام کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں محمد رسول اللہﷺ آ جائیں تو پھر ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہ انبیاء پر لازم ہو گا۔ اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کفر پر مرنے والے اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے میں بھی انہیں معاف نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔
تیسرے پارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے اہم واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ پہلا واقعہ جناب ابراہیم علیہ السلام کا دربارِ نمرود میں اُس کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کے بارے میں مناظرانہ مکالمے کا ہے۔ جس وقت ابراہیم علیہ السلام دربارِ نمرود میں جا کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی تبلیغ کرتے ہیں تو ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کہتے ہیں: میرا پروردگار زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں نمرود کہتا ہے کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں۔ اپنے اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے اس ظالم نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کے مکر کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لے کر آتا ہے‘ پس تُو اس کو مغرب سے لے کر آ۔ یہ بات سن کر نمرود کے لبوں پر چپ کی مہر لگ گئی‘ اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ اس مطالبے کو پورا کرنا ناممکن ہے۔
سورہ بقرہ کے بعد سو رہ آلِ عمران ہے۔ سورہ آلِ عمران کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا جو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں اس امر کا بھی ذکر کیا کہ وہ رحمِ مادر میں انسانوں کو جس طرح چاہتا ہے‘صورت عطا فرما دیتا ہے‘ وہ بغیر رنگ‘ روشنی اورکینوس کے‘ دھڑکتے ہوئے دل والا انسان بنا دیتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ سیدہ مریم کا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بنا شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا‘ جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتا تو وہ شفایاب ہو جاتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے گھر میں کھائے جانے اور باقی رہ جانے والے کھانے کی بھی خبر دیتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا قرار دینے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے‘ جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ’ہو جا‘ تو وہ ہو گئے۔ اس سورہ میں اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ کفار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان کے درپے تھے۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔
دوسرے پارے کا آغاز اس بیان سے ہے کہ اب مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کیا جا رہا ہے اور ہٹ دھرم لوگ اور منافقین اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ کیوں ہوا۔
دراصل رسول اللہﷺ کے مدنی دور کی ابتدا میں سولہ‘ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رُخ کر کے نمازیں پڑھی گئیں ‘ پھر ایک دن نمازِظہر کے دوران رسول کریمﷺ کی خواہش پر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو قبلۂ نماز بنانے کا حکم نازل فرمایا۔ اس تحویلِ قبلہ کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دی ’’اور (اے رسول) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے‘ ہم نے اس کو قبلہ اس لیے بنایا تھاتاکہ ہم ظاہر کردیں کہ کون (غیر مشروط طور پر) رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اُس سے ممتاز کردیں‘ جو اپنی ایڑیوں پر (کفر کی جانب) پلٹ جاتا ہے‘‘۔یہ بھی فرمایا ’’بیشک ہم نے بارہا(وحی کے انتظار میں) آپ کو آسمان کی طرف رخ پلٹتے ہوئے دیکھا ہے ‘ سو ہم آپ کو ضرور بالضرور اُسی قبلہ کی جانب پھیر دیں گے ‘ جو آپ کو پسند ہے، پس آپ اپنا رخ مسجد حرام کی جانب پھیر لیں‘‘۔ آگے چل کر پھر فرمایا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہو اُسے نماز کے وقت اپنا رخ مسجد حرام کی جانب پھیر دینا چاہیے اور اس پر اہل ِکتاب سے کوئی سودے بازی یا مفاہمت نہیں ہوسکتی۔
صبر کی تلقین
آیات 153 تا 156 میں ہر مصیبت کے وقت صبر اور نماز کو اللہ تعالیٰ کی نصرت کا وسیلہ بنانے کی تعلیم دی گئی ہے اور راہِ حق میں پیش آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہے ‘ جو (دشمن کے) خوف‘ بھوک ‘ جان ومال اور اولاد کے تلف ہونے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ ان مشکلات میں اہلِ صبر کو بشارتیں دی گئی ہیں اور اللہ کی راہ میں درجۂ شہادت پانے والوں کیلئے ابدی زندگی کی بشارت دی گئی ہے۔
