|
|
|
|
|
|
حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ)
نام اور کنیت
حضرت ابو بکر عام الفیل (وہ سال جس میں ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا) کے اڑھائی برس بعد 572 ءمیں پیدا ہوئے۔ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اڑھائی برس چھوٹے تھے۔ آپ کا نام عبد اللہ تھا اور کنیت ابو بکرؓ، والد کی کنیت ابو قحافہ اور نام عثمان بن عامر تھا۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام لانے سے قبل آپ کا نام عبد الکعبہ تھا، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام عبد اللہ رکھ دیا۔
قبیلہ
حضرت ابو بکرؓ قبیلہ تیم بن مرہ بن کعب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا نسب آٹھویں پشت میں مرہ پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔
آپ کا پیشہ تجارت تھا۔ آپ بہترین اخلاق کے مالک، رحم دل اور نرم خو تھے۔ عقل مندی ، دور اندیشی اور بلند فکری کے لحاظ سے مکہ کے بہت کم لوگ آپ کے ہم پلہ تھے۔ خلیفہ اول اور مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے آپ تھے۔آپؓ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے والد تھے۔آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ ہجرت کی۔
انہوں نے اپنی تمام دولت راہ خدا میں خرچ کر دی۔ اسلام لانے کے بعد آپ کی زیادہ تر زندگی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں گزری۔ جب نبی اکرم کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے حکم دیا کہ ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ایک دن ابو بکرؓ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ حضرت بلال نے حضرت ابوبکر کو نہ پا کر حضرت عمرؓ سے نماز پڑھانے کو کہا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ابو بکر نماز پڑھائیں۔
زمانہ خلافت صدیقی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ اس قدرگہراتھا کہ اسے خود برداشت کر لینااورآپ کے بعد آپ کی غمگین امت کو درست سمت میں لے کر چلنا ایسا کارنامہ تھا جو حضرت ابو بکر ہی انجام دے سکتے تھے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر ؓ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ مقرر ہوئے۔ خلافت کا منصب سنبھالتے ہی آپ کو مرتدوں کے فتنے اور اسامہ کے لشکر کی مشکل پیش آئی۔(مرتد اصطلاح میں اس شخص کو کہتے ہیں جو حضور ﷺ کے دور میں ایمان لا کر دوبارہ کافر ہو جائے ۔ اکثرعلما اس کو بھی مرتدکہتے ہیں جو اسلام چھوڑ کر غیر مسلم ہو جائے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عربوں کی بدوی فطرت بیدار ہو گئی۔ وہ مرکز مدینہ سے آزاد ہوکر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ بعض قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف اسامہ کے لشکر کا مسئلہ بن آیا۔ اس لشکر کو خود نبی اکرم نے شام کی سرحد پر رومیوں سے جنگ کے لیے تیار کیا تھا۔ لیکن اب بعض صحابہ اس لشکر کی روانگی کے خلاف تھے، جبکہ حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ جنگل کے درندے مجھے اٹھا کر لے جائیں گے تو بھی میں اسامہ کے اس لشکر کو روانہ ہونے سے نہیں روک سکتا۔اس کے علاوہ آپ کے زمانہ ¿ خلافت میں بہت سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے بھی پیدا ہو گئے۔ آپ نے اپنی دور اندیشی اور فہم و فراست سے ان معاملات کو بڑے اچھے طریقے سے حل کیا۔ سیدنا ابو بکر نے اپنی خلافت کی ذمہ داریاں انتہائی تقویٰ و امانت کے ساتھ ادا کیں۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ ان کی اہلیہ نے حلوہ کھانے کی فرمایش کی تو مسلمانوں کے بیت المال پر بوجھ ڈالنا منظور نہ کیا، بلکہ روزانہ ملنے والے وظیفے میں سے کچھ رقم پس انداز کی تب حلوہ بنایا ۔ آپ کا دور خلافت تقریباً ستائیس ماہ رہا۔آپ کے دور خلافت میں مسلمانوں کومتعدد فتوحات ہوئیں۔
وفات اور مدفن
آپؓ (22جمادی الثانی 13ھ)23اگست 634 میں مدینہ میں فوت ہوئے ۔ اپنی وفات سے پہلے آپ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کی وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیں۔ لوگوں نے آپ کی ہدایت پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر مبارک 61 سال تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی ٰعنہ کو وفات کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روضہ مبارک میں آپ کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا جو کہ ایک بہت بڑی سعادت تھی۔
حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) عمر ابن الخطاب
نام و نسب، پیدائش
حضرت عمر بن خطاب کی تاریخ پیدائش معلوم نہیں، البتہ ہجرت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال سے کچھ کم تھی۔ اس حساب سے وہ عام الفیل کے 13 سال بعد اور حرب فجار (عربوں کے کچھ مہینے ایسے تھے جن میں وہ جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے، یہ جنگ انھی حرام مہینوں میں ہوئی ۔ اس لیے اسے حرب فجار (برائی کی جنگ) کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ دو عرب قبیلوں قریش اور قیس کے درمیان ہوئی تھی) کے 4 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ عیسوی حساب سے ان کا سن پیدائش قریباً 571ءبنتا ہے۔ آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب وکنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔ایک مشہور روایت کے مطابق آپ نے بعثت نبوی کے چھٹے سال ہجرت سے ۴ سال قبل ذو الحجہ کے مہنیے میں اسلام قبول کیا۔
ابتدائی زندگی
آپ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ابتدا میںحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ آپ کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لےے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.
