|
|
|
|
|
|
دنیا ٹی وی کے پروگرام”دین و دانش جاوید احمد غامدی کے ساتھ“میں غامدی صاحب نے رمضان المبارک کے حوالے سے چند عملی مسائل کے بارے میںجوابات دئیے۔ قارئین کے استفادے کے لیے اس گفتگو کی ترتیب اور تلخیص کا کام دنیا ٹی وی کے شعبہ مذہبی امور نے انجام دیا ہے۔تفصیل کے طالب دنیا ٹی وی کی ویب سائٹ پریہ پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔
سوال: بچوں کے سلسلے میں روزوں کی فرضیت کا کیا حکم ہے اور اس بارے میںوالدین کوکیا کرنا چاہیے؟
جواب: کسی پر روزہ اسی وقت فرض ہو گا جب وہ عاقل و بالغ ہو گا۔ جب تک اس کو چیزوں کا فہم اور جسمانی بلوغ حاصل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کوئی بھی عبادت اور ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔ یہ بات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی واضح کر دی ہے اور عقل عام کا بھی یہی تقاضا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب تک بچہ بالغ نہیں ہو جاتا، سویا ہوا اٹھ نہیں جاتا، اگر کسی آدمی پر کوئی غشی طاری ہے ، وہ اس سے نکل نہیں آتا، اس وقت تک اس پر کوئی ذمہ دای عائد نہیں ہوتی۔ ذمہ داری کا تعلق عقل اور شعور سے ہے۔ آدمی اس وقت مکلف بنتا ہے، جب وہ عاقل اور بالغ ہو جاتا ہے۔
جہاں تک روزے کا معاملہ ہے تو یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے لیے آدمی کو کچھ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی پہلے عادت ڈالنی پڑتی ہے۔ اگر ہم شروع میں کسی سے کہیں کہ تم بھوکے رہو تو یہ اس کے لیے آسان نہیں ہو گا،اس لیے بچوں کو روزے کا عادی کرنے کے لیے ہم ان کو روزہ رکھنا سکھاتے ہیں، یہ بالکل ایسے ہی جیسے ہم بچوں کو نماز یا اس طرح کی اور بہت سی چیزوں کی ترغیب دیتے ہیں۔ جو والدین بچوں کو چھ سات سال کی عمر میں روزہ رکھواتے ہیں یہ اصل میں ان کو روزے کی تربیت اور ترغیب دلانا ہے۔ اور اس کے لیے کوئی خاص عمر بیان نہیں ہوئی ہے کہ فلاں عمر میں والدین بچوں کو اس کی ترغیب یا تعلیم دیں، بلکہ والدین جب یہ دیکھیں کہ بچے کی سکت اتنی ہو گئی ہے کہ وہ روزہ نبھا سکے گا، وہ کچھ سمجھنے بھی لگ گیا ہے تو وہ اس کو روزہ رکھوانا شروع کرا سکتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ترغیب اور توجہ دلانے کے لیے ہوگا، فرض تو اسی وقت ہو گا جب وہ عاقل و بالغ ہو جائے گا۔ (12-9-9)
|
|
|
|
|
|
|
روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنا |
|
|
سوال: کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کر سکتے ہیں؟
جواب:روزے کی حالت میں پیسٹ کی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی مسواک کرتا ہے۔ اگر کوئی آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا ذائقہ حلق میں جاتا ہے یا اس طرح کی کوئی اور چیز محسوس کرتا ہے اور مسواک کو ترجیح دیتا ہے تو اچھی بات ہے، لیکن یہ جو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پیسٹ سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے، میرے خیال میں یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔(۰۹۔۰۸۔۲۹) |
|
|
|
|
|
|
|
سوال: اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو اس کو کیا کفارہ ادا کرنا ہو گا؟
جواب: اگر کوئی شخص کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس نے کسی وقتی مجبوری کے تحت روزہ چھوڑا ہے توجیسے ہی مجبوری ختم ہو جائے گی اس کو روزہ رکھنا پڑے گا۔ اور اگر مجبوری کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے ختم ہونے کا امکان نہیں ہے تو پھر فدیہ دینا چاہیے ۔ اور یہ فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔(۰۹۔۰۸۔۲۹) |