دائمی عذاب کی وعید
آیات 159 تا 163 میں بتایا گیا کہ جو لوگ دین کی حقانیت کے روشن دلائل اور پیغامِ ہدایت کو چھپاتے ہیں‘ اُن پر اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں کی لعنت اور دائمی عذاب کی وعید ہے۔ جو توبہ کرلے اوراپنی اصلاح کرلے اُن کیلئے توبہ کی قبولیت کا دروازہ کھلا ہے۔
قدرت کی نشانیاں
آیات 164 تا 167 میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر ہے‘ یعنی زمین وآسمان کی پیدائش ‘گردشِ لیل ونہار کا نظام ‘ سمندروں میں انسانی فائدے کیلئے کشتیوں اور جہازوں کا رواں دواں رہنا ‘ بارش کے قدرتی نظام کے ذریعے خشک اور بنجر زمین کا دوبارہ زرخیز اور آباد ہونا‘ ہواؤں کا چلنااور آسمان اور زمین کے درمیان بادلوں کا معلق رہنا وغیرہ۔ یہ بھی بتایا کہ مشرکوں کوجتنی اپنے باطل معبودوں سے محبت ہے ‘ اہلِ ایمان کو اُس سے بہت زیادہ اللہ سے محبت ہے۔
حرام چیزوں کا بیان
آیات 172 تا 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ پھر چار حرام چیزوں کا بیان ہوا یعنی: مردار (اس سے وہ حلال جانور مراد ہے‘جو طبعی موت مر گیا ہو)، ذبح کے وقت بہنے والا خون‘ خنزیز کا گوشت اور وہ حلال جانورجس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔صرف حالتِ اضطرار میں محض بقائے حیات کیلئے بقدرِ ضرورت ان کے استعمال کو مباح قرار دیا گیا۔
قانونِ قصاص
178 اور 179 میں قانونِ قصاص کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس معاشرے میں قانونِ قصاص عملاً نافذ نہیں ‘ وہاں آئے دن بے قصور انسانوں کی جان ‘ مال اور آبرو کی حرمت پامال ہو رہی ہے۔
چار مہینوں کی حرمت
آیت نمبر 194میں چار مہینوں کی حرمت کا بیان ہے۔ آیات 195 سے 203 تک حج ، عمرے اور حج کے بعض مسائل کا بیان ہے۔
نظامِ رسالت
آیت نمبر213 میں بتایا گیا کہ تمام لوگ اصل کے اعتبار سے ایک تھے‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نظامِ رسالت قائم فرمایا ‘ ہر دور کے لوگوں کیلئے کتابِ ہدایت نازل کی‘ اُس کے بعد انسانیت دو گروہوں میں بٹ گئی ایک اہلِ حق ‘ یعنی انبیاء کرام کے پیرو کار اور دوسرے اہلِ باطل‘ یعنی خواہشاتِ نفس اور شیطان کے پیروکار۔
جنت کا حقدار
آیت نمبر 214 میں یہ بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کیلئے محض دعویٰ ایمان کافی نہیں‘ بلکہ اُس کیلئے راہِ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ جیسا کہ انبیائے کرام اور ان کے سچے پیرو کاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
انفاق فی سبیل اللہ /جہاد
آیت نمبر 215 میں انفاق فی سبیل اللہ کے مصارف کا بیان ہے اور اگر آیت نمبر 219 کو اس سے ملا کر سمجھا جائے تو اس امر کا بیان ہے کہ جو مال تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو ‘ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی آیت میں شراب اور جوئے کی حُرمت کا ابتدائی بیان ہے کہ ان کے نفع کے مقابلے میں ان کا گناہ بہت بڑا ہے۔آیت نمبر 216 میں جہاد کی فرضیت کا بیان ہے۔
آیت نمبر 221 میں مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کا بیان ہے۔ آیت نمبر 222 میں اس امر کا بیان ہے کہ ایامِ مخصوص (حالتِ حیض و نفاس) میں عورت سے مباشرت منع ہے۔
’’ایلا‘‘
آیت نمبر 226 اور 227 میں ’’ایلا‘‘ کا بیان ہے۔ ’’ایلا‘‘ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہے کہ اللہ کی قسم چار ماہ تک یا ہمیشہ کیلئے تمہارے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں کروں گا۔ اگر چار ماہ کے اندر قسم کا کفارہ ادا کرکے قسم توڑ دے تو نکاح قائم رہے گا ‘ورنہ ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائیگی۔
مطلّقہ عورت کی عدت
آیت نمبر 228 میں یہ بتایا کہ مطلّقہ عورت کی عدت ایامِ مخصوص کے تین دورانیوں کی تکمیل ہے۔آیت نمبر 229 میں یہ حکم بیان ہوا کہ دو صریح طلاقیں دینے کے بعد بھی شوہر کو یکطرفہ طور پر رجوع کا حق حاصل ہے اور اگر تیسری طلاق دے دی ‘ تو بیوی اس پر حرام ہو جائے گی ، سوائے ‘اس کے کہ وہ عورت عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کرے۔ اس میں خلع کا بھی بیان ہے۔
طلاقِ رجعی
آیت نمبر231 اور 232 میں یہ بیان ہوا کہ عورت کو طلاقِ رجعی دینے کے بعد اگر خوش دلی سے اور حسن سلوک کے ساتھ اپنے نکاح میں رکھنے کا ارادہ ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لو۔
رضاعت
