عیسائیت
نصاریٰ کے ہاں بھی روزے کا وجود پوری شان سے ملتا ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر روزے رکھے۔ متیٰ کی انجیل بتاتی ہے کہ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے بھی روزہ رکھا تھا۔
متیٰ میں لکھا ہے:
”اور جب وہ چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا، آخر کار بھوکا ہوا۔“(متیٰ4:2)
عیسیٰ علیہ السلام نے روزے کے بارے میں اپنے حواریوں کو یہ ہدایت دی ہے:
”اور جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی مانند اپنا چہرہ اداس نہ بناﺅ، کیونکہ وہ منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ انھیں روزہ دار جانیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔ لیکن جب تو روزہ رکھے، سر پر تیل لگا اور منہ دھو۔ تاکہ آدمی نہیں، بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے، تجھے روزہ دارجانے اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے ،تجھے بدلہ دے گا۔(متیٰ 6:16-18)
ایک موقع پر جب حواری ایک بد روح نہ نکال سکے تو انھوں نے پوچھا:
”اس کے شاگردوں نے پوشیدگی میں اس سے پوچھا کہ ہم اسے کیوں نہ نکال سکے۔ اس نے ان سے کہا کہ یہ جنس سوائے دعا اور روزہ کے کسی طرح سے نہیں نکل سکتی۔“ (مرقس9:27-28)
عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کیا گیا کہ تمھارے شاگرد روزہ کیوں نہیں رکھتے تو اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا:
”اور یوحنا کے شاگرد اور فریسی روزہ سے تھے۔ انھوں نے آ کر اس سے کہا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ یوحنا کے شاگرد اور فریسیوں کے شاگرد تو روزہ رکھتے ہیں، لیکن تیرے شاگرد روزہ نہیں رکھتے۔ یسوع نے ان سے کہا کہ کیا براتی جب تک کہ دولہا ان کے ساتھ ہے، روزہ رکھ سکتے ہیں؟ جب تک کہ وہ دولہا کے ساتھ ہیں، وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ دن آئیں گے جب دولہا ان سے جدا کیا جائے گا۔ اس وقت وہ روزہ رکھیں گے۔“ (مرقس 2: 18-20)
عربوں کا دور جاہلیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اہل عرب کے ہاں بھی روزے کا واضح تصور ہمیں ملتا ہے۔
”عربوں سے متعلق روایات میں یہ ہے کہ قریش یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ اس دن وہ جمع ہوتے، عید مناتے اور کعبہ کو غلاف پہناتے تھے۔ اس روزے کی توجیہ انھوں نے یہ بیان کی ہے کہ قریش اپنے دور جاہلیت میں کوئی بڑا گناہ کر بیٹھے تھے۔ اس گناہ کا انھوں نے بڑا بوجھ محسوس کیا تو انھوں نے اس گناہ کا کفارہ دینے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے لیے یوم عاشورہ کا روزہ مقرر کیا۔ وہ اس دن یہ روزہ اس بات پر شکرانے کے طور پر رکھتے تھے کہ خدا نے ان کو اس گناہ کے نتائج بد سے بچا لیا۔ یہ بات بھی روایت کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔
عربوں میں روزے کے رواج ہی سے متعلق ایک واقعہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ دور اسلام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ احمس قبیلہ کی ایک عورت زینب کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات چیت نہیں کر رہی تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے، یہ بات کیوں نہیں کرتی ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ آپ نے اس سے کہا کہ گفتگو کر،کیونکہ یہ جائز نہیں ،یہ تو دور جاہلیت کا عمل ہے ۔ تب اس نے بات چیت شروع کر دی۔“(”المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام“،”صوم“ص 338-339)
یہودیت
ابراہیم علیہ السلام کی جو نسل ان کے پوتے یعقوب علیہ السلام سے آگے چلی وہ بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ بنی اسرائیل میں آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے موسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔موسیٰ علیہ السلام خدا سے ملاقات کے لیے کوہ طور پر گئے تو وہاں انھوں نے روزے رکھے۔ تورات میں موسیٰ علیہ السلام کے اس روزے کا ذکر اس طرح سے آیا ہے:
”اور موسیٰ خداوند کے پاس چالیس دن اور چالیس رات رہا۔ نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا۔ اور اس نے عہد کا کلام، دس احکام دو لوحوں پر لکھے۔“ (خروج 34: 28)
تورات میں یہودیوں پر عاشورے کے روزے کا ذکر ان الفاظ میں ہے:
”یہ تمھارے لیے ابدی فرض ہو گا کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم میں سے ہر ایک، کیا دیسی کیا پردیسی، نفس کشی کرے (روزہ رکھے) اور کوئی کام نہ کرو۔ کیونکہ اس روز تمھاری پاکیزگی کے لیے تمھارے واسطے کفارہ دیا جائے گا۔ تب تم اپنے سارے گناہوں سے خداوند کے آگے پاک ہو جاﺅ گے۔ یہ تمھارے لیے تعطیل کا سبت ہو گا۔ اس دن تم نفس کشی کرو (روزہ رکھنا) یہ ابدی فرض ہوگا۔“ (الاحبار 16: 29-31)
یہودیوں کے ہاں یوم کفارہ کے روزے کے علاوہ بہت سے دوسرے روزے بھی تھے۔ مثلاً زکریا علیہ السلام یوں فرماتے ہیں:
”اور میں نے رب الافواج کا کلمہ پایا۔ اس نے کہا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے۔ چوتھے مہینے کا روزہ اور پانچویں کا روزہ اور ساتویں کا روزہ اور دسویں کا روزہ یہودہ کے گھرانے کے لیے خوشی اور خرمی کا موقع اور شادمانی کی عید ہو گا۔ تم فقط سچائی اور سلامتی کو عزیز جانو۔“(زکریا 8:18-19)
بائیبل میں روزہ کی ترغیب ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ یوایل نبی فرماتے ہیں:
”یقینا خداوند کا دن عظیم نہایت ہول ناک ہے۔ کون اس کی برداشت کر سکے گا۔ لیکن اب بھی خداوند کا فرمان ہے روزہ رکھ کر گریہ و زاری کرتے ہوئے اپنے سارے دل سے میری طرف رجوع لا اپنے کپڑوں کو نہیں،بلکہ دلوں کو چاک کر کے خداوند اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو، کیونکہ وہ رحیم اور مہربان ہے۔ وہ طویل الصبر اور نہایت شفیق ہے۔“ (یو ایل2: 11-13)
بابل اور نینوا کی تہذیب
بابل اور نینوا کی تہذیب قدیم تہذیبوں میں سے تھی۔ یہاں آشوری قوم آباد تھی۔ ان کی طرف حضرت یونس علیہ السلام کی بعثت ہوئی تھی۔ آشوریوں کے ہاں بھی ہمیں روزے کا رواج ملتا ہے۔ توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر افسوس و ندامت کے اظہار کے ساتھ روزے کی حالت میں اپنے کھانا نہ کھانے اور پانی نہ پینے کا ذکر بھی کیا کرتا تھا۔ یہ لوگ آلام و آفات کے دنوں میں بھی روزے رکھا کرتے تھے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
نینوا کے باشندے
حضرت یونس علیہ السلام نینوا میں آشوریوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان لوگوں نے پہلے ان کی تکذیب کی، لیکن بعد میں ایمان لے آئے تو اس موقع پر انھوں نے جو توبہ کی تھی، تورات میں اسے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
”نینوا کے باشندے خدا پر ایمان لائے اور روزے کا اعلان کر کے سب کے سب، کیا ادنیٰ کیا اعلیٰ ٹاٹ سے ملبوس ہوئے اور یہ بات شاہ نینوا کو بھی پہنچ گئی تو اس نے تخت سے اٹھ کر شاہی لباس اتار ڈالا، اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا اور فرمان صادر کیا کہ ”بادشاہ اور ارکان دولت کے حکم سے نینوا میں یہ اعلان ہوا کہ کوئی انسان یا حیوان یا گائے بیل یا بھیڑ بکری نہ کچھ چکھے نہ کھائے اور نہ پانی پیے۔ علاوہ اس کے انسان و حیوان ٹاٹ اوڑھیں اور خداوند کے حضور گریہ و زاری کریں اور ہر ایک اپنی بری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے توبہ کرے۔“(کتاب یونس3: 5-9)
بحرالکاہل کے جزیرے
بحرالکاہل کے جنوب مغربی حصے میں کئی جزیرے پائے جاتے ہیں، جن میں نیوگنی،فیجی اور سالمن شامل ہیں۔ نیوگنی کے قبائل میں جزوی روزے رکھنے کے لیے کھانے کی متعدد اشیا سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں روزے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی پسند کی چیزیں کچھ عرصہ کے لیے ترک کر دیتا ہے۔
رورو (Roro)زبان بولنے والے قبائل میں Seclusion Periodکے اختتام پر ایک دن کا روزہ رکھنے کا طریقہ عام رائج ہے۔
فیجی (Fiji)میں دس سے بیس دن کے روزے رکھے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں عقاب ایک مقدس پرندہ مانا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کا شکار کرنے سے قبل شکاری ایک طویل عرصے تک روزے رکھتا اور دعائیں کرتا ہے۔