ہجرت کے موقع پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا۔آپ نے تلوار ہاتھ میں لی، کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا :تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے، اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔
رسول کریم نے آپ کے حوالے سے فرمایا:”اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔“
ایک اور موقع پر فرمایا: ”جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔“
مزید ایک موقع پر فرمایا : ”اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔“
دور خلافت
مرض الموت میں حضرت ابوبکر صدیق نے خلیفہ کا انتخاب کرنا ضروری سمجھا۔ آپؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عثمان، حضرت سعید بن زید اور دوسرے اصحاب رسول کے مشورے سے حضرت عمر بن خطاب کو اپنا جان نشین مقرر کیا۔ آپ کی بیعت کا سلسلہ تین دن تک چلتا رہا۔ حضرت عمر اہل ایمان کے ساتھ اولاد کا سا برتاوکرتے تھے۔ انھیں ہر دم خوش دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے دکھوں کا اسی طرح مداوا کرتے جس طرح ایک باپ کرتا ہے۔ آپؓ کے دور خلافت میں ایک دفعہ قحط پڑ گیا۔ جس کی وجہ سے کئی امراض پھیل گئے کئی لوگ چل بسے اور کئی بیمار پڑ گئے۔ آپ مریضوں کا علاج معالجہ اورمردوں کی تجہیز و تکفین خود کراتے۔ آپ ؓ رات کو گلی کوچوں میں چکر لگاتے اور اپنی رعایا کی خبری گیری رکھتے اور اگر کسی کو مصیبت میں مبتلا پاتے تو خود اس کی مدد کرتے۔ عدل فاروقی ضرب المثل مانا جاتا ہے۔ اس لیے کہ حضرت عمر میں حد درجہ اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا تھا۔ آپ کے عہد خلافت میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ فتوحات ہوئیں۔ عہد فاروقی میں قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں اور مصر و شام کے علاقے بھی اسلامی ریاست کے ماتحت ہو گئے۔ بیت المقدس کی فتح بھی آپ ؓ کی بہادری اور فہم و فراست کا نتیجہ تھی۔ ان کے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔
وفات
آپ کی عمر کے بارے میں 53 سے لے کر 63 سال تک کے اقوال پائے جاتے ہیں۔ آپ کا دور خلافت 10سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ بدھ 26 ذو الحجہ 23 ھ کی فجر ہوئی۔ سیدنا عمر ؓ نماز پڑھانے مسجد نبوی میں آئے۔ ابھی صفیں سیدھی نہ ہوئی تھیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے عیسائی غلام ابو لولو فیروز نے آپ پر اچانک حملہ کر دیا۔ اس نے چھ وار کیے، ایک زیر ناف لگا جو مہلک ثابت ہوا۔جمعرات 27 ذی الحجہ کی صبح آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلومیں دفن کر دیا گیا۔
حضرت عثمان ابن عفان (رضی اللہ عنہ)
نام و نسب اور خاندان
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے تھے۔ عام الفیل کے چھ برس بعد 576 ءمیں مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام عثمان، کنیت ابو عبد اللہ اور ابو عمرو تھی۔ والد کا نام عفان تھا۔ قریش کی شاخ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پانچویں پشت عبد مناف پر ان کا نسب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے۔
آپ نے زمانہ جاہلیت ہی میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ بڑے نیک فطرت تھے۔ جاہلیت کی کسی برائی سے دامن آلودہ نہ ہوا۔ آپ کا پیشہ تجارت تھا۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فراخ دلی سے اللہ کی راہ میںدولت خرچ کرتے، اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔مسلمانوں نے جب پہلی ہجرت حبشہ کی تو اس میں آپؓ بھی شامل تھے۔ آپ کو ذوالنورین (دو نوروں والا) اس لیے کہا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحب زادیاں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثوم آپ کے عقد نکاح میں آئیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ انھیں ملاءاعلیٰ میں بھی ذو النورین پکارا جاتا ہے۔یہ وہ واحد اعزاز ہے جو کسی اور حاصل نہ ہوسکا۔
خلافت
خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ تندرست تھے کہ کچھ اہل ایمان نے انھیں اپنا جانشین مقرر کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کچھ غور و فکر کے بعد انھیں اندیشہ ہوا کہ اگر اہل ایمان کی رہنمائی نہ کی گئی تو وہ اختلاف میں مبتلا جائیں گے۔ چنانچہ انھوں نے کسی فرد کو نامزد کرنے کے بجائے عشرہ مبشرہ (وہ صحابی جن کو دنیاہی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی) میں سے چھ صحابہ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر بن العوام،حضرت طلحہ بن عبید، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد الرحمان بن عوف کی مجلس بنانا پسند کی اور فرمایا کہ تم باہمی رضا مندی اور آپس میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لو۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت عثمان کا بطور خلیفہ کے انتخاب عمل میں آیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی ذمہ داریاںانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا بہت سا علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ آپ نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے لوگوں کے وظائف بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
شہادت
اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافت راشدہ ایک نظر نہ بھاتی تھی۔ یہ منافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دنیوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کر یں گے۔ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا متفقہ خلیفہ بنا لیا۔حضرت ابو بکر کی خلافت راشدہ کے بعد امت نے کامل اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اسلام چن لیا۔حضرت عمر کے بعد آپ کا خلافت کا منصب سنبھالنا بھی ان منافقوں کے لئے جان لیوا صدمے سے کم نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور آپ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی اور ایسے وقت میں کاشانہ خلافت کا محاصرہ کیا جب اکثر صحابہ کرام حج کے لیے مکہ گئے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنی جان کی خاطر کسی مسلمان کو مزاحمت کرنے کی اجازت نہ دی۔اور چالیس روز تک بند رہے۔18 ذوالحج کو باغی آپ کے گھر میں داخل ہو گئے اور آپ کو اس وقت شہید کردیا جب آپ قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔اس دلخراش سانحہ میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا کی انگلیاںمبارک بھی شہید ہو گئیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)
نام و نسب
آپ کا نام علی بن ابی طالب اور کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے ۔ اسد اللہ، حیدر اور المرتضیٰ آپ کے القاب ہیں۔
حضرت علی -599) (661 رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔(آپ کی ولادت کی تاریخ کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں ملتی، بعض مورخین کے نزدیک آپ کی ولادت عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی۔ بعض کے نزدیک آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے تیس سال بعد پیدا ہوئے اور بعض کے نزدیک آپ کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی۔ ) آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ حضرت علی ؓ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔قبول اسلام کے وقت آپ کی عمر تقریباً گیارہ بارہ برس تھی۔
خلافت علی اور اس کے خصائص
پچیس برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گوشہ نشینی میں بسر کی۔ 35ھ میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد اس وقت مدینہ میں موجود لوگوں نے آپ کو خلیفہ بنا لیا۔ آپ کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بھی جنگیں ہوئیں۔ وجہ یہ تھی کہ ان دونوں کا خیال تھا کہ حضرت علیؓ کو پہلے حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کو پکڑنا چاہےے اور پھر خلیفہ کا فیصلہ ہونا چاہےے جبکہ حضرت علیؓ فرماتے تھے کہ پہلے میری بیعت کرو پھر قاتلوں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا اور حکومت دو بڑے گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک کے لیڈر حضرت علیؓ اور دوسرے کے حضرت امیر معاویہ ؓ تھے۔ اسی وجہ سے آپ کے دور خلافت میں مسلمانوں ہی کے خلاف جو دو مشہور جنگیں ، جنگ جمل (یہ جنگ حضرت علی اور حضرت عائشہ کے درمیان ہوئی) اور جنگ صفین (یہ جنگ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان صفین کے مقام پر ہوئی) ہوئی۔اس خانہ جنگی کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ سکون اور اطمینان سے حکومت کرتے ۔ فتوحات کا سلسلہ تو تقریباًبالکل رک گیا۔ پھر بھی آپ نے اس مختصر مدت میں اسلام کی سادہ زندگی ،مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردیے۔ آپ خلیفہ اسلام ہونے کے باوجودکھجوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا برا نہیں سمجھتے تھے۔پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے ،غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے ، جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر تقسیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ہو سکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے۔مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں ۔ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے آ کر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہیں ہونا چاہیے ، آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے۔آپ اسلامی خزانے میںمال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے ۔
شہادت
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لایا گیا اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پائوں وغیرہ نہ کاٹے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی رضی اللہ عنہ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ا ور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تجہیزو تکفین کی اور کوفہ میں نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔
|
|
|
|
|
|
|
|
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبرتھے۔سورئہ نساءمیں آپ کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہا گیا ہے۔سورۃ انعام کی آیت 74 میں آپ کے والد کا نام آزر بیان ہوا ہے۔بعض محققین نے اس سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ درحقیقت ان کے چچا تھے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عربی میں چچا کو بھی باپ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
روایات کے مطابق ابراہیم علیہ السلام عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ اس شہر کے لوگ بت پرست تھے۔ خود آپ کے والد نہ صرف بت پرست بلکہ بت فروش بھی تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور آپ نے تبلیغ شروع کردی۔ ایک دن جبکہ شہر کے لوگ کہیں باہر گئے ہوئے تھے تو آپ نے عبادت خانہ میں جا کر سارے بت توڑ دیے۔ اس پر بادشاہ نمرود نے آپ کو بھڑکتے ہوئے الائو میں پھینکے کا حکم دیا۔ لیکن خدا کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہوگئی اور آپ بالکل محفو ظ رہے۔ کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطا بق فلسطین ہجرت کر گئے اور دین کی تبلیغ کے لیے دو مقام منتخب کیے۔ ایک بیت المقدس اور دوسرا مکہ۔
آپ کی دو بیویاں تھیں۔ہاجرہ اور سارہ۔ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور سارہ سے حضرت اسحاق علیہ السلام۔ آپ نے حضرت اسماعیل کی مدد سے کعبے کو ازسرنو تعمیر کیا۔ آپ غیبی اشاروں کی بنا پر اپنے بیٹے( اسماعیل علیہ السلام) کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوگئے۔ مگر خدا نے اسماعیل علیہ السلام کی بجائے دنبہ ذبح کرادیا۔ عیدالاضحٰی اسی واقعے کی یادگارہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور اسی نسبت سے مسلمان ملت ابراہیمی کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے175 برس کی عمر میں وفات پائی۔
حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق نبیوں کے خاندان سے تھا۔چنانچہ گیارہ سال کی عمرہی سے نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے تھے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ اس بات سے حضرت یعقوب کو ان کے صاحب شان ہونے کا اندازہ ہوا۔ وہ ان کی حفاظت کرنے لگے۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے جب اپنے باپ کا ان کی طرف میلان دیکھا تو ان میں حسد پیدا ہوا اورانہوں نے اپنے بھائی یوسف کے قتل کا ارادہ کر لیا۔ ایک دن وہ انہیں جنگل میں لے گئے اور ایک کنویں میں گرا دیا اور اپنے والد حضرت یعقوب کو واپس جا کر یہ خبر دی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔
حضرت یوسف کو وہاں سے گزرنے والے ایک قافلے نے نکال لیا اور مصر لے جا کر غلام کے طور پر فروخت کر دیا ۔ عزیز مصرنے آپ کو خرید لیااور اپنے گھر لے گیا۔حضرت یوسف وہاں کئی سال تک رہے۔وہاں ان کے کردار پر الزام لگایا گیا تو اس کو ثابت نہ کیا جا سکا۔ آپ کو بغیر الزام ثابت کیے جیل میں ڈال دیا گیا، وہاں سے کئی سال کے بعدآپ اس وقت نکلے جب آپ نے بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر بیان کی اور اپنی خدمات پیش کیں۔
پھرمصر اور اس کے اردگر د کے علاقوں میں ایسا زبر دست قحط آیا جو سات سال پر محیط ہو گیا۔ حضرت یوسف جو اس وقت عزیز مصر کے عہدے پر فائز تھے،کے پاس ان کے بھائی غلے کے خریدار وں کی حیثیت سے آئے۔ حضرت یوسف نے ان کو پہچان لیا لیکن وہ نہ پہچان سکے۔ پھر دوسری بار اور پھر تیسری بار آئے اور آخر ی بار حضرت یوسف کے کہنے پر وہ اپنے والدین کو بھی مصر لے آئے۔
اس وقت سے حضرت یعقوب کا خاندان یعنی بنی اسرائیل مصر میں قیام پذیر ہے۔ایک دوصدیوں بعد مصر میں قبطیوں کی حکومت قائم ہوئی ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا اور ان پر حکومت کرنے لگے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو وہاں مبعوث کیا اور ان کو نجات دلائی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں تمام پیغمبروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقامات پر بیان ہوا ہے۔تیس سے زیادہ سورتوں میں حضرت موسیٰ اور فرعون اور بنی اسرائیل کا کم وبیش سومرتبہ ذکر ہوا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست کلام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے، اسی بنا پر آپ کو کلیم اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد معجزے عطا کیے تھے۔
فرعون کو نجومیوں نے بتایا کہ تمھاری رعایا میں سے ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمھاری سلطنت کو ختم کر دے گا چنانچہ فرعون نے یہ حکم جاری کر دیا کہ کوئی بھی بچہ پیدا ہو تو اسے قتل کر دیا جائے۔ دوسری روایت جو کہ قرآن میں ہے، اس کے مطابق فرعون نے یہ قانون بنا رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو قتل کر دیا جائے تاکہ ان کی آبادی کم ہو سکے ۔ جب حضرت موسیٰ کی پیدایش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو وحی کے ذریعے سے ہدایت کی کہ وہ آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں بہا دیں۔ آپ نے حضرت موسٰی کو ایک صندوق میں لٹا کر دریا میں بہا دیا ، دریا کی موجیں اسے ساحل سے دور لے گئیں۔ فرعون کی نیک دل بیوی نے صندوق کو نکال لیا اور اپنے ہاں پالنا شروع کر دیا ۔
حضرت موسی ٰعلیہ السلام بالغ ہونے تک فرعون کے محل میں نہایت احترام کے ساتھ رہے۔
جوانی کے زمانے میں آپ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کے ایک آدمی کی مدد میں فرعونی قوم کے ایک شخص کو مکا مارا جس سے وہ اتفاقی طور پر مر گیا۔ حضرت موسیٰ کو اندیشہ ہوا کہ اس کی سزا میں انہیں قتل نہ کر دیا جائے۔ اس لےے وہ شہر چھوڑ کر چلے گئے اور دور کے علاقے مدین میں قیام پذیر ہو ئے ۔ وہ کم وبیش دس سال رہے ۔ وہیں آپ کی شادی ہوئی اور بیٹے اور بیوی کے ساتھ واپس مصر تشریف لائے ، راستے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز کیا اور انہیں فرعون کے دربار میں جا کر توحید کی دعوت پیش کرنے کا حکم دیا ۔آپ نے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی اس ذمہ داری میں شریک فرما دیں ، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرما لی۔
حضرت موسیٰ نے فرعون کو توحید کی دعوت دی ، جسے اس نے قبول نہ کیا ، اگرچہ یہ فرعون وہ نہیں تھا جس کے گھر میں آپ کی پرورش ہوئی تھی لیکن پھر بھی اس نے موسیٰ علیہ السلام کے بچپن محل میں گزارنے کو ایک احسان کے طور پر پیش کیا۔پھر آپ کو جادو گر قرار دیا گیا اور دربارمیںآپ کا جادوگروں سے مقابلہ کرایاگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کی مدد کی اور جادو گر آپ پر ایمان لے آئے۔
حضرت موسی ٰنے بنی اسرائیل کو وہاں سے ہجرت کر اکے فلسطین لے جانے کے خدائی منصوبے پر عمل کیااور انہیں بحیرہ احمر پار کرا کے صحرائے سینا لے آئے۔ اس جگہ پر وہ عظیم الشان واقعہ پیش آیا کہ اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ کے سمندر پر لاٹھی مارنے کے نتیجے میں پانی نے ان کے لیے خشکی کا راستہ بنا دیا۔ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم بنی اسرائیل سمندرپار کر گئے ۔ فرعون اور اس کا لشکر جو ان کے تعاقب میں آرہاتھا، اس میں غرق ہو گیا۔ آپ جب اپنی قوم کو لے کر صحرائے سیناچلے گئے تو وہاں آپ کی قوم پر ایک خاص وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے من و سلویٰ( من ایک روایت کے مطابق خشک میوہ تھا جو اوس کی شکل میں گرتا تھا اور سلویٰ بٹیر کے مانند پرندے تھے جو آسانی سے شکار ہو جاتے تھے) نازل ہوتا رہا۔