آیت نمبر 233 میں کہا گیا ہے کہ ’’رِضاعت‘‘ کی مدت دو سال ہے۔اگر دو سال سے کم مدت میں ماں کا دودھ چھڑانے سے بچے کی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو یا دوسری غذاؤں سے اس کی ضرورت پوری ہوسکتی ہو تو اس مدت کی تکمیل اس صورت میں مستحب ہے۔ اگر خدانخواستہ شیر خوار بچے کی ماں کو طلاق ہو جائے تو دودھ پلانا پھر بھی ماں کی ذمہ داری ہے،اخراجات بچے کے باپ کے ذمے ہونگے۔
کامل نیکی
آیت نمبر177 میں بتایا کہ اصل نیکی صرف عبادت کے وقت مشرق و مغرب کی جانب رُخ کرنے کا نام نہیں‘ بلکہ کامل نیکی ایک جامع پیکیج کا نام ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ‘ یومِ قیامت ‘ ملائک ‘ تمام الہامی کتب اور سارے انبیاء کرام پر ایمان۔‘ اس کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ‘نظامِ صلوٰۃ و زکوٰۃ کا قیام‘ ایفائے عہد اور ہرمصیبت کے وقت صبرو استقامت۔ پھر فرمایا کہ درحقیقت جو لوگ ان تمام صفات کے حامل ہیں‘ وہی دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔
رسول اللہؐ کی روشن نشانیاں
یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی جو روشن نشانیاں بتائی گئی ہیں ‘ ان کی روشنی میں اہلِ کتاب رسول اللہﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘ لیکن ان کے انکار کا سبب صرف کتمانِ حق ہے۔اسی سورت میں رسول کریمﷺ کی بعثت اور منصبِ نبوت کے فرائض کو ایک بار پھر بیان کیا گیا‘یعنی تلاوتِ آیاتِ الٰہی تزکیۂ باطن اور تعلیم کتاب وحکمت۔
قسم کا کفارہ
آیت نمبر 224 اور 225 میں اس امر کا بیان ہے کہ اگر کسی نے ایسی قسم کھا لی‘ جس پر قائم رہنا شریعت کی رو سے ناپسندیدہ ہے تو چاہیے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کرے،فرمایا ’’اور تم نیکی ‘ تقویٰ اور لوگوں کی خیر خواہی سے بچنے کیلئے اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کو بہانہ نہ بناؤ‘‘
حقیقتِ ایمان
آیت 207اور 208 میں بتایا کہ حقیقت ِ ایمان‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنی جان کا سودا ہے اور اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض کو رد کرنے کا نام نہیں‘ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریمﷺ کے تمام احکام کو من و عن قبول کیاجائے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ بعض باتیں آپ کو پسند ہوں‘ تواُنہیں قبول کرلیں اورجو باتیں پسند نہ ہوں تو اُنہیں رَد کردیں۔
دوسرے پارے کا آغاز سورۃ البقرہ سے ہوتا ہے۔ دوسرے پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قبلہ کی تبدیلی کا ذکر کیا ہے۔
مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کے طرف چہرہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلہ کو تبدیل کر کے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے ۔ نبی ﷺ اس تمنا کے اظہار کیلئے کئی مرتبہ اپنے چہرہ مبارک کو آسمان کی طرف اُٹھایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی اس دلی تمنا کو پورا فرما کر بیت اللہ الحرام کو قبلہ بنا دیا۔ اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید بھی کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قبلہ کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ لینا چاہتا ہے کہ کون رسول اللہﷺ کا سچا پیرو کار ہے اور کون ہے جو اپنے قدموں پرپھر جانے والا ہو ۔ وگرنہ جہتیں توساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق ومغرب اللہ کیلئے ہیں اوروہ جس کو چاہتاہے صراطِ مستقیم پرچلا دیتاہے۔
رسول اللہؐ کی پہچان
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اہل کتاب کے پختہ علم والے لوگ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق چھپاتا ہے ۔
ذکر اللہ کا حکم
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا ــ‘‘ یہ بات با لکل واضح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارا ذکر کرنا شروع کر دے تو ہماری کوئی مصیبت اور کوئی دکھ باقی نہیں رہ سکتا ۔
صفاو مروہ کا ذکر
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں پس جو کوئی بھی حج اور عمر ہ کرے اس کو صفا اور مروہ کا طواف کرنا چاہیے ۔
رحمت خداوندی سے محروم لوگ
اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ایسے لوگوں پر اللہ اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔
قانونِ قصاص/ دیت کا ذکر
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قانونِ قصاص اور دیت کا ذکر کیا ۔اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ آزاد کے بدلے آزاد ، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا تاہم اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت لے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے لیکن زندگی بہر حال قصاص لینے میں ہی ہے۔