Teligintis قبیلے کے لوگ دوسرے جنم پر یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ رواج ہے کہ بعض اموات پر لڑکیاں اس لیے روزے رکھتی ہیں کہ یہ روح دوبارہ ان کے ذریعے سے جنم لے۔(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
میکسیکو
میکسیکو کے باشندوں میں بھی توبہ کرنے اور قلب (باطن) کوپاک کرنے کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ ان کے ہاں ایک دن کا روزہ بھی ہوتا اور کئی کئی دنوں کے روزے بھی ہوتے تھے۔ یہ روزے قبیلے کا کبھی کوئی ایک فرد رکھتا اور کبھی پورا قبیلہ روزہ رکھتا تھا۔ قوم پر نازل ہونے والی آفات سے بچنے کے لیے بڑا مذہبی پیشوا روزہ رکھ کر تنہائی میں لیٹ جاتا، کئی دیگر سختیاں جھیلتا اور خدا سے دعائیں کرتا رہتا۔(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
برٹش کولمبیا (شمالی امریکہ)
برٹش کولمبیا (شمالی امریکہ) میں یہ رواج ہے کہ لوگ جنازے کے موقع پر ہونے والے کھانے کے بعد چار دن کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
قدیم مصری تہذیب
مصر میں گناہوں سے توبہ کرنے اور خدا کے عذاب سے بچنے کے لیے روزے رکھے جاتے تھے۔ توبہ کے ان روزوں کے لیے باقاعدہ دن مقرر کیے گئے تھے۔ ان روزوں کے دوران میں ہر طرح کی آسایش ممنوع تھی اور خواہشات کو پورا کرنے والی چیزوں کا استعمال بھی ناجائز تھا۔مصریوں کے ہاں وفات پر روزے رکھنے کا رواج بھی پایا جاتا تھا۔ چنانچہ بادشاہوں کی وفات پر عوام روزہ رکھا کرتے تھے۔
قربانی سے قبل روزہ رکھنے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ وہ اپنی قربانی سے قبل بعض اوقات چھ چھ ہفتوں تک کے روزے رکھتے تھے۔
( Theological Dictionary By Rev. Charlus Buck, Under Fasting)
قدیم یونان
قدیم یونان علم و فلسفہ کا گھر تھا۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ ایک مذہبی عمل کے طور پر پایا جاتا ہے۔ رومیوں کی طرح یونانیوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مذہب Mystry Religions میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دیوی دیوتاوں کی قربت حاصل کرنے اور ان سے بصیرت پانے کے لیے روزہ ایک اچھا معاون ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ مذہب کے اسرارورموز جاننے کے لیے تمام غذاوں یا کچھ غذاﺅں اور مشروبات سے پرہیز کرنا پڑتا ہے۔
قدیم یونانیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ قربانی سے قبل روزہ رکھا کرتے۔ اسی طرح وفات پر روزے رکھنے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ وہ عبادت اور توبہ کے لیے بھی روزے رکھتے تھے۔ اکارا کا غار جس کے اندر پائے جانے والے بخارات میں طبی فوائد پائے جاتے ہیں، اسے انھوں نے دارالاستخارہ کا نام دے رکھا تھا۔ اس کے اندر بیمار اپنے علاج کے لیے کئی دنوں تک بغیرکھائے پیے قیام کرتا۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ القا پانے کی اس جگہ پر روزے رکھنے سے آدمی کو الہامی مشاہدات ہوتے ہیں۔
( Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
رومی تہذیب
رومی تہذیب کے بعض مذاہب کو Mystery Religionsمیں شمار کیا جاتا ہے، انھیں ماننے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دیوی دیوتاﺅں کی قربت حاصل کرنے یا ان سے دانائی پانے کے لیے روزے کا عمل بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان مذاہب میں داخل ہونے والا جب ان کے اسرارورموز سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کے لیے روزے رکھنا ضروری ہے۔ سیرس کی رومی مذہبی رسوم میں بھی روزے کا وجود پایا جاتا ہے۔ ان کے ہاں ۲۴ مارچ کو ایک روزہ رکھا جاتا اور اس سے اگلے دن ایک عظیم تہوار منایا جاتا ہے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
قدیم رومیوں میں بادشاہ اورسلاطین خود بھی روزے رکھتے تھے۔ ویسپاسین (Vespasian)، آگسٹس(Augustus)، جیولیس قیصر(Julius Casear)، نیوما پانپیپلیس (Numa Pounpiplius) ، ان سب شاہان روم کے روزوں کے دن مقرر تھے۔ Julius the apostate تو روزے کا اتنا پابند تھا کہ اس نے مذہبی پیشواوں کو بھی مات دے دی تھی۔
(Theological Dictionary By Rev. Charlus Buck, Under Fasting.)