|
|
|
|
|
|
|
سوال:نماز تراویح کی رکعتوں کی صحیح تعدا کیا ہے۔ نیز یہ کہ چار تراویح کے بعد جو تسبیح کے الفاظ پڑھے جاتے ہیں کیا یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں؟
جواب: میں نے تراویح کے بارے میں جہاں تک تحقیق کی ہے اس سے میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ درحقیقت تہجد کی نماز ہے ۔ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے وقت میں پڑھنا شروع فرمایا ہے۔ اسی سے یہ روایت قائم ہوئی کہ اس کو لوگوں نے عشا کے بعد پڑھنا شروع کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ مسجد میں یہی تہجد کی نماز( جس کو پہلے وقت میں عشا کے بعد پڑھنا حضور نے مشروع کر دیا تھا) پڑھ رہے تھے، لیکن کوئی تنہا پڑھ رہا تھا اور کچھ کسی امام کے پیچھے پڑھ رہے تھے۔ اس سے مسجد میں ایک بدنظمی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں صرف یہ کیا کہ اس بدنظمی کو دور کر دیا، اور یہ فرمایا کہ کسی ایک آدمی کو امام مقرر کر لو۔
خلفاے راشدین بذات خود بھی اس کا بالکل اہتمام نہیں کرتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس معاملے میں جتنے بھی آثار بیان ہوئے ہیں۔ اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ خلفاے راشدین تہجد ہی کے وقت نماز پڑھتے تھے۔ موطا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس کے اوپر تبصرہ نقل ہوا ہے کہ جس کو چھوڑ کر تم یہ نماز پڑھ رہے ہو، وہ اس سے کہیں بہتر ہے۔ اس وجہ سے تہجد کا وقت ہی اس کا اصل وقت ہے۔ اللہ توفیق دے تو اس وقت پڑھنی چاہیے۔ لیکن اب جو مسلمانوں نے قرآن سننے کی بہت اچھی ایک روایت قائم کر لی ہے، یہ بھی بالکل جائز ہے اور اس میںکوئی حرج کی بات نہیں۔
اس نماز کی کی رکعتیں تین، پانچ، سات، نواور تیئس بھی ہو سکتی ہیں ، البتہ یہ طاق ہونی چاہئیں۔ اس وقت زیادہ تر تیئس رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ، ہمارے ہاں ان کو بیس رکعتیں کہا جاتا ہے ، ان کو بیس رکعتیں نہیں کہنا چاہیے، اس لیے کہ تین وتر بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کی چھتیس رکعتیں بھی پڑھی جاتی رہیں ہیں۔ اس کی انچاس رکعتیں بھی پڑھی جاتی رہی ہیں۔ صحابہ کرام نے بالعموم تیئس رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کے ہاں تیئس رکعتوں کی ایک روایت قائم ہو گئی ہوئی ہے۔
جہاں تک چار تراویح کے بعد تسیبح کے الفاظ پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ کسی مستند روایت سے ثابت نہیں ہیں۔ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز پڑھ کر کے جب سلام پھیرا تو یہ الفاظ آپ کی زبان سے نکلے۔دعاوں او ر فضائل کے معاملے میں ہمارے محدثین نے بہت زیادہ سختی نہیں برتی ۔ اس طرح کی کسی روایت میں اگر انھوں نے دیکھا کہ کوئی راوی مجہول یا ضعیف ہے یا کسی کا حافظہ کمزور ہے تو اس کوبھی نقل کر دیا ہے۔ یہ چیزیں لوگ عام طور پر اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن ان کو اتنا ہی اختیار کرنا چاہیے جتنا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طریقے سے ثابت ہو۔ ورنہ زیادہ سے زیادہ اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دعا کے الفاظ اور معنی بہت اچھے ہیں، آپ یہ دعا کر لیں،اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن خاص التزام کے ساتھ صرف وہی چند الفاظ اختیار کرنا ، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔(۰۹۔۰۸۔۲۹)
|
|
|
|
|
|
|
روزہ رکھنے اور کھولنے کی دعائیں |
|
|