روزوں کی فرضیت
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو اس بات کی رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو وہ بعد میں کسی اور وقت اپنے روزوں کو پورا کر سکتے ہیں ۔
چاند کا گھٹنا بڑھنا
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتلائی کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے کیلنڈر کو دیکھنے کیلئے صرف آنکھوں کی ضرورت ہے۔ انسان کے پاس اگر بینائی ہو تو انسان صرف چاند کو دیکھ کر ہی وقت کا تعین کر سکتا ہے ۔
حج کے آداب
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حج کے آداب کا ذکر کیا کہ حج میں بے حیائی ،لڑائی اور جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اوریہ بھی کہا کہ حاجی کوزادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زاد ِراہ تقویٰ ہے ۔
سابقہ اُمتوں کا ذکر
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اُمتوں کے ان لوگوں کا بھی ذکرکیاہے جن کوایمان لانے کے بعد تکالیف، مصائب اور زلزلوں کو برداشت کرناپڑا۔اللہ تعالیٰ نے اہل ِایما ن کو سابقہ اُمتوں کی تکالیف سے اس لیے آگاہ فرمایا تاکہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جنت میں جاناآسان نہیں بلکہ اس کیلئے تکالیف اور آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ صحابہ کرام ث نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بڑا گہرا اثر لیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں بے مثال قربانیاں دیں۔ حضرت بلالؓ کو حرہ کی تپتی ہوئی سرزمین پرلٹایاگیا‘تپتی ریت پر ان کی کمر کو جھلسادیاگیا۔ ان کے سینے پر سنگ ِگراں ر کھاگیا ‘آپ کے سینے میں سانس تنگ ہوگیا لیکن پھر بھی آپؓ احد احد کا نعرہ لگاتے رہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کوظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ ابوجہل نے ان کے جسم کے نازک حصوں پرنیزوں کی اَنی کومارا اور ستم بالائے ستم کہ آپ کی ایک ٹانگ کوایک اونٹ کے ساتھ اوردوسری ٹانگ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ باندھا گیا۔ ایک اونٹ کوایک طرف ہانکا گیا اور دوسرے اونٹ کو دوسری سمت ہانکا گیا۔ سمیہ رضی اللہ عنہا کا وجود چرچرایااور دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ۔سمیہ رضی اللہ عنہا نے جام ِشہادت نوش فرما لیا لیکن اللہ کی توحید سے ہٹنا گوارہ نہیں کیا۔ صحابہ کرام ث کی طرح ہماری بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہرطرح کی قربانی دینے پرآمادہ اور تیار رہیں ۔
دین سے پھر جانے کا وبال
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دین سے پھر جانے کے وبال کابھی ذکر کیا کہ جو شخص اپنے دین سے منحرف ہو جائے گا اور کفر کی حالت میں مرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو ضائع کر دیں گے ۔
شراب اور جوئے کا نقصان
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں بتلایا کہ گو اِن میں بعض فائدے والی باتیں بھی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں اس لیے بنی نوع انسان کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
عورتوں کے مسائل
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ناپاکی کے ایام میں عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا اور طلاق کے مسائل کو بھی بیان فرمایا کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس دو دفعہ ہوتا ہے۔ اگر وہ مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق دے دے تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے لیکن اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر رجوع کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔
رضاعت کی مدت
اس کے بعد اللہ نے رضاعت کی مدت کا ذکر کیا کہ عورت اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلاسکتی ہے ۔ اس کی بعد اللہ نے بیوہ کی عدت کا ذکر کیا کہ بیوہ عورت کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن تک عدت پوری کرے ۔اس کے بعد اگر وہ کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو اس کو اس کی مکمل اجازت ہے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی حفاظت کا ذکر کیا کہ تمام نمازوں خصوصاًدرمیانی یعنی عصر کی نماز کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسرے پارے میں بیان کردہ مضامین کوسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، اوران سے حاصل ہونے والے اسباق پرعمل پیراہونے کی بھی صلاحیت عطا فرمائے ۔ آمین
متقی انسان کی صفات