افریقی قبائل
متعدد افریقی قبائل کے ہاں بھی روزہ موجود ہے۔ یہ قبائل عموماً اموات پر روزہ رکھتے ہیں۔ یوروبا قبیلے میں بیوہ اور اس کی بیٹی کو ایک دن رات کے لیے کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے اور ان کا کھانا پینا روک دیا جاتا ہے۔ گویا انھیں جبراً روزہ رکھوایا جاتا ہے۔ گولڈ کوسٹ کے قبائل میں موت کے طویل عرصہ تک سخت روزے رکھے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے زولو قبیلے کے لوگ خدائی الہام پانے کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ روزے کئی کئی دنوں پر محیط ہوتے ہیں۔
(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
نیوساوتھ ویلز کے قبائل
نیوساوتھ ویلز کے قبائل میں ”بورا“ نامی ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں نوعمر لڑکوں کو روزہ رکھوایا جاتا ہے۔ یہ روزہ دو دن پر مشتمل ہوتا ہے، اس میں خوراک تو ممنوع ہوتی ہے، لیکن تھوڑا بہت پانی پینے کی اجازت ہوتی ہے، ان کے ہاں اس روزے کا مقصد لڑکوں کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت ہے۔
(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
آسٹریلیا کے قبائل
براعظم آسڑیلیا میں جو قبائل آباد ہیں، ان میں سے بعض کے نزدیک عظیم قوتوں یعنی دیوتاﺅں سے اجر حاصل کرنے کے لیے روزہ پسندیدہ عمل ہے۔ وسطی آسڑیلوی قبائل میں دیوتاوں سے مدد اور پیداوار میں برکت کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting.)
روس
روس کے انتہائی شمالی علاقے سائیبریا میں اسکیموز کے ہاں بھی روزہ ایک خاص عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو اسکیمو نوجوان Angekok (ارواح سے تعلق قائم کرنے والا) بننا چاہتا ہے، وہ دنیوی کاموں سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور اس وقت تک روزے رکھتا ہے جب تک اسے ارواح اپنے پاس آتی ہوئی دکھائی نہ دیں۔ ( Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
قدیم ایران
قدیم ایران میں اگرچہ روزہ عام نہیں تھا، لیکن موت کے بعد تین راتوں تک روزہ رکھا جاتا تھا۔ اس دوران میں تازہ گوشت پکایا اور کھایا نہیں جاتا تھا۔
(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting.)
