رویت ِ ہلال ا ور بصیرت کی آنکھ
جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو اس چیز کا تو خیال رکھتے ہیں کہ ہمارے سر پر ٹوپی ہے یا نہیں، ٹخنے ننگے ہیں یا نہیں،لیکن ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ نماز پڑھتے ہوئے ہمارے اندر اللہ کی محبت کا جذبہ بھی بیدار ہوا ہے یانہیں، رکوع میں کمر جھکاتے ہوئے دل بھی جھکا ہے یانہیں۔
اسی طرح ہمارے ہاں رمضان کے آغاز اور اختتام کے لیے چاند دیکھنامحض رویت ِ ہلال کمیٹی کا کام بن کر رہ گیا ہے۔ بلاشبہ نظمِ اجتماعی کے پہلو سے اس کمیٹی کے اعلان کی بے پناہ اہمیت ہے۔ لیکن ہمیں چاہیے کہ اس موقع پر ہم بھی آسمان کی طرف نگاہ اٹھائیں اور خود چاند کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور یوں رمضان کا اعلان ،رمضان کے چاند کی زبانی سنیں۔
دور حاضر کی مشینی زندگی نے ہمیں فطرت سے دور کر دیا ہے۔چاند کی تلاش کے بہانے ہی صحیح ہم آسمان کی طرف تو دیکھیں گے۔ ہمارے سر پر تنی ہوئی یہ بے ستون چھت صرف ہماری حسِ جمال ہی کی تسکین نہیں کرتی، بلکہ اعلیٰ حقائق کی یاددہانی کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔
ایک صاحب بصیرت انسان جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ آسمان کی وسعت میںاللہ کی بے پناہ قدرت کا نظارہ کرے گا، وہ آسمان کی فیض رسانی میں اللہ کی بے حد وحساب ربوبیت کو محسوس کرے گا اور وہ آسمان کو ایک طویل عرصے سے اسی انداز میں پا کر اس میں اللہ کی واحدانیت دیکھے گا۔
یہ رویہ انسان کی سوچ میں بلندی پیدا کرتا ہے۔ وہ اوپر کی طرف دیکھنے والا بنتاہے۔ وہ سطحی امور سے اٹھ کر گہرے افکار میں جینا سیکھتا ہے۔
رمضان کا مقصد ہے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں۔ ایک زاویے سے سوچیں تو تقویٰ کے حصول کا سلسلہ پہلے روزے کی سحری سے شروع ہو کرآخری روزے کے افطار تک ہی جاری نہیں رہتا بلکہ رمضان کا چاند تلاش کرنے سے شروع ہو کر،عید کا چاند دیکھنے تک جاری رہتا ہے۔ بشرطیکہ دینی معاملات میں ہمارا سوچنے کا انداز سطحی، قانونی اور مادی نہ ہو، بلکہ گہرا، حکیمانہ اور روحانی ہو۔ اور ہم صرف بصارت ہی سے نہیں بلکہ بصیرت سے بھی کام لیں۔
(محمد بلال)
ہمارارمضان اور ہمارے رسول
ہمارے معاشرے میں رمضان المبارک کا ایک خاص کلچر پیدا ہوچکاہے۔ مگر جب ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارا مذہبی کلچر اِ س سے بہت مختلف ہے۔
نبوت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں غارِ حرا میں خلوت میں عبادت اور غوروفکر میں وقت گزارتے تھے۔ نبوت کے بعد آپ رمضان کی آمد سے قبل یعنی شعبان ہی میں لوگوں کو رمضان کے حوالے سے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے مگر رمضان میں دنیا سے ذرا کٹ جاتے اور اللہ کی یاد میں گوشہ گیر ہو جاتے تھے۔ آخری عشرے میں تو اعتکاف میں بیٹھ کر آپ خلوت کی کیفیت کو عروج تک پہنچا دیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں خصوصی خطبات کا کوئی سلسلہ شروع نہیں کیا کرتے تھے۔ ان دنوں آپ کی بیرونی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی تھیں۔ اسی طرح آپ قسم قسم کے کھانوں سے سجے دستر خوانوں کے گرد کسی افطار کا انتظام نہیں کیا کرتے تھے۔