صحرائے سینا میں آپ نے بنی اسرائیل کو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے اور فلسطین میں اپنی حکومت کے قیام پر ابھارا ، لیکن ایک لمبے عرصے تک غلامی کی زندگی بسر کرنے کے باعث ، ان میں بزدلی پیدا ہو گئی تھی اور جہاد کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہا تھا۔ جہاد سے ان کے انکار کے باعث اللہ تعالیٰ نے فلسطین کی ارض مقدس ان کے لیے حرام قرار دے دی ۔ پھر چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کے بعد ان کی اگلی نسل نے جنگ کر کے وہ علاقہ واپس لے لیا ، جو اس سے پہلے ان کے آباو ¿ اجداد حضرت اسحاق اور یعقوب کی ملکیت ہو ا کرتا تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
بنی اسرائیل میں ہزاروں سال سے جو نبوت کا سلسلہ چلا تھا، اس کا اختتام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہوا۔ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے۔ ان کے بعد بنی اسرائیل کو نبوت کے منصب سے ہٹا کر یہ منصب بنی اسماعیل کو عطا کر دیا گیا۔ آپ یہودی خاندان میں سے تھے اور بیت لحم شہر میں کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔ آپ کا بچپن اور لڑکپن کا زیادہ تر عرصہ وہاں کے ایک شہر ناصرہ میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متعدد معجزے عطا کیے گئے ، مثلاً آپ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو ٹھیک کر دیتے اور بچپن ہی میں باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ مردے کو زندہ کر دیتے ۔ مٹی سے پرندے بنا کر ان میں روح پھونک دیتے۔آپ یہ بھی بتا دیتے تھے کہ کسی نے کیا کھایا ہے، کیا خرچ کیا ہے اور گھر میں کیا ذخیرہ کر رکھا ہے۔ سب سے بڑا معجزہ آپ خود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ عیسائی آپ کو روح اللہ اور اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ نے زندگی بھر شادی نہ کی، نہ اپنے رہنے کے لیے کوئی گھر بنایا۔
حضرت عیسیٰ کے متعلق بعض مذاہب کے لوگوں میں مختلف قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ نصاریٰ میں سے بعض کاکہنا ہے کہ خدا یہی ہے جو مسیح کی صورت لے کر دنیا میں آیا ہے۔ بعض نے انھیں روح القدس(حضرت جبرائیل) اور خدا کا بیٹا کہا۔ بعض انھیں خدا کا جز کہتے تھے جیسا کہ آج کل عیسائیوں کاعقیدہ ہے کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں مل کر خدا ہیں۔ اسے تثلیث کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ کے متعلق تمام غلط عقائد کی تردید کر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا تھے، نہ خدا کے بیٹے اور نہ کچھ اور، بلکہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔
جب حضرت عیسیٰ نے نبوت کا اعلان کیا۔ زندگی کے تیس سال تک خداوند کی بادشاہت کی منادی کرتے رہے۔ اس ضمن میں آپ تمام فلسطین، دیکاپولس، گلیل، سامریہ اور دریائے اردن کے پار بھی گئے۔تاہم جب یروشلم گئے تو یہودیوں کے سردار کاہنوں، فقیہوں اور فریسیوں (قدیم یہودی فرقہ جو رسم پرستی اور ظاہر داری میں مشہور تھا) نے آپ پر کفر کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کرا دیا ۔ اور رومی حاکم پپلاطس کے ذریعے سے آپ کو صلیب پر چڑھا دیا۔
عیسائیت کے اکثر فرقوں کے مطابق آپ صلیب دیے جانے کے تین دن بعد مردوں میں سے جی اٹھے۔( اس واقعے کو قیامت المسیح کہا جاتا ہے۔)اور اس کے بعدآپ اپنے شاگردوں کو چالیس روز تک دکھائی دیتے رہے جس کے بعد آپ آسمان پر چڑھ گئے۔
ایک عیسائی فرقہ جس کے ماننے والوں کا نام” شہودیہوہ “ہے ، وہ ان سب باتوں کو نہیں مانتے۔ ان کے عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک نبی تھے اور خدا نہیں تھے۔ اور خدا (یہوہ)ایک ہی ہے۔ ان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی نہیں دی گئی۔
قرآن مجید میں ہے :
اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعویٰ)کی وجہ سے (بھی)کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے معاملہ مشتبہ کر دیا اور بے شک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقینا اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقت حال کا)کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انھوںنے عیسٰی (علیہ السلام)کو یقینا قتل نہیں کیا۔( النساء155-157)
|
|
|
|
|
|
|
|
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجایش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ءمیں الاقصیٰ انتفاضہ (ایک تحریک کا نام جس میں غیر مسلوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کو ممنوع کیا گیا) کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سفر معراج کے دوران میں مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاءکی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق (وہ جانور جس پر سوار ہو کر نبی معراج کی رات آسمان پر گئے) کے ذریعے سے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔سورئہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے ۔“ ( آیت نمبر 1)
نبی کریم کے فرمان کے مطابق عبادت کی غرض سے دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا جائز ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت کے بعد مسلمان16 سے 17 ماہ تک مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ قرار پایا۔
مسجد اقصیٰ کے نزدیک مسلمانوں کی تعمیرات
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ (ہیکل سلیمانی کی چٹان) اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا، جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورئہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔
اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے یہ تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔
پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان (حضرت سلیمان کی عبادت کی جگہ) رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ءمیں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