سوال: ہمارے ہاں روزہ رکھنے اور کھولنے کی جو دعائیں عام ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: روزہ رکھنے کی نیت کے حوالے سے ہمارے ہاں لوگ جو عام طور پر ’وبالصوم غد نوعیت من شہر رمضان‘ والی دعا پڑھتے ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ الفاظ نہ کسی حدیث میں آئے ہیں اور نہ قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ کچھ الفاظ ہیں جو لوگوں نے خود ہی بنا لیے ہیں۔ نیت تو درحقیقت دل کے ارادے کا نام ہے۔ اس کے لیے زبان سے باقاعدہ کوئی الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی حج اور قربانی کے علاوہ کسی اور معاملے میں ایسا کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشروع ہے۔ ان دو عبادات کی نوعیت بڑی مختلف ہے۔ قربانی کے موقع پر جو قربانی کی ایک خاص دعا پڑھی جاتی ہے ، وہ پڑھنا ٹھیک ہے۔ اسی طرح حج کے موقع پر بھی اس کی نیت الفاظ میں کرنا درست ہے۔ اس میں آدمی ’لبیک اللہم لبیک‘ کہتے ہوئے ایک عزم کر کے خدا کے لیے نکلتا ہے تو وہ اپنے نکلنے کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ میں نے اب ارادہ کر لیا ہے کہ میں حج کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس میں ظاہر مطلوب ہے۔ جبکہ نماز، روزہ ، زکوٰة اور باقی عبادات میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان میں بس دل میں ارادہ کر لینا کافی ہے۔
جہاں تک روزہ افطار کرنے کی دعا کا تعلق ہے تو اس میں جو ہمارے ہاں بہت مشہور دعائیں ہے، وہ بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہیں، البتہ ایک دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ، جو گرمی کے روزوں کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتی ہے۔ یہ دعا بھی ایک حسن روایت میںنقل ہوئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ’ذَہَبَ الظَمَاُ وَابتَلَّتِ العُرُوقُ وَثَبَتِ الاَجرُ اِن شَائَ اللّٰہُ‘ (پیاس جاتی رہی، رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اس کا اجر بھی اس کے ہاں ثابت ہو گیا)۔ہمارے ہاں اس طرح کی جو دعائیں رواج پا گئی ہیں، ان کا مضمون چونکہ بہت اچھا ہے اس لیے ان کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(۰۹۔۰۸۔۲۹)
|
|
|
|
|
|
|
|
سوال: رمضان میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کے امتحان ہو رہے ہوتے ہیں، کچھ کھیلوں کے ٹورنامنٹ ہو رہے ہوتے ہیں یا اس طرح کی کچھ دوسری سرگرمیاں ہوتی ہیں تو کیا ایسے مواقع پر روزے میں کچھ رعایت دی گئی ہے کہ وہ کسی اور وقت میں رکھ لیا جائے؟
جواب: ایسے مواقع پر یقینا رعایت دی گئی ہے اور یہ اسی طرح کی رعایت ہے جس طرح کی رعایت سفر اور مرض کی حالت میں دی گئی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں ایک اصول بیان کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی موقع پر کوئی مشقت یا الجھن پیش آئے گی تو انسان کو رعایت ہو گی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فقہا نے قرآن مجید کے الفاظ ’فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیضًا اَو عَلَی سَفَرٍ‘(اس پر بھی جو تم سے بیمار ہو یا سفرمیں ہو) کے الفاظ سے یہ قیاس کیا کہ حاملہ ، مرضعہ ( وہ عورت جو بچے کو دودھ پلا رہی ہو) اور بوڑھے آدمی کے لیے روزہ مشقت کا باعث ہو جاتا ہے، اس لیے ان کو روزے کے معاملے میں رعایت ہو گی ۔