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات ،یومِ حساب، تمام انبیا ء اور ملائکہ پر پختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کیلئے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو ‘نماز کو قائم کرنے والا ہو‘ زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو‘ وعدوں کو پورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی میں صبر کرنے والا ہو اورجس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے، وہی حقیقی متقی ہے ۔
صبر کا ثمر
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب ہو کر کہا ’’اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان مشکل میں ہو اس کو مصیبت سے نجات حاصل کرنے کیلئے نماز اور صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ، نصرت اور محبت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔
دعاکا ذکر
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں بہترین دے جبکہ بعض لوگ جو اِن کے مقابلے میں بہتر دعامانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’’اے پرور دگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ‘‘۔
یہ ترتیب کے اعتبار سے قرآن کی پہلی سورت ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی قرأت کو ہر نماز کی ہر رکعت میں واجب قرار دیا گیا ہے۔
یہ سات آیات پر مشتمل ہے اور ایک حدیث قدسی میں اسے ’’صلوٰۃ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، یعنی جب بندہ ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ پڑھتاہے،تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب بندہ ’’اَلرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھتاہے ‘تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی اور جب بندہ ’’مَالِکِ یَومِ الدِّیْنِ‘‘ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ میرے بندے نے میری عظمت وجلالت بیان کی اور جب بندہ ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن‘‘ پڑھتاہے‘ تو ندا آتی ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے، یعنی عبادت صرف میری کی جائے گی اور ہر مشکل میں مدد کے طلبگار بندے کی مدد کی جائے گی اور جب بندہ ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمِ‘‘ سے ’’وَلَا الضَّآلِّیْن‘‘ تک پڑھتا ہے تو چونکہ یہ کلماتِ دعا ہیں اور بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صراطِ مستقیم پر قائم ودائم رہنے کی دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آتی ہے کہ یہ میرے بندے کیلئے ہے اور میرے بندے نے سوال کیا ہے، وہ اُسے عطا ہو گا‘‘ (صحیح مسلم: 877)۔
سورۃ البقرہ
سورۃ البقرہ کی دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اگر قرآن کی حقانیت کے دلائل پر کوئی ٹھنڈے دل سے غور کرے تو اس پر عیاں ہو گا کہ اس کتاب میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کفار و مشرکین مکہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ نبی کریمﷺ کا اپنا بنایا ہوا کلام ہے۔ آیات 22 اور 23 میں ایسے تمام معاندین اور منکرین کو چیلنج کیا گیا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو تم سب مل کر اس جیسا کلام بنا کر لے آؤ اور تاریخ میں ایسا کوئی حوالہ نہیں ہے کہ قرآن کے اس چیلنج کو قبول کیا گیا ہو۔آیت3 تا 5 میں مومنین کی صفات ایمان بالغیب، اقامتِ صلوٰۃ‘ انفاق فی سبیل اللہ‘ کتبِ الٰہیہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان کا ذکر ہے۔ آیت 5 اور 6 میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کا کفر ظاہر و عیاں ہے اور وہ اپنی سرکشی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ان کا ہدایت پانا عملاً ناممکن ہے اور اُن پر ابدی شقاوت اور بدبختی کی مہر لگ چکی ہے۔
منافقین کا ذکر
آیت 8 تا 20 میں منافقین کا ذکر ہے، یہ انسانیت کا وہ طبقہ ہے جن کے ظاہر وباطن میں تضاد ہے،دنیوی مفاد کیلئے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دل ایمان سے خالی ہیں۔
دعوت توحید
آیت 21 اور 22 میں توحید کی دعوت اور شرک سے باز رہنے کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مختلف نعمتوں کا ذکر کر کے بتایا گیا کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی حیات دینے والا ہے اور وہی موت دینے والا ہے اور آخر کار سب کو اسی کی عدالت میں جانا ہے۔
بنی اسرائیل کا ذکر