کوریا
جاپان کے قریبی ملک کوریا میں بھی یہ رواج ہے کہ مرنے والے کے رشتہ دار ایک دن کا روزہ رکھتے ہیں، لیکن اس کے بیٹے اور پوتے تین دن کے روزے رکھتے ہیں۔
( Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
جاپانی تہذیب
قدیم جاپانی تہذیب میں بھی ہمیں روزے کا تصور ملتا ہے۔ جاپان میں وفات کے موقع پر یہ رواج تھا کہ عام لوگ جزوی روزہ رکھیں گے اور سبزیوں پرمشتمل ایک بہت ہی سستی غذا کھائی جائے گی۔ والدین اپنی اولاد کی وفات پر مسلسل پچاس دن یہی خوراک استعمال کرتے تھے۔ یعنی کھانے پینے کی عام چیزوں کے حوالے سے یہ پچاس دن پر پھیلے ہوئے جزوی روزے ہوتے تھے۔
(Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
چین کے مذاہب
ہندوستان سے باہرنکل کر ہمالیہ کے اس پار چین کی طرف آئیے۔ چین کے کلاسیکی مذہب (کنفیوشزم سے پہلے چین کا مذہب۔ اس میں ارواح کی عبادت کی جاتی تھی)میں ہمیں روزوں کا واضح تصور ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کنفیوشزم (چھٹی صدی قبل مسیح میں کنفوشس سے چین میں اس مذہب کی ابتدا ہوئی) اور تاوازم (پانچویں صدی قبل مسیح میں Lao Tzu سے اس مذہب کی ابتدا ہوئی۔ اس کا علاقہ بھی چین ہی تھا) جنھیں ہم مذہب واخلاق کے حوالے سے اصلاحی تحریکوں کا نام دے سکتے ہیں، ان میںبھی روزوں کو ایک گونہ اہمیت دی گئی ہے۔
چینی کلاسیکی مذہبی رسوم میں ایک رسم چائی کہلاتی ہے۔ اس رسم میں قربانی سے پہلے روزے رکھے جاتے ہیں۔ (Encyclopedia of Religion, Under Fasting)
ان کے ہاں آباو اجداد کی روحوں کو قربانی پیش کی جاتی ہے۔ اس قربانی سے پہلے بھی روزے رکھنے کا رواج ہے۔ ان روزوں سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ ان ارواح سے بذریعہ کشف رابطہ کریں۔ اس کشف کے حصول کے لیے وہ اپنے ذہنوں کو ان ارواح کے بارے میں مختلف خیالات سے معمور کیے رکھتے ہیں۔ یہ عمل روزے کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں آباواجداد کی ارواح کی عبادت بھی کی جاتی ہے۔ چنانچہ عبادت سے پہلے تیاری کے طور پر سات دن روزے رکھے جاتے اور شب بیداری کی جاتی ہے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
اس کے علاوہ چینیوں کے ہاں ماتمی روزوں کا تصور بھی ملتا ہے۔ یہ روزے مرنے والے آدمی کے رشتے دار رکھتے ہیں۔ جتنا ان کا مرنے والے شخص سے قریبی رشتہ ہوتا ہے، اتنا ہی روزے میں سختی کرتے ہیں۔ اس روزے میں عموماً ان کھانوں سے پرہیز کیا جاتا ہے جو روح کو نذرانے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics, Under Fasting)
بدھ مت
بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ تھے۔ اس مذہب کی ابتدا چھٹی صدی قبل مسیح کے لگ بھگ ہندوستان کے شمال مشرقی حصہ میں ہوئی۔
بدھ مت کے بھکشو (تارک الدنیا) بھی ہندووں اور جینیوں کی طرح کچھ خاص دنوں میں روزے رکھتے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ (Encyclopedia Brittanica Under Fasting)
بدھ مت میں روزے کو ان تیرہ اعمال میں شمار کیا گیا ہے، جو ان کے نزدیک خوش گوار زندگی اپنانے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ روزے کو باطن کی پاکیزگی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بدھ مت میں جن دس چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے ایک ممنوع اوقات میں کھانا ہے۔ ان کی تعلیم یہ ہے کہ بھکشووں کو ضرور کھانا چاہیے، لیکن دن میں صرف ایک دفعہ، اس کے بعد وہ دن بھر کچھ نہ کھائیں۔ ان روزوں کے علاوہ ان کے ہاں بھی ہندومت کی طرح نئے چاند اور پورے چاند کے دنوں میں روزہ رکھنا لازم ہے۔ مزید یہ کہ وہ ہر مہینے میں بھی چار روزے رکھتے ہیں اور روزے کی حالت میں گناہوں کا اعتراف کرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ بدھ مت میں مذہبی پیشواوں کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ہر مہینے کی چودہ پندرہ اور انتیس تیس کو جزوی روزہ رکھیں، لیکن مخلصین ان دنوں میں جزوی نہیں ،بلکہ مکمل روزہ رکھتے ہیں۔