قرآن مجید کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ قانون کی کتاب کی طرح کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو خلاصے کی حیثیت رکھتی ہو، بلکہ وہ ایسی چیزیں بیان کر دے گا جو عام طور پر پیش آتی ہیں ، جیسے سفریا مرض ہے۔ اس سے یہ خوبی پیدا ہوتی ہے کہ اس کے اندر جو علت(وجہ) موجود ہوتی ہے ، اس کو آدمی سمجھتا ہے اور اس طرح فقہ و اجتہاد کا راستہ کھلتا ہے۔ چنانچہ خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن مجید کے اس طرح کے اشارات میں اسی بنیاد پر بعض توسیعات کی ہیں۔ اس کی بڑی واضح مثال جرابوں کا مسح ہے۔ قرآن مجید نے کہا کہ جب آپ مرض یا سفر میں ہیں یا پانی کی قلت ہے تو اس موقع پر آپ تیمم کر سکتے ہیں۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رخصت دی کہ سردی کے موسم میں جراب اتارنے میں بھی آدمی کو مشقت ہوتی ہے تو فرمایا کہ تم اس پر مسح کر سکتے ہو۔ یہ رخصت ایک علت پر مبنی ہوتی ہے، اس علت کو سمجھ کر باقی معاملات کیے جاتے ہیں۔ روزے کے معاملے میں جو علت ہم نے سمجھی، وہ یہ ہے کہ سفر یا مرض کی حالت میں آدمی کے لیے مشقت پیدا ہو جاتی ہے اور بعض اوقات یہ اس کے لیے ایک خطرناک صورت حال بھی بن جاتی ہے اور بعض اوقات ضرورت سے زیادہ اس میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں روزے کی رعایت دے دی۔ یہی چیز اگر کسی اور معاملے میں بھی پیدا ہو گی تو آدمی روزہ چھوڑ دے گا اور اس کو بعد میں پورا کرے گا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ ایسی صورت میں روزے کو بعد میں پورا کرنا لازمی ہو گا ہے۔(۰۹۔۰۸۔۲۹) |
|
|
|
|
|
|
ذخیرہ اندوزی ، مہنگائی اور رمضان |
|
|
سوال: کیاوجہ ہے کہ رمضان کے آتے ہی ہمارے ہاں ذخیرہ اندوزی اور چیزوںکی قیمتیں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی روزے کا وہ اثر نظر نہیں آتا ، جو کہ روزے کا اصلی مقصد ہے؟
جواب:اصل میں ہمارے ہاں دین کو بالکل مختلف زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ یعنی ہمارے ہاںواعظوں نے نماز، روزہ، حج و عمرہ اور قربانی وغیرہ کی ترغیب دیتے وقت ان کو فضائل کا موضوع بنا دیا۔جب آپ کسی چیز کو فضائل کا موضوع بناتے ہیں تو اس کا اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ فضائل کی بنیاد پر دین کو پیش کرنا ہمارے ہاں بہت مقبول ہے۔لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ فضائل بیان کر کے لوگوں کو کسی عمل کی بہترترغیب دی جاسکتی ہے۔لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ نگاہ مقصد سے ہٹ کر فضیلت ہی پر رہتی ہے۔ جبکہ قرآن مجید اس کے بالکل برخلاف انسان کو اصل چیز پر مرکوز رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں جو تبلیغی کاوشیں ہوئی ہیں، ان میں بھی فضائل اعمال کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اوراس معاملے میں بہت مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کی توجہات ہی بالکل دوسری جانب ہو گئیں ہیں۔ آپ نماز کے بارے میں قرآن مجید کو دیکھیے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ ’اَقِمِ الصَّلوٰةَ لِذِکرِی‘۔یعنی تم پر نماز اس لیے لازم کی گئی ہے کہ تمھارے اندر میری یاددہانی پیدا ہو، تم ہر موقع پر اپنے سامنے یہ بات رکھو کہ میں ایک خدا کا بندہ ہوں۔ نماز کے تمام اعمال کی اصل صورت کواگر ملحوظ رکھیں تو اس کا مقصد انسان کے اندر بندگی کا احساس پیدا کرنا ہے تاکہ اسے خدا یاد رہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے کہا کہ جب خدا کی یاد کے ساتھ نماز ہو گی تو پھر نماز آپ کو کسی فحش چیز اور کسی برائی کے قریب جانے نہیں دے گی،وہ آپ کو روکے گی اور تنبیہ کرے گی۔ یہی چیز روزے کے معاملے میں ہوئی۔ قرآن مجید میں روزے کا مقصد تقویٰ بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید نے روزے کا حکم دیا تو یہ بیان کیا کہ اے ایمان والو، تم پر یہ روزہ اسی طرح فرض کیا گیا جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ تم اپنے اندر حدود آشنائی کی صلاحیت اور ضبط نفس پیدا کر لو۔ تم اپنے آپ کو قاعدے میں رکھنا سیکھ لو۔ روزہ انسان کے اخلاقی وجود کی تربیت کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ یہ چیز ہمارے ہاں نگاہوں سے اوجھل ہو گئی اور اس کا اجر، ثواب اور درجات کی چیزیں زیادہ نمایاں ہوتی چلی گئیں۔