ماہِ صیام دراصل خاموشی کا مہینا ہے۔اعلیٰ حقائق کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا مہینا ہے۔ خدائی سے کٹ کر خدا کے ساتھ معمول سے کچھ بڑھ کرمتعلق ہونے کا مہینا ہے۔ تنہائی میں بیٹھ کر حیات وکائنات اور قرآن مجید پر عام دنوں سے کچھ زیادہ غور و فکر کرنے کا مہینا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں ماہِ صیام جلوت کی سرگرمیوں اور سپیکروں پر گونجتی ہوئی طویل تقریروں کا مہینا ہے۔ روشنیوں سے جگ مگ کرتی ہوئی مساجد میں بڑی عجلت میں قرآن ”سننے“ اور ”سنانے“ کی رسم ادا کرنے کا مہینا ہے۔ رنگا رنگ کھانوں، پھلوں اور مشروبات سے بھرے ہوئے دستر خوانوں کے گرد افطار پارٹیوں کا مہینا ہے۔
ہم خوش نصیب ہیں کہ رحمت، مغفرت اور ایک انتہائی بابرکت رات اپنے دامن میں لیے ہوئے ایک اور مہینا ہماری زندگی میں آیا ہے۔ خدا نے ہمیں تہذیب نفس کرنے کا ایک اور موقع عنایت فرمایا ہے۔ ہمارے سامنے ایک مرتبہ پھر جنت کی راہ شاہراہ بن کرکھلی ہے۔ اگر رمضان سے بھرپور فیض حاصل کرنا ہے تو آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی اختیار کرلیں۔
(محمد بلال)
سیلف کنٹرول
ہمارے ہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار ،جھگڑا، لڑائی ، حتیٰ کہ قتل و غارت گری ایک معمول کی بات ہے۔ ایسے رویوں پر مبنی کئی واقعات ہیں جو روزانہ اخبارات کے صفحات سیاہ کرتے ہیں۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے اندر خود انضباطی یعنیSelf control کا فقدان ہے۔ ہم اپنے اندر اٹھنے والے شدید جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی زبان اور اعضا کو حدود کے اندر نہیں رکھ پاتے۔
رمضان میں ہمیںایک سخت قسم کے ڈسپلن کی تربیت دی جاتی ہے۔ ہم بھوک ،پیاس اور جنس کے معاملات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں۔اسی طرح ہم سحری کے وقت پرسکون بستر پر گہری اور میٹھی نیند توڑتے ہیں اور بھوک اور معمول کا وقت نہ ہونے کے باوجود کھانا کھا تے ہیں۔ یعنی ایک کام کرنے کے لیے دل میں شدید خواہش پیدا ہوتی ہے، مگر ہم وہ کام نہیں کرتے۔ اس طرح دل میں کسی کام کی خواہش نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود ہم وہ کام کرتے ہیں۔
روزے کا مقصد ہے کہ ہم تقویٰ حاصل کریں۔ تقویٰ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے جذبات کے اظہار پر قابو پائیں تاکہ زندگی کے مختلف معاملات میں خود کو اللہ کے قائم کیے گئے حدود کے اندر رکھ سکیں۔ا گر ہم رمضان میں صحیح شعور کے ساتھ روزے رکھیں تو اس کا یہ لازمی نتیجہ نکلے گا کہ رمضان کے بعد بھی ہم زندگی کے مختلف معاملات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں گے۔
آئیے اس رمضان میں ہم خدا سے اور اپنے آپ سے یہ عہد کریں کہ اس مہینے میں ہم خود کو حدود الٰہی کا پابند رکھنے اور جذبات پر قابو پانے کی جو تربیت حاصل کریں گے اس پر آئندہ زندگی کے مختلف مراحل میں بھی پوری طرح عمل کریں گے۔
(محمد بلال)
ماہِ رحمت اور امید
انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات میں سے ایک ہے۔ خطہ زمین پر پائی جانے والی یہ واحد مادی مخلوق ہے جس کوسب سے زیادہ اختیارات دیے گئے۔ حتیٰ کہ اللہ سے محبت اور اس کی اطاعت کرنے کا اختیار بھی انسان پر چھوڑ دیا گیا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان بہت سے اختیارات رکھنے کے باوجود بڑا بے اختیاراور کمزور ہے۔