قبة الصخرہ
قبة الصخرة ہیکل سلیمانی کی چٹان یعنی قربانی کے پتھر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس پتھر کو یہود کے قبلہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن اسلامی روایات میں اس کے لیے کوئی تقدس اور فضیلت ثابت نہیں۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق سیدنا عمرؓ جب مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے تو انہوں نے نومسلم یہودی عالم کعب احبار سے پوچھا کہ ہمیں نماز کے لیے کون سی جگہ منتخب کرنی چاہیے؟ کعب نے کہا کہ اگر آپ صخرہ کے پیچھے نماز پڑھیں تو سارا بیت المقدس آپ کے سامنے ہوگا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہود کے قبلے کی تعظیم بھی ہو جائے گی۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے یہ کہہ کر ان کی تجویز مسترد کر دی کہ تمہارے ذہن پر ابھی تک یہودی اثرات موجود ہیں۔
اس پتھر کی تعظیم کا تصور بعد کے زمانے میں سیاسی مقاصد کے تحت باقاعدہ پیدا کیا گیا اور اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس پر ایک نہایت شاندار گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ ولید کے اس اقدام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ابن خلکان لکھتے ہیں:
”جب عبد الملک خلیفہ بنا تو اس نے ابن زبیر کی وجہ سے اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا کیونکہ ابن زبیر حج کی غرض سے مکہ مکرمہ آنے والے لوگوں سے اپنے لیے بیعت لیتے تھے۔ جب لوگوں کو حج سے روکا گیا تو انہوں نے بہت شور کیا چنانچہ عبد الملک نے بیت المقدس میں صخرہ کے اوپر عمارت بنا دی اور لوگ عرفہ کے دن یہاں حاضر ہو کر وقوف کی رسم ادا کرنے لگے۔“ (وفیات الاعیان ۳/۲۷)
امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:
”صخرہ کے پاس حضرت عمرؓ نے نماز پڑھی نہ صحابہ کرامؓ نے۔ نیز خلفاے راشدین کے زمانہ میں اس پر کوئی گنبد نہیں تھا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ، یزید اور مروان کے عہد حکومت میں یہ بغیر کسی گنبدکے تھا۔ پھر جب عبد الملک بن مروان نے ملک شام کو فتح کیا اور اس کے اور ابن زبیرؓ کے مابین اختلاف کی خلیج بڑھ گئی تو لوگ حج کر کے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے۔ یہ بات عبد الملک کو ناگوار گزری۔ اس نے چاہا کہ لوگوں کو ابن زبیرؓ کے پاس جانے سے روکا جائے۔ چنانچہ اس نے صخرہ پر ایک قبہ بنا دیا اور سردی گرمی میں اس پر غلاف دینے کا رواج شروع کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں بیت المقدس کی زیارت کا شوق پیدا ہو اور ابن زبیرؓ کے پاس جمع ہونے سے ہٹ جائیں۔ صحابہ کرامؓ اور تابعین میں اہل علم اس صخرہ کی تعظیم نہیں کرتے تھے۔“ (ماہنامہ ترجمان الحدیث، اپریل ۱۹۸۱ء، ص ۲۳)
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی دلیل کی بنیاد پر اس بات کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
|
|
|
|
|
|
|
|
جب کفار مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا حتمی فیصلہ کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اس سازش سے آگاہ کیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ نبی اکرم 27 صفر14 نبوی کی درمیانی رات اپنے مکان سے نکلے اور اپنے سب سے قابل اعتماد ساتھی حضرت ابو بکر صدیق کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ راستے میں آپ کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہجرت کے دوران میںآپ نے قبا ( مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ایک بالائی بستی) میں کچھ دن قیام کیا اور وہاں مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ آپ کی نبوت کے بعد پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ پھر آپ مدینہ تشریف لے گئے۔ اسی دن سے اس شہر کا نام یثرب کے بجائے مدینة الرسول (رسول کا شہر ) پڑ گیا، جسے مختصراً مدینہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلے آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر شروع کی۔ آپ اس مسجد کی تعمیر میں بذات خود شریک ہو گئے۔ آپ اس کی تعمیر کے لیے اینٹ اور پتھر خود ڈھوتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے تاریخ انسانی کا ایک اور روشن کارنامہ انجام دیا جسے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارے کے عمل کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کاموں کے بعدآپ نے غیر مسلموں کے ساتھ اپنے تعلقات منظم کرنے کی طرف توجہ فرمائی ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ قائم کیا، جس میں انھیں دین و مذہب اورجان و مال کی مکمل آزادی دی گئی تھی۔ اسے میثاق مدینہ کہتے ہیں۔
ہجرت اور ہجری کیلنڈر کی ابتدا
مسلمانوں کی نظر میں ہمیشہ ہجرت مدینہ کی بے حد اہمیت رہی ہے ، اسی کے ذریعے سے حق وباطل کے مابین فرق واضح ہوا، یہ ہجرت اللہ کی طرف ہجرت قرار پائی، اسے ہی شرک اور کفر سے اسلام کی طرف ہجرت قرار دیا گیا۔ یہی ہجرت جاہلی معاشرے اور مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیا م کے مابین حد فاصل قرار پائی۔ اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلامی کیلنڈر یا ہجری کیلنڈر کی ابتدا کی گئی۔
|
|
|
|
|
|
|
|
حبشہ کی طرف پہلی ہجرت
ہجرت کے لفظی معنی چھوڑنا ہے۔ جو لوگ دینی یا دینوی مقصد کے لیے اپنا شہر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں ان کومہاجر کہا جاتا ہے۔ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہوا تو مسلمان محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ ابتدا میں یہ عمل معمولی تھا ، لیکن یہ روز بروز بڑھتا گیا اور نبوت کے پانچویں سال کے درمیان میں ظلم و ستم کا یہ سلسلہ اس حد تک پہنچ گیا کہ مسلمانوں کے لیے مکہ میں رہنا مشکل ہو گیا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) ہجرت کر جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حبشہ کا بادشاہ اصحمہ ایک عادل بادشاہ ہے اور کسی پر ظلم نہیں کرتا، اسی لیے آپ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا مشورہ دیا۔رجب، ۵ نبوی کو صحابہ کرام کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کے لیڈر تھے اور ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی حضرت رقیہ تھیں۔