تبت کے علاقے میں بدھا کے پیرووں کے ہاں چار دن کا مسلسل روزہ رکھنے کی ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ پہلے دو دنوں میں روزے کی شرائط قدرے نرم ہوتی ہیں۔ یہ دن تیاری کے ہوتے ہیں، ان میں روزہ دار بڑے اخلاص سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ ان دنوں میں عبادت کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے اور مذہبی کتابوں کا درس بھی ہوتا ہے۔ یہ اعمال رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔ تیسرے دن روزہ سخت ہو جاتا ہے اور کسی کو تھوک نگلنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ عبادت اور گناہوں کا اعتراف اس روز مکمل خاموشی کی حالت میں کیا جاتا ہے۔ چوتھے دن صبح سورج طلوع ہونے تک یہ روزہ جاری رہتا ہے۔
اس کے علاوہ بدھا کے یوم وفات سے متصل پہلے پانچ روزے رکھے جاتے ہیں۔ یہ روزے بدھ مت کے بھکشو رکھتے ہیں، لیکن عوام بھی ان روزوں میں گوشت کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک نوعیت کے جزوی روزے رکھتے ہیں۔ ماہایانہ فرقے کے بدھوں کے ہاں یہ رواج بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اگلے جنم میں بہتر مقام پانے کے لیے روزے رکھتے ہیں۔ بدھ مت میں روزے کی ترغیب کے ساتھ اس کے بارے میں یہ تعلیم بھی دی جاتی ہے کہ روزہ اس شخص کو پاک نہیں کر سکتا جس نے اپنے نفس پر قابو نہ پایا ہو۔
پارسی مذہب
قدیم پارسی مذہب میں اگرچہ کبھی کبھار روزہ رکھا جاتا ہے، لیکن عام طور پر روزہ رکھنا پسند نہیں کیا جاتا۔ اس مذہب کے پیرووں کا خیال ہے کہ روح کی ترقی کے لیے جسم کو روزے کی مشقتوں میں ڈالنا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا روزہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبان، آنکھوں، کانوں اور ہاتھوں سے کوئی گناہ نہ سرزد ہونے دیں۔ دوسرے مذاہب میں جو روزہ نہ کھانے پینے سے ہوتا ہے، ہمارے ہاں وہ روزہ گناہ نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ (Encyclopedia of Religion and Ethics Under Fasting.)
مولانا سید سلیمان ندوی ”سیرت النبی“ میں پارسیوں کے ہاں روزے کے بارے میں لکھتے ہیں:
”پارسی مذہب میں گو عام پیرووں پر روزہ فرض نہیں، لیکن ان کی الہامی کتاب کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزہ کا حکم ان کے ہاں موجود تھا۔ خصوصاً مذہبی پیشواوں کے لیے تو پنج سالہ روزہ ضروری تھا۔“ (242/5)
جین مت
اس کے بعد ہم ہندوستان کے ایک دوسرے مذہب ”جین مت“ کا روزوں ہی کے حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں۔ جین مت کا مختصر تعارف یہ ہے کہ اس کی ابتدا آج سے تقریباً 2550 سال پہلے ہندوستان کے علاقے اترپردیش میں ہوئی۔ مہاویر اس مذہب کے بانی ہیں۔
جین مت میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ راہبانہ ریاضتیں انسان کے باطن کی اصلاح کرتی ہیں۔ وہ انھی ریاضتوں میں روزے کو بھی شامل کرتے ہیں۔ یہ اصلاح اس طرح ہوتی ہے کہ یہ ریاضتیں کرمن کے وہ انبار نہیں لگنے دیتیں جو زندگی کے جوہر کو بوجھل کر دیتے ہیں۔ان کے نزدیک روزہ انسانوں کو کرمن سے آزاد ہونے کی راہ پر لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سنیاسی مرد اور عورتیں اپنی روزمرہ زندگی میں تعلیم، مراقبوں اور ان جسمانی ریاضتوں میں مصروف رہتے ہیں، جن میں سے ایک روزہ بھی ہے۔ یہ ریاضتیں اسی لیے بنائی گئی ہیں کہ یہ روح (Jiva) کے کرمن سے آزاد ہونے کے عمل کو بڑھاتی چلی جائیں اور اسے آگے آنے والی روحانی منازل کی طرف لے چلیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر بہت سے راہبانہ ضابطے زندگی بھر کے لیے اپنانے ضروری ہیں، کیونکہ ان کے بغیر ان مراحل سے گزرا نہیں جا سکتا۔ ان ریاضتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سنیاسی جب ریاضتیں کرتے کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی روحانی ترقی کے لیے چاہے تو رضاکارانہ طور پر اپنے لیے تامرگ روزے کا انتخاب کر سکتا ہے۔ یعنی وہ سنیاسی روزہ رکھ لے گا اور افطار نہیں کرے گا، حتی کہ وہ مر جائے۔
(Encyclopedia of Religion Under Fasting.)۔ (A Hand Book of Living Religions by John R Hinnells, Under Jainism Pg 266.)