اللہ اورانسان کے رشتے کے علاوہ اور بھی رشتے تخلیق کر دیے گئے جیسا کہ ماںباپ کااولادسے رشتہ، بہن کا بھائی سے رشتہ۔ اور پھر دنیا میں رشتے بڑھتے چلے گئے اور رشتوں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ امیدیں بھی بڑھتی گئیں۔مگر جب امیدیں دم توڑنے لگیں تو اس کے ساتھ ہی رشتے بھی دم توڑنے لگے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر رشتوں کے ساتھ امیدیں لگانا چھوڑ دیں تو رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں، لیکن انسان امیدیں لگانا کیسے چھوڑے؟
اللہ چاہتا ہے کہ صرف اسی سے امید لگائی جائے ۔کیونکہ انسان اتنا مکمل اور طاقت ور نہیں کہ اپنے ساتھ وابستہ تمام امیدوں کو پورا کر سکے۔ دنیوی رشتے بنتے ٹوٹنے رہتے ہیں لیکن ایک رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا اور وہ اللہ اور انسان کا رشتہ ہے ۔کتنی ہی نافرمانی کے بعد جب انسان اللہ کی طرف ایک قدم بھی آگے بڑھاتا ہے تو اللہ اس کی طرف دو قدم آگے بڑھاتا ہے۔ دنیوی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔انسان کا اللہ سے رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کی وجہ وہ یقین ہے جو انسان اللہ پر کرتا ہے۔ انسان جانتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو میری ہر امید اور دعا پوری کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی نے فرمایا کہ ” اللہ سے جو چاہو مانگو کیونکہ ممکن یا نا ممکن تو ہمارے نزدیک ہے اللہ کے نزدیک تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ “
اس لئے اگر اس دنیا میں سچی خوشی چاہیے تو اللہ سے امیدیںلگانی چاہئیں اور انسانوں سے امیدیں کم کر دینی چاہئیںاور جوامیدیں انسانوں سے وابستہ کریں،وہ بھی اللہ سے دعا کی صورت میں مانگنی چاہئیں اور اگر ہمارے جیسے نامکمل انسان ہماری امیدوں کو پورا نہ کر پائیں تو اسے قدرت کی حکمت سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے اور دوسروں سے کیے گئے اچھے سلوک کا ریوارڈاللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے کیونکہ ایک نا مکمل ، کمزور اور محدود اختیارات کا حامل انسان دوسرے انسان کی ساری امیدوں کو پورا نہیں کر سکتا ۔اس لیے آس اسی سے لگانی چاہیے جس کے پاس دینے کا پوراپورا اختیار ہے۔
رمضان المبارک کا رحمتوں بھرا مہینا جلوہ افروزہوچکاہے۔قرآن مجید کے نزدیک اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے ۔ آئیے اس مہینے کی رحمتوں کو صحیح معنوں میں اپنے دامن میں مستقل طو رپر سمیٹ لیں اور اس بات کا پختہ عہد کریں او راپنی عادت ہی بنا لیں کہ آئندہ اصل امید اللہ ہی سے لگائیںگے۔
(نوشین طاہر)
رمضان المبارک اور ہماری محرومیاں
یہ عام مشاہدہ ہے کہ رمضان المبارک میں مساجد نمازیوں سے بھر جاتی ہیں۔جمعہ کے اجتماعات میں ہر بستی کی مسجد زبانِ حال سے یہ دہائی دے رہی ہوتی ہے کہ اہل ایمان بہت زیادہ ہیں اور ان کے مقابلے میں اس کا دامن بہت تنگ ۔غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے ٹریفک کے بے پناہ رش،کھانے پینے کی دکانوں میں گاہکوں کا ہجوم اور عین افطارکے وقت کاروبارِزندگی کا کم وبیش رک جانا بظاہراس با ت کی علامت ہے کہ روزہ داروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس سے محروم رہنے والے بد نصیب بہت کم۔ بیسویںرمضان کے بعد ہر مسجد میں نوجوان،بوڑھے اور ادھیڑ عمر، غرض ہرعمر کے لوگوں کی خاصی تعداد معتکف نظر آئے گی ۔رمضان المبارک میں عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں کی تعداد بھی چونکا دینے والی ہے ۔