حبشہ کی طرف دوسری ہجرت
جس سال پہلی ہجرت حبشہ ہوئی، اسی سال یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں قریش کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے سورئہ نجم کی تلاوت شروع کر دی۔ اور ان کے کانوں میں ایک انتہائی خوب صورت اور عظمت لیے ہوئے کلام الہٰی کی آواز پڑی تو انھیںہوش نہ رہا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’فاسجدوا للہ واعبدوا‘ (اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو) والی آیت تلاوت کی اور اس کے ساتھ سجدہ فرمایا تو ان کفار میں سے کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ اس واقعہ کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو ہوئی، لیکن اس کی اصل صورت حال سے وہ بے خبر رہے اور یہ سمجھے کہ شاید قریش مسلمان ہو گئے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے شوال کے مہینے میں مکہ واپسی کی راہ لی۔ لیکن جب مکہ سے ایک دن سے بھی کم فاصلے پر پہنچے تو انھیں حقیقت کا پتا چلا۔ چنانچہ کچھ لوگ تو حبشہ واپس چلے گئے اور کچھ چھپ چھپا کر مکہ میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد مہاجرین پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عموماً قریش کا ظلم و ستم اور بڑھ گیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو پھر حبشہ ہجرت کر جانے کا حکم دیا۔ اس دفعہ کل82 یا 83 مرد وں اور18 یا 20 عورتوں نے ہجرت کی۔
|
|
|
|
|
|
|
|
روضہ رسول کے اندر جانے پر پابندی کے باعث یہ اندازہ لگانا کہ اس کے اندر کیا کچھ ہے ، بے حد دشوار ہے۔ اس کے بارے میں جو تفصیلات معلوم ہوئی ہیں وہ کچھ ا س طرح سے ہیں:
یہ وہ حجرہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعدزندگی بسر کی اور وہیں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور وہیں دفن ہوئے۔ یہ حجرہ مسجد نبوی کی توسیع کے بعد کم وبیش درمیان میں آگیا ہے، ابتدا میں جب مسجد تعمیر کی گئی تو یہ اس کی مشرقی سمت میں تھا اور اس کا دروازہ مغربی سمت میں کھلتا تھا ، جس سے حضور ﷺمسجد میں داخل ہوتے تھے۔ اسی جگہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبرکے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اس کمرے کی جنوبی سمت میں واقع ہے ۔حضور ﷺکے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں ہیں۔ اس حجرے کے ۶ دروازے ہیں۔حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کے اردگرد پانچ اضلاع کی دیوار بنا دی تھی تاکہ نماز پڑھتے ہوئے لوگوں کا رخ حجرے کی طر ف نہ ہو۔
صدیوں سے اس حجرے کی دیواروں پر غلاف چڑھایا جاتا ہے،یہ غلاف خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے اوپر سرخ ریشم کی ایک پٹی ہے ۔ اس کے اوپر سورئہ فتح کی آیات سونے کی تاروں سے لکھی گئی ہیں۔ عباسی دور میں عباسی خلفا اس غلاف کو مصر سے بنواتے تھے ۔ کئی اسلامی ممالک کو روضہ رسول کے لیے غلاف تیار کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، مثلاً ترکی ، مصر، ہندوستان وغیرہ۔ سعودی سلطنت کے قائم ہونے کے بعد عبدالعزیز بن آل سعود نے اس مقصد کے لیے ایک فیکٹری قائم کی، اس فیکٹری میں خانہ کعبہ کے لیے ہر سال ایک غلاف تیار ہوتا ہے۔ یہیں روضہ رسول کے لیے بھی غلاف تیار کیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ سرخ ریشم کے کچھ اور ٹکڑے بھی ہیں جن پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت عمرکی قبروں کے حوالے سے اشارات لکھے ہوئے ہیں۔روضہ رسول کا غلاف ، غلاف کعبہ کی طرح ہر سال تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موسم کی سختیوں اور انسانی ہاتھ کے ساتھ لگنے سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ اسی وقت تبدیل کیا جاتا ہے جب اس کی ضرورت محسوس ہو۔
روضہ رسول کے حجرے کے اندر پرانے چراغ موجود ہیں جو قدیم زمانے سے وہاں تحفہ کے طور پر بھیجے جاتے رہے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
|
|
مسجد حرام میں کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کے فاصلے پر تہ خانے میں آب زمزم کا کنواں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک معجزے کی صورت میں مکہ مکرمہ کے ایسے علاقے میں جہاں اس وقت نہ پانی تھا اور نہ سبزہ ، جاری کیا جو وقت کے ساتھ سوکھ گیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے اشارہ خداوندی سے اسے دوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سے بڑا دہانہ حجر اسود کے پاس ہے جبکہ اذان کی جگہ کے علاوہ صفا و مروہ کے مختلف مقامات سے بھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنوﺅں سے پانی ڈول کے ذریعے سے نکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہے اور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
|
|
|
|
|
|
|
|
کعبہ کے جنوب مشرقی رکن (مشرق کی طرف والے کونے) پر نصب تقریباً اڑھائی فٹ قطر کے چاندی کے فریم میں لگے ہوئے مختلف شکلوں کے8 چھوٹے چھوٹے سیاہ پتھر ہیں ، جنھیں موم کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔ ان کے بار ے میں عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم جب کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت اسے حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے لائے تھے اور بعد ازاں تعمیر قریش کے دوران میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس جگہ نصب کیا تھا اور ایک بہت بڑے فساد سے اپنی قبیلہ قریش کو بچایا تھا۔ یہ مقدس پتھر حجاج بن یوسف کے کعبہ پر حملے میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا جسے بعد میں چاندی کے فریم میں لگا دیا گیا۔