اس کے بعد بنی اسرائیل اور اُن کی طرح طرح کی عہد شکنیوں‘ اُن پر مختلف انعامات اور اُن کی سرکشی کے مختلف انداز بیان کیے ہیں۔ پہلے تواللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی گئی اپنی کئی نعمتوں کا ذکر فرمایا جو یہ ہیں: فرعون اور فرعونیوں کے تسلُّط اور نسل کشی سے نجات دلانا‘ ان کیلئے سمندر کو پاٹ کر وادیِٔ سینا میں پہنچانا‘ وادیٔ سینا میں اُن پر طویل عرصے تک بادلوں کا سایہ فِگن ہونا‘ مَنّ وسَلویٰ کی صورت میں تیار خوانِ نعمت کا نازل کرنا‘ چٹان پر عصائے موسیٰ کی ضرب سے بارہ قبیلوں کیلئے بارہ چشموں کا جاری ہونا‘ گائے ذبح کرکے اس کے مقتول پر لَمس سے قاتل کا پتا چلانا‘ ان کو اپنے عہد کے لوگوں پر فضیلت دینا‘ بنی اسرائیل میں بکثرت انبیائے کرام کی بعثت وغیرہ‘ پھراس کے بعد اُن کی سرکشی کا تفصیلی بیان ہوا جس کی تفصیل یہ ہے: اﷲ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑنا‘ ان کے علماء کے قول و فعل کا تضاد‘ دنیاوی مال کی لالچ میں بااثر لوگوں کیلئے اَحکامِ الٰہی میں ردّ وبدل کرنا یا اَحکامِ الٰہی کو جان بوجھ کر چھپانا‘ موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر گئے توان کی عدم موجودگی میں بچھڑے کی پوجا کرنا‘ من وسلویٰ کی گراں قدر اور تیار سَماوی نعمت کو ٹھکرا کر زمینی اجناس طلب کرنا‘ انبیاء کو ناحق قتل کرنا‘ سَبت (ہفتہ) کے دن کی حرمت کو پامال کرنا‘ گائے ذبح کرنے کے سیدھے سادے حکم کو ماننے کے بجائے اس کے بارے میں کئی سوالات اٹھانا‘ تورات وانجیل میں سیدنا محمد رسول کریمﷺ کے بارے میں بیان کی گئی بشارتوں کو چھپانا‘ شوہر اور بیوی میں تفریق کیلئے جادو سیکھنا اور اس کا استعمال‘ اِشارات و کنایا ت اور لفظی رد وبدل کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی شان میں اہانت کرنا وغیرہ۔
رسول کریمؐ کی شان
آیت 104 میں واضح ارشاد ہوا کہ ’’اے اہل ایمان! (جب تمہیں نبی کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو دوبارہ بیان کیلئے) ’’رَاعِنَا‘‘ (یعنی ہماری رعایت کیجئے) نہ کہو (کیونکہ اسے یہود اور منافقین اہانت کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں‘ لہٰذا یوں کہو کہ) یا رسول اللہ! ہم پر توجہ فرمائیے اور ( اس سے بھی زیادہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے ہی نبی کی بات کو) خوب توجہ سے سنو‘‘۔ یعنی مومنوں کو رسول کریمﷺ کی شان میں ایسا کلمہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے جس کو کوئی بدفطرت شخص اشارۃًاہانت کے معنی میں استعمال کر سکتا ہو۔
جبرائیل ؑ سے عداوت
بنی اسرائیل جبرائیل ؑ سے اس لئے عداوت رکھتے تھے کہ ان کے ذریعے بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب نازل ہوا‘ تو اللہ نے فرمایا کہ جبرائیل و میکائیل اللہ تعالیٰ ہی کے احکام کو نازل کرتے ہیں‘ پس جو ان کا دشمن ہے‘ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ بنی اسرائیل کی اس خوش فہمی کو بھی رَد کیا گیا کہ وہ کسی استحقاق کے بغیر اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ اہلِ ایمان کو یہ بتایا گیاکہ جب تک تم یہود ونصاریٰ کی خواہشات کی پیروی نہ کرلو ‘وہ تم سے راضی نہیں ہو سکتے۔
حضرت آدم کا ذکر
آیت 30 تا 39 میں ہے کہ فرشتوں کے سامنے اﷲ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں آدم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں، فرشتوں نے اپنی فہم کے مطابق‘ بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ بنی آدم زمین میں فساد و خون ریزی کریں گے اور اے اﷲ! ہم ہمہ وقت تیری تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں جن اَسرار اور حکمتوں کو جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور پھر نعمت علم کے ذریعے آدم علیہ السّلام کی فضیلت اور برتری کو فرشتوں پر ثابت کیا۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرو اور ابلیس لعین کے سوا تمام ملائک نے حکمِ ربّانی کی بلا چوں و چرا تعمیل کی۔ پھر آدم و حوا علیہما السلام کے جنت میں داخل کرنے اور وہاں اُن کیلئے اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں سے استفادے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ایک درخت کے قریب نہ جانے کی پابندی کا ذکر ہے۔ اسی کے ساتھ ابلیس لعین کے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے ‘ حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو بہکانے اور جنت سے نکالے جانے کا ذکر ہے اور پھر آدم علیہ السلام کو توبہ کے کلمات اِلقا کیے جانے‘ ان کلمات سے ان کی توبہ اور توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔ یہ کلماتِ توبہ سورۂ اعراف کی آیت 23 میں مذکور ہیں ’’اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی‘ پس اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔
سورۃالفاتحہ کے دیگر نام