دوسرے یہ کہ ہمارے ہاں صوفیانہ مذاہب کا غلبہ ہو گیا۔ ان کے ہاں خاص طور پر مکاشفے، مجاہدے اور انسان کا معرفت کے حقائق کو پانا مقصود بن جاتا ہے۔ جب یہ چیزیں مقصود بن گئیں تو عبادات کا مقصد بھی بالکل تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ پھر عبادات بھی ایک طرح سے چلے اور ریاضتوں کی صورت اختیار کر گئیں، بلکہ ان کی ابتدائی شکلیں قرار پا گئیں۔
تیسری وجہ یہ ہوئی کہ چونکہ انسان کا ایک ثقافتی وجود بھی ہے ، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ کوئی چیز رسم بن جائے، کچھ اپنے اندر تفریح کاپہلو شامل کر لے۔ وہ کسی چیز سے لطف اندوز ہوناشروع ہو جاتا ہے۔ لطف اندوز ہونا انسان کی جبلت میں سے ہے۔ اسی وجہ سے آپ دیکھیے کہ حج و عمرہ ، روزہ ا ور اس طرح کی دوسری بہت سی چیزیں ایک رسم بن گئی ہیں۔ ہمارے ہاں رمضان میں بھی افطار کا اہتمام ایک بڑا مسئلہ ہے، اس میں لوگوں کو بلانا ہوتاہے، تقریبات منعقد کرنا پڑتی ہیں۔ اسی طرح سحری کا اہتمام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ رمضان کی کیفیت ایک تقریب کی سی ہو گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ روزے کا اصلی مقصد نگاہوں سے اوجھل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رمضان خلوت کا مہینا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس رمضان میں گوشہ نشین ہو جاتے تھے۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ چیز رونق میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اعتکاف جیسی عبادت بھی تقریب بنتی جا رہی ہے۔ پہلے لوگ یہ کوشش کرتے تھے کہ کسی ایسی مسجد یا جگہ چلے جائیں جہاں پر وہ زیادہ سے زیادہ وقت خلوت میں گزاریں۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تنہائی کی نعمت نصیب ہو۔ اعتکاف کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔لیکن اب اعتکاف بھی اجتماعی شکل میں ہوتا ہے، اسی طرح اجتماعی دعائیں ہوتی ہیں۔جب دن رات یہی چیزیں ہونے لگیں تواس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو چیز حقیقت میں آپ کو داخل کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے تھی ، وہ پھر ایک خارجی تقریب بننا شروع ہو گئی اور جو سبق روزے نے دینا تھا وہ کہیں پس پشت رہ گیا۔ اس کی کوئی حقیقت انسان کے وجود کو منتقل ہی نہیں ہوئی۔
ذخیرہ اندوزی اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کاسبب بھی یہی ہے کہ ہمارے ہاں رمضان کا مہینا ایک تقریب کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اور اس کا اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ جب اصل چیز نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے تو پھر یہ فضائل کی چیز بن جاتی ہے یامکاشفات اور مشاہدات حاصل کرنے کی چیز یا پھر آخری درجے میں یہ ایک تقریب ہے، جس کو آپ نے منعقد کر لیا۔
(23 اگست 2009)
|
|
|
|
|
|
|
رویت ہلال، علمائے کرام او رماہر ین فلکیات |
|
|
سوال: رمضان یا عید کے تعین کے لیے چاند دیکھنے کے بارے میں صحیح احکام کیا ہیں۔ اس کی تعیین علما کا کام ہے یاماہرین فلکیات کا؟