یہ حقائق ایک طرف تو اطمینان کا باعث ہیں لیکن دوسری طرف یہ بہت ہی خوف ناک سوالات اور انتہائی تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب معاشرے کے ہرطبقے میں نمازیوں ،روزہ داروں ،معتکفین ،سخاوت اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے تو اس کا اثر اجتماعی رویوں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ اگر نمازبے حیائی اور برے کاموںسے روکتی ،روزہ خدا خوفی پیدا کرتا، محروموں اور غریبوںکے لئے دل میں جگہ بناتا، اعتکاف وعمرہ اللہ سے محبت ،دین سے لگاﺅ اور مذہب سے متعلق حمیت و حمایت پیدا کرتے ہیں تو ،کم از کم رمضان المبارک ہی میں سہی، جرائم میں کمی کیوں نہیں ہوتی؟ حکمرانوں میں عوام کےلئے حقیقی دوستی اور معاشرے میں استحکام کے جذبات کو مہمیز کیوں نہیں ملتی؟ نا جائز منافع خوری کے نتیجے میں مہنگائی کا عفریت جگہ جگہ ڈیرے ڈالے کیوں نظر آتاہے ؟سرکاری دفاتر میں احساس ذمہ داری ،ایمان داری اور تن دہی کے بجائے وہی روایتی انداز کی غیر ذمہ داری،رشوت ستانی ،کاہلی اور غفلت کی بیماریوںمیں کوئی افاقہ کیوں نظرنہیں آتا؟
کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ وہ مہینہ جس میں انسان اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگتا ،اپنا محاسبہ کرتا ، خدا خوفی کا مزاج پیدا کرتا ہے ، اس میں ہمارا رویہ ، عوام ہوں یا خواص ، مجموعی لحاظ سے بالکل الٹ ہوجاتا ہے۔ حکمرانوں ہی کو لے لیجئے ۔ وہ عوام کے ساتھ کی گئی زیادتیوں اور اپنے حلف سے کی گئی غداریوں پر نادم ہونے کے بجائے اس پر پوری منافقت اور ڈھٹائی سے پردے ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ بڑی بڑی اشتہاری مہموں کے زریعے سے عوام کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ہم تمھاری خو ش حالی کی خاطر اپنا دن رات ایک کےے ہوئے ،ہر وقت ایسی سکیموں اور منصوبوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے غریب عوام کے مسائل میں کمی اور اس کے وسائل میں اضافہ ہو۔
اب ذرا تصور کیجئے کہ ہمارے حکمران جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوں گے تو کیا کہتے ہوں گے ؟اگر تواشتہاری مہموں، اخباری بیانات ،ٹی وی مذاکرے سب اچھا ہے کی رپورٹ کر رہے ہیں تو وہ پروردگار کائنات کو یہ کہہ رہے ہوں گے کہ جس طرح عوام ہمارے دعووں پرایمان لے آتے ہیں اسی طرح اے اللہ تو بھی مان لے کہ ہم نے مہنگائی کم کر دی ہے، اپنی جیب سے روپیہ ڈال کر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اعتدال پیدا کر دیا ہے،اپنے آرام و سکون کوتج کر کے امن و امان کو برقرار رکھا ہواہے، ناجائز منافع خوروں کو لگام دے کر اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ احساس کیا ہے، جن سیاستدانوں کے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر ان کو اپنے ساتھ ملایا تھا ، انھیں ان کے کئے کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ہم نے ذاتی دشمنی اور مخالفت سے بالاتر ہو کر سیاست میں غیر جانب داری اور اصول پسندی کو بنیاد بنا کر جمہوریت کی گاڑی کو دوبارہ سے پٹری پر لانے کا اہم ترین فیصلہ کر لیا ہے۔اس لئے اے اللہ! ہماری حکومت کو استحکام بخش ! ہم تیری خلقت کے لئے رحمت کا سایہ ہیں، اس لئے اس سایہ عاطفت کو قائم رکھ! ہم امت مسلمہ کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عزم اور جذبہ رکھتے ہیں اس لئے زمانے میں ہماری ساکھ قائم رکھ ! وطن عزیز جس کڑے امتحان سے گزررہا ہے ،اس میں ہمیں سرخرو کر!