سورۃ الفاتحہ کو سورۃ الدعا، سورۃ الشفاء، سورۃ الکنز، سورۃ الواقیہ، سورۃ الکافیہ، سورۃ الرُّقیہ اور سورۃ الحمد کے ناموں سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی عظمت کا بیان ہے، اس امر کا بیان ہے کہ عبادت کی حقدار صرف اسی کی ذات پاک ہے اور صرف اسی سے مدد طلب کی جائے، اس میں اللہ کی بارگاہ سے دعا والتجاکے آداب بیان کیے گئے ہیں۔
تذکرہ ابراہیم ؑ
آیت 123 اور اس کے بعد کی آیات میں حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے منصبِ امامت پر فائز کیے جانے کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کے بیت اللہ کو تعمیر کرنے کاذکر ہے اوراس امر کا بیان ہے کہ تعمیر ِ بیت اللہ کے بعد انہوں نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کی: اے ہمارے رب اِن (اہلِ مکہ) میں‘ انہی میں ایک عظیم رسول کو مبعوث فرما‘ جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔ اسی لئے رسولﷺ فرماتے تھے کہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت اور حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا ثمر ہوں۔
پہلے پارے کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے۔ اس سورہ کو اُمّ الکتاببھی کہا جاتا ہے۔ حدیث پاک کے مطابق سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام امراض کی شفا رکھی ہے۔ سورہ فاتحہ کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے۔
بسم اللہ کی تلاوت کے ذریعے اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم ہر کام کا آغاز اللہ کے بابرکت نام کے ساتھ کرتے ہیں‘ جو نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ میں اللہ کی حمد اور ثنا کا بیان ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں جو مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔
یومِ جزا
اس کے بعد اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوم جزا کا مالک ہے۔ یومِ جزا ایک ایسا دن ہے‘ جس میں جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ ہر ظالم‘ کافر اور غاصب کو اپنے کیے کا جواب دینا پڑے گا۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ میں اس عقیدے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرنے والے اور تجھ ہی سے مدد مانگنے والے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی طلب کی گئی ہے جو کہ ان لوگوں کا راستہ ہے‘ جن پر اللہ کا انعام ہوا اور ان لوگوں کا راستہ نہیں‘ جو اللہ کے غضب کا نشانہ بنے یا گمراہ ہوئے۔
سورۃ البقرہ
سورہ فاتحہ کے بعد سورہ بقرہ ہے۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں تین گروہوں کا ذکر کیا گیا، ایک ایمان والوں کا گروہ‘ جن کا اللہ، یومِ حساب، قرآن اور سابقہ کتب پر ایمان ہے اور جو نمازوں کو قائم کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ دوسرا کافروں کا گروہ ہے‘ جو کسی بھی طور پر ایمان اور اسلام کے راستے کو اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ تیسرا گروہ منافقین کا ہے‘ جو بظاہر تو ایمان کا دعویدار ہے‘ لیکن ان کے دِلوں میں کفر چھپا ہوا ہے۔
حضرت آدمؑ کا ذکر
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے جدِ امجد جناب آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش کاواقعہ ان تمام سوالوں کا جواب پیش کرتا ہے کہ انسان کی پیدائش کب‘ کیوں اور کیسے ہوئی۔ انسانوں کی تخلیق سے قبل زمین پر جنات آباد تھے‘ جنہوں نے زمین پر سرکشی اور بغاوت کی‘ جسے کچلنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو جس میں ابلیس (عزازیل) بھی شامل تھا‘ روانہ کیا۔ ابلیس، اگرچہ گروہ جنات سے تھا‘ لیکن مسلسل بندگی کی وجہ سے وہ فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔ اس بغاوت کوکچلنے کے بعد ابلیس کے دل میں ایک خفیہ تکبرکی کیفیت پیدا ہو گئی جس سے اللہ علیم و قدیر پوری طرح آگاہ تھا۔
شجر ممنوعہ
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں آباد فرمایا تو ان کو ہر چیز کھانے پینے کی اجازت دی ‘مگر ایک مخصوص درخت کے قریب جانے اور اس کا پھل کھانے سے روک دیا۔ ابلیس جو کہ آتشِ انتقام میں جل رہا تھا‘ اس نے آدم علیہ السلام اور جناب حوا علیہا السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ آپ کو شجر ممنوعہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں آپ کو ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔ آدم اور ان کی اہلیہ حوا علیہما السلام وسوسے میں مبتلا ہو کر شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ اس پر خفگی کا اظہار فرماتے ہیں اور ان سے لباسِ جنت اور جنت کی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں اور ان کو جنت سے زمین پر اُتار دیتے ہیں۔ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام جب معاملے پر غور کرتے ہیں تو انتہائی نادم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دُعا مانگتے ہیں۔ اے ہمارے پروردِگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقینا خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام جب اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں تو اللہ ان کی خطا کو معاف فرما دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس امر کا بھی اعلان کر دیتے ہیں کہ زمین پر رہو میں تمہارے پاس اپنی طرف سے ہدایت بھیجوں گا۔ پس‘ جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا‘ نہ اس کو غم ہو گا‘ نہ خوف۔
یہودیوں پر احسانات
اس پارہ میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کی نافرمانیوں اور ناشکریوں کا بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ کو نازل فرمایا، ان کو رزق کی تگ و دو کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر بادلوں کو سایہ فگن فرما دیا اور ان کو دھوپ سے محفوظ فرما دیا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بارہ چشموں کو جاری فرمایا لیکن ان تمام نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد بھی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نا شُکری کرتے رہے۔
انسان کی تخلیق
اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر انسانوں کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا اور فرشتوں سے مخاطب ہو کرکہا: میں زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتے اس سے قبل زمین پر جنات کی یورش دیکھ چکے تھے، چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ! تُو زمین پر اُسے پیدا کرے گا‘ جو خون بہائے گا اور فساد پھیلائے گا‘ جبکہ ہم تیری تعریف اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ اللہ نے کہا: جو میں جانتا ہوں‘ تم نہیں جانتے۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنانے کے بعد ان کو علم کی دولت سے بہرہ ور فرمایا اور ان کو اشیا کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔ اس کے بعد فرشتوں اور آدم علیہ السلام کو جمع کر کے بعض اشیا کے ناموں کے بارے میں ان سے سوالات کیے‘ چونکہ فرشتے ان اشیا سے بے خبر تھے‘ اس لیے انہوں نے اللہ کی پاکیزگی کا اعتراف اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو ان اشیا کا نام بتلانے کا حکم دیا تو انہوں نے ان اشیا کے نام فوراً بتلا دیے۔ اللہ نے فرشتوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ میں زمین و آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو‘ اس کو بھی جانتا ہوں۔ جب آدم علیہ السلام کی فضیلت ظاہر ہو گئی‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کے سامنے جُھک جائیں۔ فرشتوں میں چونکہ سرکشی نہیں ہوتی‘ اس لیے تمام فرشتے آدم علیہ السلام کے سامنے جُھک گئے؛ تاہم ابلیس نے آدم علیہ السلام کی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس تکبر پر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل و خوار کر کے اپنی رحمت سے دُور فرما دیا اور آدم علیہ السلام کو ان کی اہلیہ کے ساتھ جنت میں آباد فرمایا۔ ابلیس نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہتی دنیا تک آدم علیہ السلام اور ان کی ذُریت کو راہِ ہدایت سے بھٹکانے کیلئے سرگرم رہے گا۔
مشرکین کو چیلنج
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ان کو چاہیے کہ قرآن کی کسی سورت جیسی کوئی سورت لے کر آئیں، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے کہ اس آگ سے ڈر جائیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔
حضرت ابراہیم کا تذکرہ
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا بھی ذکرکیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کیلئے اللہ تعالیٰ کے گھرکو تعمیر فرمایا۔ تعمیر فرمانے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی: اے باری تعالیٰ ہمارے عمل کو قبول فرما‘ بے شک تو سننے اور جاننے والا ہے۔ آ پ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا بھی مانگی: اے اللہ! اہلِ حرم کی رہنمائی کیلئے ایک ایسا رسول بھی مبعوث فرمایا جو ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم د ے اور ان کو پاک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما کرجناب محمد رسول اللہﷺ کو مبعوث فرمایا۔ دُعا ہے کہ اللہ ہمیں پہلے پارے کے مضامین کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے، آمین!