علامہ ابتسام الہٰی ظہیر


دوسرے پارے کا آغاز سورۃ البقرہ سے ہوتا ہے۔ دوسرے پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے قبلہ کی تبدیلی کا ذکر کیا ہے۔

 مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کے طرف چہرہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلہ کو تبدیل کر کے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے ۔ نبی ﷺ اس تمنا کے اظہار کیلئے کئی مرتبہ اپنے چہرہ مبارک کو آسمان کی طرف اُٹھایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی اس دلی تمنا کو پورا فرما کر بیت اللہ الحرام کو قبلہ بنا دیا۔ اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید بھی کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قبلہ  کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ لینا چاہتا ہے کہ کون رسول اللہﷺ کا سچا پیرو کار ہے اور کون ہے جو اپنے قدموں پرپھر جانے والا ہو ۔ وگرنہ جہتیں توساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق ومغرب اللہ کیلئے ہیں اوروہ جس کو چاہتاہے صراطِ مستقیم پرچلا دیتاہے۔ 

رسول اللہؐ کی پہچان

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اہل کتاب کے پختہ علم والے لوگ رسول اللہ ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق چھپاتا ہے ۔

ذکر اللہ کا حکم

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا ــ‘‘ یہ بات با لکل واضح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارا ذکر کرنا شروع کر دے تو ہماری کوئی مصیبت اور کوئی دکھ باقی نہیں رہ سکتا ۔

 صفاو مروہ کا ذکر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں پس جو کوئی بھی حج اور عمر ہ کرے اس کو صفا اور مروہ کا طواف کرنا چاہیے ۔

رحمت خداوندی سے محروم لوگ

اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ایسے لوگوں پر اللہ اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ 

قانونِ قصاص/ دیت کا ذکر

 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قانونِ قصاص اور دیت کا ذکر کیا ۔اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ آزاد کے بدلے آزاد ، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا تاہم اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت لے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے لیکن زندگی بہر حال قصاص لینے میں ہی ہے۔

روزوں کی فرضیت

 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو اس بات کی رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو وہ بعد میں کسی اور وقت اپنے روزوں کو پورا کر سکتے ہیں ۔

چاند کا گھٹنا بڑھنا

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتلائی کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے کیلنڈر کو دیکھنے کیلئے صرف آنکھوں کی ضرورت ہے۔ انسان کے پاس اگر بینائی ہو تو انسان صرف چاند کو دیکھ کر ہی وقت کا تعین کر سکتا ہے ۔

حج کے آداب

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حج کے آداب کا ذکر کیا کہ حج میں بے حیائی ،لڑائی اور جھگڑے والی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اوریہ بھی کہا کہ حاجی کوزادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زاد ِراہ تقویٰ ہے ۔

سابقہ اُمتوں کا ذکر

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اُمتوں کے ان لوگوں کا بھی ذکرکیاہے جن کوایمان لانے کے بعد تکالیف، مصائب اور زلزلوں کو برداشت کرناپڑا۔اللہ تعالیٰ نے اہل ِایما ن کو سابقہ اُمتوں کی تکالیف سے اس لیے آگاہ فرمایا تاکہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جنت میں جاناآسان نہیں بلکہ اس کیلئے تکالیف اور آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ صحابہ کرام ث نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا بڑا گہرا اثر لیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں بے مثال قربانیاں دیں۔ حضرت بلالؓ کو حرہ کی تپتی ہوئی سرزمین پرلٹایاگیا‘تپتی ریت پر ان کی کمر کو جھلسادیاگیا۔ ان کے سینے پر سنگ ِگراں ر کھاگیا ‘آپ کے سینے میں سانس تنگ ہوگیا لیکن پھر بھی آپؓ احد احد کا نعرہ لگاتے رہے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کوظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ ابوجہل نے ان کے جسم کے نازک حصوں پرنیزوں کی اَنی کومارا اور ستم بالائے ستم کہ آپ کی ایک ٹانگ کوایک اونٹ کے ساتھ اوردوسری ٹانگ کو دوسرے اونٹ کے ساتھ باندھا گیا۔ ایک اونٹ کوایک طرف ہانکا گیا اور دوسرے اونٹ کو دوسری سمت ہانکا گیا۔ سمیہ رضی اللہ عنہا کا وجود چرچرایااور دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ۔سمیہ رضی اللہ عنہا نے جام ِشہادت نوش فرما لیا لیکن اللہ کی توحید سے ہٹنا گوارہ نہیں کیا۔ صحابہ کرام ث کی طرح ہماری بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہرطرح کی قربانی دینے پرآمادہ اور تیار رہیں ۔ 

دین سے پھر جانے کا وبال

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دین سے پھر جانے کے وبال کابھی ذکر کیا کہ جو شخص اپنے دین سے منحرف ہو جائے گا اور کفر کی حالت میں مرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو ضائع کر دیں گے ۔

شراب اور جوئے کا نقصان

اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں بتلایا کہ گو اِن میں بعض فائدے والی باتیں بھی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں اس لیے بنی نوع انسان کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

عورتوں کے مسائل

 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ناپاکی کے ایام میں عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا اور طلاق کے مسائل کو بھی بیان فرمایا کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس دو دفعہ ہوتا ہے۔ اگر وہ مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق دے دے تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے لیکن اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر رجوع کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔

رضاعت کی مدت 

اس کے بعد اللہ نے رضاعت کی مدت کا ذکر کیا کہ عورت اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلاسکتی ہے ۔ اس کی بعد اللہ نے بیوہ کی عدت کا ذکر کیا کہ بیوہ عورت کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن تک عدت پوری کرے ۔اس کے بعد اگر وہ کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو اس کو اس کی مکمل اجازت ہے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی حفاظت کا ذکر کیا کہ تمام نمازوں خصوصاًدرمیانی یعنی عصر کی نماز کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسرے پارے میں بیان کردہ مضامین کوسمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، اوران سے حاصل ہونے والے اسباق پرعمل پیراہونے کی بھی صلاحیت عطا فرمائے ۔ آمین

متقی انسان کی صفات

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات ،یومِ حساب، تمام انبیا ء اور ملائکہ پر پختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کیلئے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو ‘نماز کو قائم کرنے والا ہو‘ زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو‘ وعدوں  کو پورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی میں صبر کرنے والا ہو اورجس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے، وہی حقیقی متقی ہے ۔

صبر کا ثمر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو مخاطب ہو کر کہا ’’اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو بیشک اللہ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان مشکل میں ہو اس کو مصیبت سے نجات حاصل کرنے کیلئے نماز اور صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ، نصرت اور محبت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔

 دعاکا ذکر

 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں بہترین دے جبکہ بعض لوگ جو اِن کے مقابلے میں بہتر دعامانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’’اے پرور دگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ‘‘۔