ذرا انصاف سے بتائےے کہ اگر پروردگار ِ کائنات غافل نہیں ،حی وقیوم ہے ،بے خبر نہیں علیم وخبیر ہے ،ظالم و سفاک نہیں عادلِ مطلق اور رحیم و رحمان ہے تو وہ یہ دعائیں کیسے قبول کرے گا ؟ حکمرانوں کو ان کی نمازوں، روزوں، افطار یوں، سخاوتوں، عمروں، اعتکافوں کے باوجود کیا ملے گا؟ ان کے لئے اس رمضان کی برکت کیا ہوئی؟
یہ تو حکمرانوں کا حال ہے ،اب ذرا عوام الناس کی عبادتوں اورریا ضتوں کا جائزہ لیجئے ۔ زیادہ تفصیل میںجائے بغیر ایک اہم پہلو ہی پر غور کر لیتے ہیں ۔ا س مہینے کروڑوںمسلمان نمازِتراویح میں اور انفرادی طور پر قرآن مجید کی تلاوت کا شرف حاصل کرتے ہیں ۔اگر قرآن کا طوطے کی طرح بغیر سوچے سمجھے پڑھنا اور سنناباعث ثواب بھی مان لیں توکتنے فیصد لوگوں کو قرآن کی حکمت، ہدایت اور تذکیر حاصل ہوتی ہے یعنی وہ نعمت جو اس کے نزول کا اصل باعث ہے ۔ایسے سلیم الفطرت اور کامن سنس رکھنے والے افراد کیا آٹے میں نمک کے برابر نہیں ہیں جنھوں نے قرآن کی چاہے ایک سورۃ ہی پڑھی، لیکن اس کا مطلب جانا ،اس سے نصیحت حاصل کی، قرآن کی حکمت و دانش کو اپنے قلب و روح کا حصہ بنایا ! اس پہلو سے اگر مساجد میں تلاوت کرنے والوں، تراویح سننے والے نمازیوں ،حسن قرات کے مقابلوں کی وجد آفرین محفلوں اور شبینوں کی پر شکوہ تقاریب کا جائزہ لیں تو قرآن زبانِ حال سے یہ دہائی دیتا نظر آتاہے۔
کس بزم میںمجھ کو بار نہیں ،کس عرس میں میری دھوم نہیں میں پھر بھی اکیلا رہتا ہوں ،مجھ سا کوئی مظلوم نہیں!! رمضان قرآن کے نزول کا مہینہ ہے اور اس مہینے مسلمانوں کی نظر کرم قرآن ہی پر رہتی ہے لیکن اس نظر کرم کی حقیقت کیا اس سے مختلف ہے جس کی ایک ادنیٰٰ سی جھلک ہم نے پیش کی ہے؟ سوال یہ ہے، کیا پھر بھی یہ توقع مبنی بر حقیقت ہے کہ قرآن ہماری زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی لانے کا باعث ہو گا؟
رمضان احتساب نفس کا مہینہ ہے۔ اللہ کے حضور میں اپنے گناہوںکا اعترف کر کے سچے دل سے معافی مانگنے کا مہینہ ہے اور سچے دل سے کیا مرادہے؟یہ کہ جس گناہ کی معافی مانگی جارہی ہو اس کو نہ کرنے کا ذہن میں پختہ عہد ہو۔اب اگرکوئی زبان سے تو یہ کہہ رہا ہو کہ اے اللہ معاف کر دے اور ہاتھ کم تول رہا ہو، دل کسی کے کینے سے بھرا ہو، ذاتی کام پر سرکاری وسائل خرچ ہو رہے ہوں،حق دار کا حق مارا جا رہا ہو، ناجائز منافع خوری ہو رہی ہو تو ایسی تو بہ بھلا وہ پروردگار کیسے قبول کرے گا جو صرف زبانوں کے الفاظ ہی نہیں دلوں کے حال اور دماغوں کے فتور بھی جانتا ہے؟ معافی مانگنے والے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے انتہائی سچائی سے ان لوگو ں کی فہرست بنائی، جن کا حق مارا گیا ،جن کو نقصان پہنچایا گیااور پھر یہ ارادہ اورعزم کیا کہ اس کا جہاں تک ممکن ہو ازالہ کیا جائے گا ۔ کتنے ایسے ہیں جنھوں نے اپنی شخصیت کا بے لاگ جائزہ لیتے ہوئے اپنی اخلاقی اور وصفی کمزوریوں کی فہرست بنائی اور پھر اپنے آپ سے عہد کیا کہ آج کے بعد وعدہ خلافی نہیں کریں گے، جھوٹ نہیںبولیں گے ،غیبت سے باز رہیں گے،بے ہودگی اورفحش کاموں سے اجتناب کریں گے ۔بد تمیزی، دل دکھانے، اشتعال میں آکر حد سے تجاوز کرنے کی عادت کو سچے دل اور مضبوط ارادے سے ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیا ہم نے ایسی کسی فہرست میں درج کسی خامی اور کسی کوتاہی کو نشان زدہ کر کے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس خرابی سے تو نجات حاصل ہوئی؟اور اگر ایسا نہیں تو بتائےے دلوں کے راز جاننے والا، ارادوں کو بھانپ لینے والا علیم الصدورخدا ،رحمان و رحیم ہوتے ہوئے بھی ہمارا یہ کہنا کیسے مان لے گا کہ اے اللہ مجھے معاف کر دے ،میں توبہ کرتا ہوں !واضح رہے کہ کسی کا حق اگرمارا گیا، کسی کا دل اگر دکھایا گیا تو یہ گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہو گیا جب تک مظلو م کی داد رسی نہ ہو گئی ہو۔ ا س ضمن میں بہائے گئے ہزاروں آنسو، پڑھے گئے لا کھوں نفل، رکھے گئے تمام روزے بے کار ہیں !