جواب: مہینے کا تعین کرنے کے لیے جو بھی وسائل اور ذرائع میسر ہوں گے ، ان سے کام لیا جائے گا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میںاس کی ایک صورت یہ تھی کہ چاند دیکھ کر مہینے کی ابتدا کی جاتی تھی۔ چنانچہ آپ نے فرمایاکہ چاند دیکھو اور مہینا شروع کر لو۔ اگر چاند نظر نہیں آیا تو تیس دن پورے کر لو کیونکہ مہینا انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور تیس دن کا بھی۔ ”تیس دن پورے کر لو‘ ‘یہ بات تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہی گئی ہے۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ تیس دن سے اوپر مہینا نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس علم کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ فرض کر لیجیے کہ آپ نے خود چاند نہیں دیکھا، لیکن کسی دوسری جگہ پر چاند نظر آ گیا اور آپ کواس رویت کی شہادت بھی مل گئی تو اس بنیاد پر بھی آپ رمضان شروع کر سکتے ہیں۔ لہٰذاچاند نظر آ جانے کے بعد اس بات پر اصرار کہ ہم مہینا شروع نہیں کر رہے ، یہ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔
موجودہ دور میں سائنس کی ترقی نے اب ہمارے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ہم تعین کے ساتھ یہ بتا سکتے ہیں کہ مہینے کی ابتدا کب ہو رہی ہے۔ یعنی چاند کی پیدایش کو متعین کیا جا سکتا ہے۔چاند دیکھنا ضروری نہیں۔ ہمارے ہاں جس طریقے سے اب ہر موقع پر سورج کے لحاظ سے اوقات کا تعین نہیں کیا جاتا کہ نماز پڑھنے سے پہلے باہر نکل کر دیکھا جائے کہ سورج طلوع ہورہا ہے یا غروب ہو رہا ہے بلکہ سائنسی طریقے سے گھڑیاں بنا کر وقت کے بارے میں کیلنڈر تیار کر دیا گیا ہے۔ آپ اپنے کمرے میں بیٹھے اس کیلنڈر کو دیکھتے ہیں اور اس کے مطابق نماز پڑھتے ہیں حالانکہ نماز ہم پر سورج کی گردش کے لحاظ ہی سے فرض کی گئی ہے۔ اس میں اب ہم سورج کی رویت کو لازمی قرار نہیں دیتے۔ سورج کے بارے میں سائنسی طور پر یہ معلوم ہے کہ فلاں وقت پر وہ طلوع ہو گا اور فلاں وقت پر غروب ہو جائے گا ۔ اس کی مدد سے ہم پورے سال کا کیلنڈر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح چاند کے بارے میں بھی پورے سال، بلکہ ہزاروں سال کا کیلنڈر بنایا جا سکتا ہے۔ اس پر اگر لوگ آمادہ ہو جائیں اور محض اس بات پر اصرار نہ کریں کہ ہم نے رویت ہی کو لازم کرنا ہے تو پھرہم ہجری کیلنڈر کو بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
بعض لوگ رویت کو ضروری سمجھتے ہیں؟ یہ صرف ایک حدیث کا مدعا صحیح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ اس حدیث کو جب آپ سارے طرق سے اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بالکل مختلف بات بیان کی گئی ہے۔ اس میں یہ بات نہیں کہی گئی تھی کہ آپ کو لازماً رویت ہی کو پیش نظر رکھنا ہے۔ ا س میں یہ کہا گیا تھا کہ چونکہ مہینا انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، اس لےے چاند نظر آ جائے تو تیس دن پورے کرنے پر اصرار نہ کیا جائے،لہٰذا رویت ضروری نہیں، اس کے لیے چاند کی پیدایش کافی ہے۔ رویت اور پیدایش میں فرق ہے۔ پیدایش کو تو سائنسی لحاظ سے کم و بیش متعین طور پر بتایا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک رویت کا تعلق ہے، اس میں بہرحال کچھ اختلاف ہو سکتا ہے۔ کیونکہ رویت میں ایک خاص جگہ تک چاند کا آنا ضروری ہوتا ہے اس لیے اس میں تھوڑا بہت فرق واقع ہوتا ہے۔اس میں اختلاف مطالع کی بنیاد پر ہوتا ہے یعنی ایک جگہ مطلع اور ہے کسی دوسری جگہ اور۔ لیکن اگر آپ پیدایش کو اصل بنا لیں تو مہینے کا بالکل تعین کر کے کیلنڈر بنایا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں لوگوں نے اسے دین کا مسئلہ بنا لیا ہے، حالانکہ یہ سائنس اور ماہرین فلکیات کا کام ہے۔ |
|
|
|
|