مفتی منیب الرحمن


دوسرے پارے کا آغاز اس بیان سے ہے کہ اب مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کیا جا رہا ہے اور ہٹ دھرم لوگ اور منافقین اس پر اعتراض کریں گے کہ یہ کیوں ہوا۔

 دراصل رسول اللہﷺ کے مدنی دور کی ابتدا میں سولہ‘ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رُخ کر کے نمازیں پڑھی گئیں ‘ پھر ایک دن نمازِظہر کے دوران رسول کریمﷺ کی خواہش پر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو قبلۂ نماز بنانے کا حکم نازل فرمایا۔ اس تحویلِ قبلہ کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دی ’’اور (اے رسول) جس قبلہ پر آپ پہلے تھے‘ ہم نے اس کو قبلہ اس لیے بنایا تھاتاکہ ہم ظاہر کردیں کہ کون (غیر مشروط طور پر) رسول کی پیروی کرتا ہے اور اس کو اُس سے ممتاز کردیں‘ جو اپنی ایڑیوں پر (کفر کی جانب) پلٹ جاتا ہے‘‘۔یہ بھی فرمایا ’’بیشک ہم نے بارہا(وحی کے انتظار میں) آپ کو آسمان کی طرف رخ پلٹتے ہوئے دیکھا ہے ‘ سو ہم آپ کو ضرور بالضرور اُسی قبلہ کی جانب پھیر دیں گے ‘ جو آپ کو پسند ہے، پس آپ اپنا رخ مسجد حرام کی جانب پھیر لیں‘‘۔ آگے چل کر پھر فرمایا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہو اُسے نماز کے وقت اپنا رخ مسجد حرام کی جانب پھیر دینا چاہیے اور اس پر اہل ِکتاب سے کوئی سودے بازی یا مفاہمت نہیں ہوسکتی۔

صبر کی تلقین

آیات 153 تا 156 میں ہر مصیبت کے وقت صبر اور نماز کو اللہ تعالیٰ کی نصرت کا وسیلہ بنانے کی تعلیم دی گئی ہے اور راہِ حق میں پیش آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہے ‘ جو (دشمن کے) خوف‘ بھوک ‘ جان ومال اور اولاد کے تلف ہونے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ ان مشکلات میں اہلِ صبر کو بشارتیں دی گئی ہیں اور اللہ کی راہ میں درجۂ شہادت پانے والوں کیلئے ابدی زندگی کی بشارت دی گئی ہے۔

 دائمی عذاب کی وعید

آیات 159 تا 163 میں بتایا گیا کہ جو لوگ دین کی حقانیت کے روشن دلائل اور پیغامِ ہدایت کو چھپاتے ہیں‘ اُن پر اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں کی لعنت اور دائمی عذاب کی وعید ہے۔ جو توبہ کرلے اوراپنی اصلاح کرلے اُن کیلئے توبہ کی قبولیت کا دروازہ کھلا ہے۔

قدرت کی نشانیاں

آیات 164 تا 167 میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر ہے‘ یعنی زمین وآسمان کی پیدائش ‘گردشِ لیل ونہار کا نظام ‘ سمندروں میں انسانی فائدے کیلئے کشتیوں اور جہازوں کا رواں دواں رہنا ‘ بارش کے قدرتی نظام کے ذریعے خشک اور بنجر زمین کا دوبارہ زرخیز اور آباد ہونا‘ ہواؤں کا چلنااور آسمان اور زمین کے درمیان بادلوں کا معلق رہنا وغیرہ۔ یہ بھی بتایا کہ مشرکوں کوجتنی اپنے باطل معبودوں سے محبت ہے ‘ اہلِ ایمان کو اُس سے بہت زیادہ اللہ سے محبت ہے۔

حرام چیزوں کا بیان

 آیات 172 تا 173 میں حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ پھر چار حرام چیزوں کا بیان ہوا یعنی: مردار (اس سے وہ حلال جانور مراد ہے‘جو طبعی موت مر گیا ہو)، ذبح کے وقت بہنے والا خون‘ خنزیز کا گوشت اور وہ حلال جانورجس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔صرف حالتِ اضطرار میں محض بقائے حیات کیلئے بقدرِ ضرورت ان کے استعمال کو مباح قرار دیا گیا۔ 

 قانونِ قصاص

178 اور 179 میں قانونِ قصاص کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس معاشرے میں قانونِ قصاص عملاً نافذ نہیں ‘ وہاں آئے دن بے قصور انسانوں کی جان ‘ مال اور آبرو کی حرمت پامال ہو رہی ہے۔

چار مہینوں کی حرمت

آیت نمبر 194میں چار مہینوں کی حرمت کا بیان ہے۔ آیات 195 سے 203 تک حج ، عمرے اور حج کے بعض مسائل کا بیان ہے۔ 

نظامِ رسالت

آیت نمبر213 میں بتایا گیا کہ تمام لوگ اصل کے اعتبار سے ایک تھے‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نظامِ رسالت قائم فرمایا ‘ ہر دور کے لوگوں کیلئے کتابِ ہدایت نازل کی‘ اُس کے بعد انسانیت دو گروہوں میں بٹ گئی ایک اہلِ حق ‘ یعنی انبیاء کرام کے پیرو کار اور دوسرے اہلِ باطل‘ یعنی خواہشاتِ نفس اور شیطان کے پیروکار۔