ہر رمضان میں اللہ کے وعدے کے مطابق شب قدر بھی آتی ہے۔ شب قدر کی فضیلت کا ذہن میں تصور کیجئے اور پھر ہمارے ہاں کی مسجدوں میں لاوڈ سپیکرکلچر کو بھی سامنے رکھئے۔ہزار مہینے کی عبادت سے بھی افضل اس رات کو جب قدسیوں کے سردار حضرت جبرائل رحمت بن کر ہمارے شہروں میں نزول فرماتے ہوں گے تو مولوی صاحبان جس انداز سے لاﺅڈ سپیکروں پر شوروغوغا مچا رہے ہوتے ہیں، کم از کم اس صورت حال میںیہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ واقعی ہماری دعاﺅں پرآمین کہتے ہوں گے۔ بلکہ خدشہ ہے کہ وہ ہماری بد نصیبی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوں گے کہ عبادت تو اپنے پروردگار کو چپکے چپکے یاد کرنے کا نام ہے۔ اس رات کے شایانِ شان تویہ ہے کہ تنہائی میں اللہ کے حضور میں آنسو بہائے جائیں ،معافی مانگی جائے، گڑ گڑا کر اپنی کوتاہیوں سے پیچھا چھڑانے کی درخواست کی جائے لیکن یہ فرشتے ایک بہت بڑی اکثریت کو تقریبات کی نوعیت کے جلسے جلوسوں میںمست پاتے ہوں گے ۔ یقیناً ایسے خوش نصیب بھی ہوں گے جو اس رات کی برکتوں سے حصہ پاتی ہوں گے لیکن ذرا انصاف سے کا م لے کر بتائیے کہ یہ خوش بخت کتنے ہوں گے؟
ہمارے ملک میں اس وقت لاﺅڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی ہے۔ قانون کے مطابق سوائے اذان اور ناگزیر ضرورت کے سپیکر استعمال نہیں کیاجا سکتا، لیکن اس پر کتنا ایک عمل ہو تا ہے، یہ ہم سب پر واضح ہے۔ یوں قانون شکنی کے گناہ میں ملوث ہونے والے، گھر بیٹھے ہزاروں، لاکھوں افراد کی انفرادی عبادات میں مخل ہو کر، لاتعداد مریضوں، طالب علموں، بچوں کے آرام و سکون اور ذاتی کاموں میں مصروف لوگوں کی مصروفیت میں خلل اندازی کرنے والے کیا فرشتوں کی دعاﺅں کے حق دار بنتے ہوں گے یا ان کی بے زاری کا باعث؟
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے روزہ داروں کی عظیم اکثریت عملی طور محض بھوکا پیاسا رہنے کو روزہ جانتی ہے۔ روزہ رکھ کر عملِ صالح کرنا ،اور گناہوں سے بھی محفوظ رہنا ضروری خیال نہیں کرتے ۔ان کے فہم ِدین کا کمال یہ ہے کہ نہیں جانتے تلاوت قرآن سے ثواب محض ایک اضافی نعمت ہے ۔یعنی اسے سمجھ کر اس پر عمل کرنے کے بعد مزید ایک عنایت ہے جو ہمیں ملتی ہے۔ لیکن اگر قرآن کو سمجھا جائے نہ عمل کیا جائے بلکہ اس کی تعلیم سے برعکس کام کیے جائیں توکیا پھر بھی ہم ثواب کے حق دار ہوں گے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ رمضان آتا ہے ،روزے رکھے جاتے ہیں ،عبادات کی جاتی ہیں لیکن وہ ہمارے معاشرے کے اجتماعی وجود کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ خدشہ ہے کہ یہ ریاضتیں ،یہ عبادتیں ،یہ اعتکاف ،یہ عمرے اور یہ خیراتیں ہمیں اس احساس تفاخر میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ ہم نے بہت اعمالِ صالح کئے اور یوں یہ احساس ہمارے نفس میں موجودانا کی چربی کو اور بڑھا دیتا ہے، نیکیاں کردار کی طاقت اور شخصیت کی حرارت بننے کے بجائے ہمارے احساس تفاخر کے موٹاپے کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس سے ہم مزیدسست ہو جاتے ہیں ۔مزید اخلاقی بیمارےوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنی پستی اور زوال کو اور گہراکر دےتے ہیں !