کعبہ شریف کا طواف بھی حجر اسود سے شروع ہوتا ہے ۔اگر ممکن ہو تو ہر چکر پر حجر اسود کو بوسہ دینا چاہئے ورنہ دور ہی سے ہاتھ کے اشارے سے بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
|
|
|
|
|
|
|
|
خانہ کعبہ سے تقریباً سوا تیرہ میٹر مشرق کی جانب مقام ابراہیم قائم ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قد سے اونچی دیوار قائم کرنے کے لئے استعمال کیا تھا تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر دیوار تعمیر کریں۔ 1967ءسے پہلے اس مقام پر ایک کمرہ تھا مگر اب یہ پتھر سونے کی ایک جالی میں بند ہے۔ اس مقام کو مصلیٰ کا درجہ حاصل ہے اور امام کعبہ اسی کی طرف سے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاتے ہیں۔ طواف کے بعد یہاں دو رکعت نفل پڑھنے کا حکم ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
|
کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار تعمیر1996ءمیں ہوئی اور اس کی بنیادوں کو نئے سرے سے اٹھایا گیا ۔ کعبہ کی سطح طواف کرنے کی جگہ(مطاف) سے تقریباً دو میٹر بلند ہے اور یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سے زیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کے شمال کی طرف نصف دائرے میں جوجگہ ہے اسے حطیم کہتے ہیں۔ اس میں تعمیرِ ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کے علاوہ اس مکان کی جگہ بھی شامل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رہنے کے لئے بنایا تھا اسے باب اسماعیل کہا جاتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
|
|
خانہ کعبہ کے اندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کے متوازی ایک اور دروازہ تھاجس کی دیوار میں نشان نظر آتا ہے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کیا کرتے تھے۔ کعبہ کے اندر رکن عراقی ( شمال کی طرف کونے )کے پاس باب توبہ (توبہ کا دروازہ) ہے، اس کے ساتھ المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہے جو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کے اندرونی حصہ کی سنگ مرمر کے پتھروں سے تعمیر ہوئی ہے اور قیمتی پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک صندوق بھی ہے جس میں قدیم تحائف ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
|
امام حمیدالدین فراہی کی تحقیق کے مطابق خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر بننے والا پہلا عبادت خانہ ہے ۔ اور حضرت ابراہیمؑ بابل سے اللہ کے حکم سے اسی تلاش میں نکلے تھے۔ تقریباً چھ ہزار سال پہلے جب اللہ کے حکم سے وہ یہاں آئے تو خانہ کعبہ وقت کے ساتھ ساتھ اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے گر چکا تھا اوراِس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا تھا۔ پروردگار سے وحی پاکر حضرت ابراہیمؑ نے اِس کی پرانی بنیادیں دریافت کیں اور اپنے فرزنداسمٰعیل کی مدد سے بغیر چھت کے ایک عمارت کھڑی کردی۔ اُن کے مقدس ہاتھوں کی یہ تعمیر بھی گردش ایام سے محفوظ نہ رہی اوربالآخر منہدم ہوگئی۔ اِس کے بعدپہلے عمالقہ ( ایک عرب قبیلہ جس نے مصر پر بھی حکومت کی) نے اور پھرقبیلۂ جرہم (یہ یمن کا خانہ بدوش قبیلہ تھا جو سب سے پہلے مکہ آ کر آباد ہوا) نے اِسے تعمیر کیا۔ بعض حادتاث کی وجہ سے بنو جرہم کی بنائی ہوئی عمارت بھی گر گئی تو قریش نے اِس کی تعمیر نو کا بندوبست کیا، لیکن سرمایہ کم پڑجانے کی وجہ سے یہ عمارت اصل ابراہیمی بنیادوں پر قائم نہ ہو سکی۔ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پانچ سال پہلے پیش آیا۔ چنانچہ آپ بھی تعمیر کے اِس کام میں شریک رہے ، بلکہ مورخین کا بیان ہے کہ حجراسود کے دوبارہ نصب کرنے کا جھگڑا آپ ہی کی حسن تدبیر سے طے ہوا۔
روایتوںمیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدہ عائشہ کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ قریش کی دل جوئی مطلوب نہ ہوتی تو اِس کا جو حصہ عمارت سے باہر رہ گیا ہے، جسے حطیم کہا جاتا ہے، آپ اُسے عمارت میں شامل کر کے خانہ کعبہ کو اُس کی اصل ابراہیمی بنیادوں پر قائم کردیتے۔حضرت عبداللہ بن زبیر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِسی خواہش کے پیش نظر قریش کی بنائی ہوئی عمارت کو گرا کر اپنے زمانۂ خلافت میں اِسے نئے سرے سے تعمیر کیا تھا ، لیکن حجاج بن یوسف نے جب اُن کے خلاف جنگ میں پتھراؤ کیا تو یہ عمارت بھی ٹوٹ گئی۔ اُن کی شہادت کے بعد اُس نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے اِس کو گرا کر ایک مرتبہ پھر قریش کی قائم کی ہوئی بنیادوں پرتعمیر کردیا۔ اِس کے بعد سے یہ اِسی طرح قائم ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
|
|
خانہ کعبہ وہی عبادت گاہ ہے جسے قرآن میں ’ البیت‘ ، ’البیت العتیق‘اور ’المسجد الحرام‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ اِس کی عمارت چونکہ مکعب (چوکور)بنائی گئی ہے، اِس لیے اِسے خانہ کعبہ بھی کہتے ہیں۔ یہ سرزمین عرب کے شہر مکہ میں واقع ہے۔ قرآن میں اِس شہر کا نام ’بکة‘بھی آیا ہے۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ ہے ۔ تمام مسلمان اس کی طرف رخ کرکے عبادت کرتے ہیں۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے |
|
|
|
|
|
|
|
|
روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ روزے کے لیے عربی زبان میں”صوم“ کا لفظ آتا ہے۔ اس کے لفظی معنی کسی شے سے رک جانے اور اس کو ترک کرنے کے ہیں۔ روزے کی حالت میں مسلمان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے کے علاوہ جنسی معلامات سے بھی رک جاتے ہیں۔ روزے کی یہ عبادت مسلمانوں پر رمضان کے مہینے میں لازم کی گئی ہے۔
روزے ہر امت پر فرض تھے۔ مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے دو ہجری میں فرض کیے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں 9 برس رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔ |
|
|
|
|