مولانا سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ”سیرت النبی“ میں جین دھرم کے ہاں روزوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ہندوستان کے تمام مذاہب میں جینی دھرم میں روزہ کی سخت شرائط ہیں، چالیس چالیس دن تک کا ان کے یہاں ایک روزہ ہوتا ہے۔ گجرات و دکن میں ہر سال جینی کئی کئی ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں۔“ (242/5)
ہندو مت
ہندومت وہ مذہب ہے جو آریاﺅں نے آج سے تقریباً پونے چار ہزار برس پہلے ہندوستان میں آ کر اختیار کیا۔
ہندومت کی تعریف ہی یوں کی گئی ہے کہ یہ درحقیت روزوں، دعوتوں اورتہواروںکا مذہب ہے۔ اس مذہب کے ایک نمائندے ٹی ایم پی مہادیون، صدر شعبۂ فلسفہ مدراس یونیورسٹی ہندو مذہب اور ہندو سماج میں روزہ کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ان تہواروں میں جن کو سالانہ منایا جاتا ہے بعض تہوار روزہ (برت) کے لیے مخصوص ہیں، جو تزکیۂ نفس کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ہر ہندو فرقے نے دعا و عبادت کے لیے کچھ دن مقرر کر لیے ہیں۔ جن میں اکثر افراد روزہ رکھتے ہیں، کھانے پینے سے باز رہتے ہیں۔ رات رات بھر جاگ کر اپنی مذہبی کتابوں کی تلاوت اور مراقبہ کرتے ہیں، ان میں سب سے اہم اور مشہور تہوار جو مختلف فرقوں میں رائج ہے، ”ویکنتاایکاوشی“ کا تہوار ہے، جو ”وشنو“ کی طرف منسوب ہے، لیکن اس میں صرف وشنو ہی کے ماننے والے نہیں، بلکہ دوسرے بہت سے لوگ بھی روزہ رکھتے ہیں ،اس تہوار میں وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں،اور رات کو پوجا کرتے ہیں۔
بعض دن ایسے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (ان دنوں میں) وہ ان دیبیوں (دیویوں) سے دعائیں کرتی ہیں، جو ایشور کی ان نسوانی صفات کا مظہر ہیں، جو مختلف اشکال میں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان دنوں کو ان کی مخصوص اہمیت کے پیش نظر ”برت“ یا عہدو معاہدہ کہا جاتا ہے اور یہ روح کے تزکیے کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے۔(ارکان اربعہ“ ،ابوالحسن علی ندوی۔ (Outline of Hinduism Chapter 4,Section 6).
ہندووں میں نئے اور پورے چاند کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کا رواج ہے۔ "Sacred Books of the East" میں ویدوں کے حوالے سے ان روزوں کی ترغیب یوں دی گئی ہے کہ:
”صاحب خانہ اور اس کی بیوی کو نئے اور پورے چاند کے دنوں میں روزہ رکھنا چاہیے۔“ (100/2)
”پورے چاند کے دن جبکہ رات اور دن کے ملاپ کے وقت چاند طلوع ہوتا ہے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔“ (/30 25)
اس کے علاوہ ان کے ہاں قریبی عزیز یا بزرگ کی وفات پر بھی روزے رکھنے کا رواج ہے۔ "Sacred Books of the East" میں ویدوں کے حوالے سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
”اگر آدمی کی بیوی، بڑا گرو یا باپ انتقال کر جائے تو موت کے دن سے لے کر اگلے دن اسی وقت تک روزہ رکھنا چاہیے۔“(137/2)
گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔ "Sacred Books of the East" میں کفارے کے روزے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
”اگر کوئی شودر کسی دودھیل گائے یا جوان بیل کو بغیر کسی وجہ کے مار ڈالے یا کسی کو بے وجہ گالی دے تو اس پر کفارے کے طور پر لازم ہے کہ سات دن کے روزے رکھے۔“ (84/2)
”کھانے کے دوران میں اگر میزبان کو یاد آجائے کہ اس نے مہمان کو خوش آمدید نہیں کہا تو اسے فوراً کھانا چھوڑ کر روزہ رکھنا چاہیے۔“ (/2 121)