(نعیم احمد بلوچ)
سخت سفر اور روزہ
”حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں کا ہجوم ہو گیا ہے اور ایک آدمی پر سایہ کیا گیا ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا : ایک روزہ دار ہے جس کی حالت روزے کی وجہ سے غیر ہو رہی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا : سفر میں ایسا روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ (مشکوٰة، کتاب الصوم)
اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص سفر میں روزہ رکھے تو اسے اپنی صحت، قوت برداشت اور سفر اور موسم کے معاملات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔اسے اس بات کا حقیقت پسندانہ طریقے سے جائزہ لینا چاہیے کہ اس کے اندر اتنی طاقت ہے کہ وہ سفر کی تکلیف برداشت کر سکے گا یا سفر میں ایسی سختی کے پیش آنے کا خدشہ تو نہیں جو برداشت سے باہر ہو جائے گی ۔
چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا ہو اور سفر بھی زیادہ سخت نظر آ رہا ہو، پھر بھی وہ روزہ رکھ لے اور تکلیف اٹھائے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے ۔ یہی بات ایک اور حدیث سے واضح ہوتی ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم میں سے کوئی روزے سے تھا اور کوئی روزے سے نہیں تھا۔ سخت گرمی کے ایک دن ہم نے ایک مقام پر پڑائو ڈالا تو روزہ دار تو وہاں جا کر لیٹ گئے او رجن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا، وہ کھڑے ہوئے ، انھوں نے خیمے سیدھے کیے اور سواری کے اونٹوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لوٹ لے گئے۔
اسی طرح اس ضمن میں یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر سفر میں روزہ نہ رکھا تو خدا کے ہاں درجات میں کمی ہو جائے گی اور قضا کرنے کی صورت میں ثواب کم ملے گا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سفر کی حالت میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دین ہی نے دیا ہے، اس لیے ایسے کسی شک میں مبتلا ہونے کا کوئی جواز نہیںہے۔
(محمد بلال)
روزے کا ناقابل برداشت ہونا
”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے گئے۔ جب آپ عسفان (مدینہ اور مکہ کے درمیان ایک ساحلی مقام پر) پہنچے تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے ہاتھ میں لے کر اوپر اٹھایا تاکہ لوگ بھی دیکھ لیں، اس کے بعد آپ نے روزہ افطار کیا۔ پھر مکہ پہنچنے تک آپ نے روزے نہیں رکھے۔ اور یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے۔ امام مسلم کی روایت میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عسفان پر پانی عصر کے بعد پیا تھا۔“ (مشکوٰة،کتاب الصوم)
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر روزے کی حالت میں کوئی ایسی سختی آ جائے جسے وہ برداشت نہ کر سکتا ہو تو وہ وقت سے پہلے روزہ کھول سکتا ہے۔ ذہن میں رہے کہ یہ روزہ توڑنا نہیں ہوتا، اس لیے اس کا کفارہ نہیں ہو گا۔ البتہ اس کی قضا لازم ہے۔
(محمد بلال)
آسان سفر اور روزہ
”حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس سواری ہو جو اسے رات تک کسی ایسی جگہ پہنچا سکتی ہو جہاں وہ اطمینان سے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ جہاں بھی اس پر رمضان آ جائے، وہ روزہ رکھے۔“ (مشکوٰة، کتاب الصوم)
یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ مذکورہ صورت حال میں روزہ رکھنا لازم نہیں ہو جاتا۔ اس ضمن میں ایک اور حدیث ہے ۔ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں اپنے اندر اتنی قوت پاتا ہوں کہ سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھوں۔ اگر میں ایسا کروں تو کیا میں گناہ گار ہوں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کی طرف سے ایک رعایت ہے،اگر کوئی شخص اس رعایت سے فائدہ اٹھائے تو اچھی بات ہے، لیکن اگر کوئی شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں۔