 جنت کا حقدار 

آیت نمبر 214 میں یہ بتایا گیا کہ جنت کا حقدار بننے کیلئے محض دعویٰ ایمان کافی نہیں‘ بلکہ اُس کیلئے راہِ حق میں مشکلات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ جیسا کہ انبیائے کرام اور ان کے سچے پیرو کاروں کی روشن مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

انفاق فی سبیل اللہ /جہاد

 آیت نمبر 215 میں انفاق فی سبیل اللہ کے مصارف کا بیان ہے اور اگر آیت نمبر 219 کو اس سے ملا کر سمجھا جائے تو اس امر کا بیان ہے کہ جو مال تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو ‘ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی آیت میں شراب اور جوئے کی حُرمت کا ابتدائی بیان ہے کہ ان کے نفع کے مقابلے میں ان کا گناہ بہت بڑا ہے۔آیت نمبر 216 میں جہاد کی فرضیت کا بیان ہے۔

 آیت نمبر 221 میں مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کا بیان ہے۔ آیت نمبر 222 میں اس امر کا بیان ہے کہ ایامِ مخصوص (حالتِ حیض و نفاس) میں عورت سے مباشرت منع ہے۔

’’ایلا‘‘

آیت نمبر 226 اور 227 میں ’’ایلا‘‘ کا بیان ہے۔ ’’ایلا‘‘ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہے کہ اللہ کی قسم چار ماہ تک یا ہمیشہ کیلئے تمہارے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں کروں گا۔ اگر چار ماہ کے اندر قسم کا کفارہ ادا کرکے قسم توڑ دے تو نکاح قائم رہے گا ‘ورنہ ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائیگی۔ 

مطلّقہ عورت کی عدت

آیت نمبر 228 میں یہ بتایا کہ مطلّقہ عورت کی عدت ایامِ مخصوص کے تین دورانیوں کی تکمیل ہے۔آیت نمبر 229 میں یہ حکم بیان ہوا کہ دو صریح طلاقیں دینے کے بعد بھی شوہر کو یکطرفہ طور پر رجوع کا حق حاصل ہے اور اگر تیسری طلاق دے دی ‘ تو بیوی اس پر حرام ہو جائے گی ، سوائے ‘اس کے کہ وہ عورت عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کرے۔ اس میں خلع کا بھی بیان ہے۔ 

 طلاقِ رجعی 

آیت نمبر231 اور 232 میں یہ بیان ہوا کہ عورت کو طلاقِ رجعی دینے کے بعد اگر خوش دلی سے اور حسن سلوک کے ساتھ اپنے نکاح میں رکھنے کا ارادہ ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لو۔

رضاعت

آیت نمبر 233 میں کہا گیا ہے کہ ’’رِضاعت‘‘ کی مدت دو سال ہے۔اگر دو سال سے کم مدت میں ماں کا دودھ چھڑانے سے بچے کی زندگی کو کوئی خطرہ نہ ہو یا دوسری غذاؤں سے اس کی ضرورت پوری ہوسکتی ہو تو اس مدت کی تکمیل اس صورت میں مستحب ہے۔ اگر خدانخواستہ شیر خوار بچے کی ماں کو طلاق ہو جائے تو دودھ پلانا پھر بھی ماں کی ذمہ داری ہے،اخراجات بچے کے باپ کے ذمے ہونگے۔ 

کامل نیکی

آیت نمبر177 میں بتایا کہ اصل نیکی صرف عبادت کے وقت مشرق و مغرب کی جانب رُخ کرنے کا نام نہیں‘ بلکہ کامل نیکی ایک جامع پیکیج کا نام ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ‘ یومِ قیامت ‘ ملائک ‘ تمام الہامی کتب اور سارے انبیاء کرام پر ایمان۔‘ اس کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ‘نظامِ صلوٰۃ و زکوٰۃ کا قیام‘ ایفائے عہد اور ہرمصیبت کے وقت صبرو استقامت۔ پھر فرمایا کہ درحقیقت جو لوگ ان تمام صفات کے حامل ہیں‘ وہی دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔

رسول اللہؐ کی روشن نشانیاں

یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی جو روشن نشانیاں بتائی گئی ہیں ‘ ان کی روشنی میں اہلِ کتاب رسول اللہﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘ لیکن ان کے انکار کا سبب صرف کتمانِ حق ہے۔اسی سورت میں رسول کریمﷺ کی بعثت اور منصبِ نبوت کے فرائض کو ایک بار پھر بیان کیا گیا‘یعنی تلاوتِ آیاتِ الٰہی تزکیۂ باطن اور تعلیم کتاب وحکمت۔

قسم کا کفارہ

 آیت نمبر 224 اور 225 میں اس امر کا بیان ہے کہ اگر کسی نے ایسی قسم کھا لی‘ جس پر قائم رہنا  شریعت کی رو سے ناپسندیدہ ہے تو چاہیے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کرے،فرمایا ’’اور تم نیکی ‘ تقویٰ اور لوگوں کی خیر خواہی سے بچنے کیلئے اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کو بہانہ نہ بناؤ‘‘ 

 حقیقتِ ایمان

آیت 207اور 208 میں بتایا کہ حقیقت ِ ایمان‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنی جان کا سودا ہے اور اسلام بعض چیزوں کو قبول کرنے اور بعض کو رد کرنے کا نام نہیں‘ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریمﷺ کے تمام احکام کو من و عن قبول کیاجائے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ بعض باتیں آپ کو پسند ہوں‘ تواُنہیں قبول کرلیں اورجو باتیں پسند نہ ہوں تو اُنہیں رَد کردیں۔