|
|
|
|
|
|
|
۱۔
”تمام شریعت کی بنیاد تقویٰ پر ہے ، تقویٰ پیدا ہوتا ہے جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت سے اور اس قوت و صلاحیت کی سب سے بہتر تربیت روزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔“
( مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، ج ۱ ص ۵۴۴)
۲۔
”رمضان کے روزوں کو صرف عبادت اور تقویٰ کی تربیت ہی نہیں قرار دیا گیا، بلکہ انھیں مزید برآں اُس عظیم الشان نعمت ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ بھی ٹھیرایا گیا ہے، جو قرآن کی شکل میں اُس نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔“
(مولانا مودودی،تفہیم القرآن ،ج ۱ص ۱۴۱)
۳۔
بارہ مہینوں میں سے صرف ۰۳ یا ۹۲ دن کے روزے، روزوں کی روحانی برکات کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ یہ کوئی بڑی مدت نہیں بلکہ گنتی کے چند ہی دن ہیں۔ اس وجہ سے خدا کی رضا جوئی اور اصلاح نفس کے طالب اس مدت کو کوئی طویل مدت نہیں سمجھتے بلکہ نہایت قلیل اور چند روزہ سمجھتے ہیں۔
( مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن،ج۱ ص ۶۴۴)
۴۔ ”نماز اور زکوٰة کے بعد تیسری اہم عبادت روزہ ہے۔عربی زبان میں اِس کے لیے ’ صوم‘ کا لفظ آتا ہے، جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اُس کو ترک کردینے کے ہیں۔ گھوڑوں کو تربیت دینے کے لیے جب بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تھا تواہل عرب اِسے اُن کے صوم سے تعبیر کرتے تھے۔ شریعت کی اصطلاح میں یہ لفظ خاص حدود وقیود کے ساتھ کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اِسی کو روزہ کہتے ہیں۔ انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے، اِس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اُس کا جذبۂ عبادت جب اُس کے اِس عملی وجود سے متعلق ہوتا ہے تو پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ روزہ اِسی اطاعت کا علامتی اظہارہے۔ اِس میں بندہ اپنے پروردگار کے حکم پراور اُس کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں بعض مباحات کو اپنے لیے حرام قرار دے کر مجسم اطاعت بن جاتا او راِس طرح گویا زبان حال سے اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے حکم سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔وہ اگر قانون فطرت کی رو سے جائز کسی شے کو بھی اُس کے لیے ممنوع ٹھیرا دیتا ہے تو بندے کی حیثیت سے زیبا یہی ہے کہ وہ بے چون وچرا اِس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ “
(جاوید احمد غامدی ،میزان،ص۳۵۵،۳۵۴)
۵۔
”روزے کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیزگاری کی قوت پیدا ہو گی اور نفسانی خواہشوں کوقابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لوگے۔ “
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن،ج ۱ ،ص ۴۰۳)
۶۔
”روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کے اوپر بھوک کے احوال پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ اس کے اندر عجز او رتضرع (گڑگڑانا)اور انابت(توبہ) کی کیفیات ابھریں، وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔تضرع اور شکر دو انتہائی مطلوب دینی کیفیات ہیں۔ رمضان کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ دن کی بھوک اور رات کی شکم سیری کے ذریعہ یہ دونوں مطلوب کیفیات آدمی کے اندر پیدا کی جائیں۔روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے لیے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لو۔“
(مولانا وحید الدین خان، الرسالہ دسمبر ۹۹۹۱، ص ۴)
۷۔
”رمضان کا پورا مہینا روزہ دار کو سخت ڈسپلن کے تحت گزارنا ہوتا ہے۔ سونا او رجاگنا، کھانا ور پینا، غرض ہر مشغولیت کو ایک سخت قسم کے نظام الاوقات کے تحت انجام دینا ہوتا ہے اس طرح کی ایک منظم زندگی پورے مہینا تک جاری رہتی ہے۔ اس طرح کی ایک ماہانہ زندگی آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں بھی نظم اور ڈسپلن کے تحت گزارے۔روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ ایک با اصول انسان بنا ہوا ہو۔ و ہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے کنٹرول میں دیے ہوئے ہو۔“ (مولانا وحید الدین خان،الرسالہ جنوری ۹۹۹۱، ص ۵)
۸۔
”روزے سے مقصود یہ نہیں کہ جسمانی خواہشیں بالکل ترک کر دی جائیں بلکہ مقصود ضبط و اعتدال ہے۔“
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن ،ج ۱ ،ص ۴۰۳)
۹۔
”روزہ آدمی کی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دباتا ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف احساسات کو بیدا رکرتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کر سکے۔روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آنے والے دن کو اس سے پہلے محسوس کرے جب کہ وہ بالکل سامنے آ چکا ہو۔ وہ موت سے پہلے موت کے بعد کی تیاری کرنے میں لگ جائے۔ “ (مولانا وحید الدین خان،الرسالہ دسمبر۰۰۰۲، ص ۱۳)
۱۰۔
”روزے کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیزگاری کی قوت پیدا ہو گی اور نفسانی خواہشوں کوقابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لوگے۔ “
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن،ج ۱ ،ص ۳۰۴)
۱۱۔
”روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کے اوپر بھوک کے احوال پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ اس کے اندر عجز او رتضرع (گڑگڑانا)اور انابت(توبہ) کی کیفیات ابھریں، وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔تضرع اور شکر دو انتہائی مطلوب دینی کیفیات ہیں۔ رمضان کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ دن کی بھوک اور رات کی شکم سیری کے ذریعہ یہ دونوں مطلوب کیفیات آدمی کے اندر پیدا کی جائیں۔روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے لیے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لو۔“
(مولانا وحید الدین خان، الرسالہ دسمبر ۱۹۹۹، ص ۴)
۱۲۔
”رمضان کا پورا مہینا روزہ دار کو سخت ڈسپلن کے تحت گزارنا ہوتا ہے۔ سونا او رجاگنا، کھانا ور پینا، غرض ہر مشغولیت کو ایک سخت قسم کے نظام الاوقات کے تحت انجام دینا ہوتا ہے اس طرح کی ایک منظم زندگی پورے مہینا تک جاری رہتی ہے۔ اس طرح کی ایک ماہانہ زندگی آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں بھی نظم اور ڈسپلن کے تحت گزارے۔روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ ایک با اصول انسان بنا ہوا ہو۔ و ہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے کنٹرول میں دیے ہوئے ہو۔“ (مولانا وحید الدین خان،الرسالہ جنوری ۱۹۹۹، ص ۵)
۱۳۔
”روزے سے مقصود یہ نہیں کہ جسمانی خواہشیں بالکل ترک کر دی جائیں بلکہ مقصود ضبط و اعتدال ہے۔“
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن ،ج ۱ ،ص ۳۰۴)
۱۴۔
”روزہ آدمی کی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دباتا ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف احساسات کو بیدا رکرتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کر سکے۔روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آنے والے دن کو اس سے پہلے محسوس کرے جب کہ وہ بالکل سامنے آ چکا ہو۔ وہ موت سے پہلے موت کے بعد کی تیاری کرنے میں لگ جائے۔ “ (مولانا وحید الدین خان،الرسالہ دسمبر۲۰۰۰، ص ۱۳)
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|