ہندووں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ کسی کی وفات یا پیدایش کی بعض صورتیں انسان کے لیے ناپاکی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ناپاکی برہمن کو لاحق ہو تو دس دن میں خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔ کھتری کو لاحق ہو تو پندرہ دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ ویش کو لاحق ہو تو بیس دنوں میں ختم ہوتی ہے اور شودر کو یہ ناپاکی لاحق ہو تو ایک مہینے کے بعد ختم ہوتی ہے۔ شودر کی ناپاکی کے اس عرصے میں اگر کوئی آدمی جو پہلے ہی دو بار جنم لے چکا ہو، اس کے ہاں کھانا کھائے تو سخت گناہ گار ہو جاتا ہے۔ اس گناہ کے کفارے کی صورت"Sacred Books of the East"کے مصنف نے یہ بیان کی ہے:
”ایسا گناہ گار بارہ ماہ تک وید کی سمتھا کی تلاوت کرنے سے یا پھر بارہ نصف مہینوں کے روزے رکھنے سے اپنے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔“ (30/14)
گرو (استاد) کے ساتھ آداب کو ملحوظ نہ رکھنے کے جرم کا کفارہ بیان کرتے ہوئے "Sacred Books of the East" کا مصنف لکھتا ہے:
”اگر کسی نے اپنے اساتذہ کو بے ادبی کرتے ہوئے ناراض کر دیا تو اسے روزہ رکھنا ہو گا اور اس وقت تک کھانے سے پرہیز کرنا ہو گا جب تک اسے معافی نہ مل جائے۔“ (130/7)
ہندووں میں بعض عمومی واقعات سے برا شگون لینے کا بہت رواج ہے۔ ان کی مذہبی کتابوں میں ایسی بدشگونیوں کے اثرات سے بچنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ "Sacred Books of the East"کا مصنف بیان کرتا ہے:
”اگر استاد اور شاگرد کے درمیان سے کتا، نیولا، سانپ، مینڈک یا بلی گزر جائے تو ان کے لیے تین دن کا روزہ اور سفر ضروری ہے۔“ (184/2)
غیر مسلم اقوام میں روزہ
قرآن مجید میں روزے کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ تم پر روزوں کا یہ فرض کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلی امتوں پر بھی روزے اسی طرح فرض کیے تھے جیسے تم پر کیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روزے کی یہ عبادت تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جس کی تردید ممکن نہیں۔ روزے کے بارے میں اسی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے'Encyclopedia of Religion' میں لفظ روزہ(Fasting)کے تحت مضمون نگار لکھتا ہے:
”روزہ یعنی غذا سے مکمل یا جزوی پرہیز ایک ایسا آفاقی عمل ہے جو مشرق و مغرب کی تقریباً سبھی تہذیبوں میں پایا جاتا ہے۔“
'Encyclopedia Brittanica' میں روزہ کے تحت اسی پہلو کو بیان کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتا ہے:
”خاص مقاصد کے لیے یا اہم مقدس اوقات کے دوران میں یا ان سے قبل روزہ رکھنا دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کا خاصہ ہے۔“
'Jewish Encyclopedia' میں ”روزہ اور روزہ کے ایام“ (Fasting and Fast Days)کے تحت مضمون نگار نے اس حقیقت کو یوں واضح کیا ہے:
”روزے کی تعریف عموماً یہ کی جاتی ہے کہ مذہبی اور اخلاقی مقاصد کے حصول کے لیے خوش دلی سے جسم کو ایک مقررہ مدت کے لیے تمام قدرتی غذاﺅں سے محروم رکھنا۔ روزے کے اس دستور کو دنیا کے تمام مذاہب میں بہت مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت بھی ہے کہ مختلف مذاہب اور قوموں میں اس کے محرکات اور اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔“
مذہبی معلومات کی لغت"Theological Dictionary by Rev. Charlas Buck" میں روزہ کے تحت یہی بات ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:
”کوئی آدمی مذہبی روزوں کو کتنی ہی کم اہمیت کیوں نہ دے۔ یہ بات صاف محسوس ہوتی ہے کہ اکثر قدیم اقوام نے بھی اس مذہبی دستور کو اپنایا ہے۔ مصریوں، فونیشیوں اور آشوریوں کے ہاں بھی ایسے ہی روزے پائے جاتے ہیں،جیسے یہودیوں کے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
© 2012 Dunya Network. All Rights Reserved.