یعنی اگر ایک آدمی سفر کی مشکلات سے اچھی طرح آگاہ ہو، اس کے باوجود اپنے اندر ان مشکلات کو برداشت کرنے کی قوت پاتا ہو، اس کے سفر کے اسباب اچھے اور حالات بھی سازگار ہوں تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، لیکن اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس کے اندر سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں ہے یا اس کو غیر معمولی سختی پیش آنے کا خدشہ ہے تو اس حالت میں وہ روزہ چھوڑ کر اللہ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی معاملے میں رعایت دیں تو آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ خود کو خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا نہ کرے اور اس رعایت سے پورا فائدہ اٹھائے۔
(محمد بلال)
رمضان او رخواتین
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ “
یعنی روزہ رکھنا ایک خاص عمل ہے جو ہم اللہ تعالیٰ کے لیے کرتے ہیں، اس لیے اس کا اہتمام بھی خصوصی ہونا چاہیے۔ مگر افسو س ہے کہ اس معاملے میں ہماری توجہ خصوصی عبادات کے بجائے خصوصی کھانوں پر ہوتی ہے اور خواتین اس میں پیش پیش ہوتی ہیں۔ اگرچہ خواتین یہ کام نیک جذبے سے کرتی ہیں، مگر انھیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ رمضان درحقیقت نفس کشی کا مہینہ ہے۔وہ ایسے کھانے بنانے کے لیے بھی بہت محنت کرتی ہیں جنھیں بعض اوقات پورے سال میں ایک دفعہ بھی نہیں کھایا جاتا۔ اس کے لیے ان کے دن کا بہت سا وقت مختلف ٹی وی چینلز سے نت نئے کھانوں کی تراکیب اکھٹا کرنے میں گزرتاہے ، وہ روزرنگ برنگے پکوان بنانے کی کوشش کرتی ہیں او ر یوں نہ صرف یہ کہ روزے کے اصل مقصد کو پانے سے محروم ہوتی ہیں بلکہ مال کو مالی عبادت بنانے کے بجائے فضو ل خرچی کاذریعہ بنا ڈالتی ہیں۔ رحمتوںکے اس مہینے میں وہ اللہ کے بجائے روزے داروں کی خوشنودی حاصل کرتی نظر آتی ہیں۔ سادہ سحر اور افطار کو تووہ اپنی عزت اور وقار کے منافی خیال کرتی ہیں۔ اسی طرح آخری عشرے میں رشتے داروں اور دوستوں کی افطار کا معاملہ آتا ہے تو صرف ناک اونچی رکھنے کے لیے بے حد اسراف سے کام لیتی ہیں اور بچا کچھا کھانا غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ان کے ہاں غریبوں کے لیے خصوصی افطار کا اہتمام دکھائی نہیں دیتا۔
ایساکیوںہوتا ہے ، ایسا اس لیے ہے کہ وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ” روزہ اللہ کے لیے ہے اور وہ ہی اس کی جزا دے گا۔“ لیکن وہ اصل میں اس کی جزا اپنے دوستوںاو ررشتے داروں سے لینا چاہتی ہیں۔
(نوشین طاہر)
دعا اور رمضان
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ” کسی دوسرے کو دعا مانگنے کا کہنے سے بہتر ہے کہ ایسے کام کرو کہ دوسرے کے دل سے خود تمھارے لیے دعا نکلے۔“
بلاشبہ انسان فطری طورپر خود غرض واقع ہوا ہے، اس لیے وہ خوامخواہ کسی دوسرے انسان کے لیے دعا نہیں کرتا ۔ہاں ایک راستہ ہے جسے اختیار کر کے ہم دوسرے کے دل کی گہرائیوں سے اور بے اختیار نکلی ہوئی دعاکے حق دار بن سکتے ہیں اوروہ ہے حسن اخلاق ۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں۔ دوسروں کے کام آئیں ۔ دوسروں کے لیے ہر ممکن مدد کریں۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹیں۔دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔ اگر لوگوں کی پریشانی ختم نہیں کر سکتے تو کم کرنے کی کوشش کریں۔ کسی غریب کے بچے کی فیس ادا کر دیں۔ کسی بیمار کا علاج کرا دیں۔ اگر کوئی ہم سے ناراض ہے تو چاہے ہم حق ہی پر کیوں نہ ہوں، اس سے معافی مانگ لیں، اسے منا لیں۔ اپنی انا کو ختم کر کے صلح میں پہل کریں ۔ دوسروں کی زندگی اگر اپنی وجہ سے اچھی نہیں بنا سکتے تو مشکل بھی نہ بنائیں۔ سڑک پر دوسروں کو راستہ دے دیں۔ کسی کے راستے کا پتھر ہٹا دیں۔ اپنے ملازمین پر کام کا بوجھ کم کر دیں۔ جب رمضان میں افطار کریں تو کسی غریب کو بھی افطار میں شامل کریں۔ عید کی خریداری کرتے وقت کچھ نئے کپڑے کسی غریب کو بھی لے دیں۔ ایسے بہت سے رویے ہیں جنھیں اپنا کر ہم دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں او ر اسے بغیر کہے اپنے لئے دعا گو ہونے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔
آئیے اس رویے کو رمضان کے بابرکت مہینے ہی میں اختیار کر لیںکیونکہ ان دنوں دعاکی تاثیر زیادہ ہوتی ہے۔
(نوشین طاہر)
© 2012 Dunya Network. All Rights Reserved.